سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب : ذكر اختلاف ألفاظ الناقلين لخبر عائشة فيه
باب: اس سلسلہ میں عائشہ رضی الله عنہا کی روایت کے ناقلین کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2186
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، عَنْ كَهْمَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ" أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى؟ قَالَتْ: لَا، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ، قُلْتُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا كُلَّهُ؟ قَالَتْ: لَا، مَا عَلِمْتُ صَامَ شَهْرًا كُلَّهُ إِلَّا رَمَضَانَ، وَلَا أَفْطَرَ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ".
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی نماز) پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، الا یہ کہ سفر سے (لوٹ کر) آتے، (پھر) میں نے سوال کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی پورے ماہ روزے رکھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، میں نہیں جانتی کہ آپ نے رمضان کے علاوہ کبھی پورے ماہ کے روزے رکھے ہوں، اور اور نہ ایسا ہی ہوتا کہ آپ پورے ماہ بغیر روزے کے رہے ہوں، کچھ نہ کچھ روزے ضرور رکھتے یہاں تک کہ آپ وفات پا گئے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2186]
حضرت عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضحی کی نماز پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، مگر یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس تشریف لائیں۔ میں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینے کے مکمل روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں۔ میرے علم کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کے علاوہ کسی مہینے کے مکمل روزے نہیں رکھے اور نہ ہی کسی مہینے کے تمام دنوں کا ناغہ کیا بلکہ کچھ نہ کچھ ضرور روزے رکھتے تھے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2186]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 13 (717)، والصوم 34 (1156)، (تحفة الأشراف: 16217)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 301 (1292)، سنن الترمذی/الشمائل 42 (4)، مسند احمد 6/171، 218، 204 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1007
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي قَرَأْتُ اللَّيْلَةَ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ، فَقَالَ: هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ" لَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ النَّظَائِرَ عِشْرِينَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ مِنْ آلِ حم".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے آج رات ایک رکعت میں پوری مفصل پڑھ ڈالی، تو انہوں نے کہا: یہ تو شعر کی طرح جلدی جلدی پڑھنا ہوا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «حمٓ» سے اخیر قرآن تک مفصل کی صرف بیس ہم مثل سورتیں ملا کر پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 1007]
حضرت مسروق رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”تحقیق میں نے آج رات تمام مفصل سورتیں ایک رکعت میں پڑھ لیں۔“ انہوں نے فرمایا: ”تو نے اس طرح تیز تیز پڑھا ہوگا جیسے شعر پڑھے جاتے ہیں؟ لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو ملتی جلتی بیس سورتیں (دس رکعتوں میں) پڑھتے تھے جو مفصل سے «حٰمۤ» والی سورتیں تھیں۔ (جن سورتوں کے شروع میں «حٰمۤ» ہے۔)“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 1007]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9586) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: وہ سورتیں یہ ہیں «الرحمن» اور «النجم» کو ایک رکعت میں، «اقتربت» اور «الحاقہ» کو ایک رکعت میں «الذاریات» اور «الطور» کو ایک رکعت میں «الواقعۃ» اور «نون» کو ایک رکعت میں، «سأل» اور «والنازعات» کو ایک رکعت میں «عبس» اور «ویل للمطففین» کو ایک رکعت میں «المدثر» ، اور «المزمل» کو ایک رکعت میں، «ہل أتی» اور «لا أقسم» کو ایک رکعت میں، «عم یتسألون» اور «المرسلات» کو ایک رکعت میں، اور «والشمس کورت» اور «الدخان» کو ایک رکعت میں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2187
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ:" أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى؟ قَالَتْ: لَا، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ، قُلْتُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ صَوْمٌ مَعْلُومٌ سِوَى رَمَضَانَ؟ قَالَتْ: وَاللَّهِ إِنْ صَامَ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ، حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ، وَلَا أَفْطَرَ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ".
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی نماز) پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، الا یہ کہ سفر سے (لوٹ کر) آتے، پھر میں نے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رمضان کے علاوہ کوئی متعین روزہ تھا؟ تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم آپ نے سوائے رمضان کے کسی خاص مہینے کے روزے نہیں رکھے حتیٰ کہ آپ نے وفات پا لی، اور نہ ہی پورے ماہ بغیر روزے کے رہے، کچھ نہ کچھ روزے اس میں ضرور رکھتے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2187]
حضرت عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضحی کی نماز پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، مگر یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر سے واپس تشریف لائیں۔ میں نے عرض کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے علاوہ کسی معین مہینے کے روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کے علاوہ کسی معین مہینے کے روزے نہیں رکھے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مہینے کے مکمل روزے چھوڑے، بلکہ کچھ نہ کچھ روزے رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2187]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 13 (717)، سنن ابی داود/الصلاة 301 (1292)، (تحفة الأشراف: 16211)، مسند احمد 6/218 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم