سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب : دعوة السحور
باب: سحری کی دعوت دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2165
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ بَصْرِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي رُهْمٍ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَدْعُو إِلَى السَّحُورِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ , وَقَالَ:" هَلُمُّوا إِلَى الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ".
عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: آپ رمضان کے مہینہ میں سحری کھانے کے لیے بلا رہے تھے، اور فرما رہے تھے: ”آؤ صبح کے مبارک کھانے پر“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2165]
حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان المبارک میں سحری کی دعوت دیتے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: «هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ» ”آؤ اس مبارک کھانے کی طرف۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2165]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصوم16 (2344)، (تحفة الأشراف: 9883)، مسند احمد 4/126، 127 (صحیح) (سند میں یونس بن سیف مقبول راوی ہیں، لیکن حدیث شواہد کی بناپر صحیح لغیرہ ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2128
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ قَبْلَهُ، أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ، ثُمَّ صُومُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ، أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ قَبْلَهُ".
حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم رمضان کے مہینہ پر سبقت نہ کرو ۱؎ یہاں تک کہ (روزہ رکھنے سے) پہلے چاند دیکھ لو، یا (شعبان کی) تیس کی تعداد پوری کر لو، پھر روزہ رکھو، یہاں تک کہ (عید الفطر کا) چاند دیکھ لو، یا اس سے پہلے رمضان کی تیس کی تعداد پوری کر لو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2128]
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ماہ رمضان سے پہلے روزہ نہ رکھو حتیٰ کہ روزہ رکھنے سے پہلے (رمضان المبارک کا) چاند دیکھ لو، ورنہ (شعبان کے) تیس دن پورے کر کے روزہ رکھو، پھر تم روزے رکھتے رہو حتیٰ کہ (شوال کا) چاند دیکھ لو یا چاند دیکھنے سے پہلے تیس دن پورے کر لو۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2128]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصوم 6 (2326)، (تحفة الأشراف: 3316)، مسند احمد 4/314 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے روزہ نہ رکھو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2146
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَسَحَّرُوا، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً" , وَقَفَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے“۔ عبیداللہ بن سعید نے اسے موقوفاً روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2146]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھایا کرو، بلا شبہ سحری کھانے میں برکت ہے۔“ عبیداللہ بن سعید نے اس روایت کو موقوف بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2146]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9218) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2148
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ , عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَسَحَّرُوا، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2148]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھایا کرو، یقیناً اس میں برکت ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2148]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 20 (1923)، صحیح مسلم/الصوم 9 (1095)، سنن الترمذی/الصوم 17 (708)، سنن ابن ماجہ/الصوم 22 (1692)، (تحفة الأشراف: 1068)، مسند احمد 3/229، سنن الدارمی/الصوم 9 (1738) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2149
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَرِيرٍ نَسَائِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَسَحَّرُوا، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2149]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھایا کرو، بلاشبہ سحری کھانے میں برکت ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2149]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14187)، مسند احمد 2/377، 477 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2150
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" تَسَحَّرُوا، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً" , رَفَعَهُ ابْنُ أَبِي لَيْلَى.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے۔ ابن ابی لیلیٰ نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2150]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: ”سحری کھاؤ، بلاشبہ سحری کھانے میں برکت ہے۔“ حضرت ابن ابی لیلیٰ نے اس روایت کو مرفوع بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2150]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ موقوف روایت صحیح ہے، اور مرفوع اس سے زیادہ صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2151
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تَسَحَّرُوا، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً".
ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2151]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھاؤ، بلاشبہ سحری کھانے میں برکت ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2151]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14202)، مسند احمد 2/377، 477 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2152
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2152]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھاؤ، بلاشبہ سحری کھانے میں برکت ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2152]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2153
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: حَدِيثُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ هَذَا إِسْنَادُهُ حَسَنٌ، وَهُوَ مُنْكَرٌ، وَأَخَافُ أَنْ يَكُونَ الْغَلَطُ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے“۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید کی اس حدیث کی سند تو حسن ہے، مگر یہ منکر ہے، اور مجھے محمد بن فضیل کی طرف سے غلطی کا اندیشہ ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2153]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھاؤ، یقیناً سحری کھانے میں برکت ہے۔“ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید کی اس حدیث کی سند حسن ہے لیکن یہ روایت منکر (غلط) ہے۔ مجھے خدشہ ہے کہ یہ غلطی محمد بن فضیل سے ہوئی ہوگی۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2153]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15354) (صحیح) (اصل حدیث صحیح ہے، مؤلف نے سند میں غلطی کا اشارہ دیا ہے)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: «عطاء عن أبي هريرة» کی بجائے «أبو سلمة عن أبي هريرة» محمد بن فضیل کی غلطی معلوم ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2164
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ صَاحِبِ الزِّيَادِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَسَحَّرُ، فَقَالَ:" إِنَّهَا بَرَكَةٌ أَعْطَاكُمُ اللَّهُ إِيَّاهَا فَلَا تَدَعُوهُ".
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ اس وقت سحری کھا رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”یہ برکت ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں دی ہے تو تم اسے مت چھوڑو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2164]
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو آپ سحری تناول فرما رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: ”بلاشبہ سحری برکت ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا فرمائی ہے، لہٰذا تم اسے نہ چھوڑو۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2164]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15605)، مسند احمد 5/367، 370، 371 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2166
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ بَقِيَّةَ بْنِ الْوَلِيدِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يكَرِبَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" عَلَيْكُمْ بِغَدَاءِ السُّحُورِ، فَإِنَّهُ هُوَ الْغَدَاءُ الْمُبَارَكُ".
مقدام بن معد یکرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم صبح کا کھانا (سحری کو) لازم پکڑو، کیونکہ یہ مبارک کھانا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2166]
حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کا کھانا کھایا کرو کیونکہ یہ بابرکت کھانا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2166]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11560)، مسند احمد 4/132 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2167
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ:" هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ، يَعْنِي السَّحُورَ".
(تابعی) خالد بن معدان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”صبح کے مبارک کھانے یعنی سحری کے لیے آؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2167]
حضرت خالد بن معدان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: ”اس بابرکت کھانے، یعنی سحری کے لیے آؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2167]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن