🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
78. باب : صوم عشرة أيام من الشهر واختلاف ألفاظ الناقلين لخبر عبد الله بن عمرو فيه
باب: مہینے میں دس دن کا روزہ اور اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2403
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: سَمِعْتُ عَطَاءً، يَقُولُ: إِنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَصُومُ أَسْرُدُ الصَّوْمَ، وَأُصَلِّي اللَّيْلَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ وَإِمَّا لَقِيَهُ قَالَ:" أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ وَلَا تُفْطِرُ، وَتُصَلِّي اللَّيْلَ، فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنَّ لِعَيْنِكَ حَظًّا، وَلِنَفْسِكَ حَظًّا، وَلِأَهْلِكَ حَظًّا، وَصُمْ وَأَفْطِرْ، وَصَلِّ وَنَمْ، وَصُمْ مِنْ كُلِّ عَشَرَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ تِسْعَةٍ" , قَالَ: إِنِّي أَقْوَى لِذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ:" صُمْ صِيَامَ دَاوُدَ" , إِذًا قَالَ: وَكَيْفَ كَانَ صِيَامُ دَاوُدَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ:" كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى" , قَالَ: وَمَنْ لِي بِهَذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ میں روزہ رکھتا ہوں اور مسلسل رکھتا ہوں، اور رات میں نماز تہجد پڑھتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا، یا آپ ان سے ملے تو آپ نے فرمایا: کیا مجھے خبر نہیں دی گئی ہے کہ تم (ہمیشہ) روزہ رکھتے ہو، اور کبھی بغیر روزہ کے نہیں رہتے، اور رات میں تہجد کی نماز پڑھتے ہو، تم ایسا نہ کرو کیونکہ تمہاری آنکھ کا بھی ایک حصہ ہے، اور تمہارے نفس کا بھی ایک حصہ ہے، تمہاری بیوی کا بھی ایک حصہ ہے، تم روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو، نماز بھی پڑھو اور سوؤ بھی، ہر دس دن میں ایک دن روزہ رکھو، تمہیں باقی نو دنوں کا بھی ثواب ملے گا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: پھر تو تم روزہ داود رکھا کرو، پوچھا: اللہ کے نبی! داود علیہ السلام کے روزہ کیسے ہوا کرتے تھے؟ آپ نے فرمایا: وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے، اور جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوتی تو بھاگتے نہیں تھے، انہوں نے کہا: کون ایسا کر سکتا ہے؟ اللہ کے نبی!۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2403]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی کہ میں لگاتار روزے رکھتا ہوں اور ساری ساری رات نماز پڑھتا رہتا ہوں۔ آپ نے مجھے بلا بھیجا، یا میں آپ کو ملا (یا آپ مجھے ملے) آپ نے فرمایا: کیا مجھے یہ نہیں بتایا گیا کہ تو مسلسل روزے رکھتا ہے، کبھی ناغہ نہیں کرتا، اور ساری ساری رات نماز پڑھتا رہتا ہے؟ ایسے نہ کر۔ تیری آنکھ کو اس کا حق (نیند) ملنا چاہیے اور تیری بیوی کو بھی اس کا حق (شب بسری) ملنا چاہیے۔ روزے بھی رکھ، ناغے بھی کر، نماز بھی پڑھ اور نیند بھی پوری کر۔ ہر دس دن میں ایک دن روزہ رکھ۔ باقی نو دن (کے روزوں) کا ثواب بھی تجھے مل جائے گا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب حضرت داؤد علیہ السلام کی طرح روزے رکھ۔ میں نے کہا: اے اللہ تعالیٰ کے نبی! حضرت داؤد علیہ السلام کس طرح روزے رکھتے تھے؟ آپ نے فرمایا: وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے اور جب دشمن سے مقابلہ ہوتا تو بھاگتے نہ تھے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! میرے لیے اس (آخری) بات کا کون ضامن ہوگا؟ (یعنی یہ بہت مشکل کام ہے، روزہ بھی اور جہاد بھی)۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2403]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر رقم 2390 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد ق نحوه دون قوله قال ومن لي
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2395
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , قُلْتُ: أَيْ عَمِّ حَدِّثْنِي عَمَّا , قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَجْمَعْتُ عَلَى أَنْ أَجْتَهِدَ اجْتِهَادًا شَدِيدًا، حَتَّى قُلْتُ لَأَصُومَنَّ الدَّهْرَ، وَلَأَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَسَمِعَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَانِي، حَتَّى دَخَلَ عَلَيَّ فِي دَارِي , فَقَالَ:" بَلَغَنِي أَنَّكَ قُلْتَ لَأَصُومَنَّ الدَّهْرَ، وَلَأَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ" , فَقُلْتُ: قَدْ قُلْتُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ:" فَلَا تَفْعَلْ صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ" , قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ:" فَصُمْ مِنَ الْجُمُعَةِ يَوْمَيْنِ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ" , قُلْتُ: فَإِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ , قَالَ:" فَصُمْ صِيَامَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَإِنَّهُ أَعْدَلُ الصِّيَامِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمًا صَائِمًا وَيَوْمًا مُفْطِرًا، وَإِنَّهُ كَانَ إِذَا وَعَدَ لَمْ يُخْلِفْ، وَإِذَا لَاقَى لَمْ يَفِرَّ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آیا۔ میں نے عرض کیا: چچا جان! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے جو کہا تھا اسے مجھ سے بیان کیجئے۔ انہوں نے کہا: بھتیجے! میں نے پختہ عزم کر لیا تھا کہ میں اللہ کی عبادت کے لیے بھرپور کوشش کروں گا یہاں تک کہ میں نے کہہ دیا کہ میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا، اور ہر روز دن و رات قرآن پڑھا کروں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنا تو میرے پاس تشریف لائے یہاں تک کہ گھر کے اندر میرے پاس آئے، پھر آپ نے فرمایا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم نے کہا ہے کہ میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا اور قرآن پڑھوں گا؟ میں نے عرض کیا: ہاں اللہ کے رسول! میں نے ایسا کہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا مت کرو (بلکہ) ہر مہینے تین دن روزہ رکھ لیا کرو، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ہر ہفتہ سے دو دن دوشنبہ (پیر) اور جمعرات کو روزہ رکھ لیا کرو، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: داود علیہ السلام کا روزہ رکھا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ سب سے زیادہ بہتر اور مناسب روزہ ہے، وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے، اور وہ جب وعدہ کر لیتے تو وعدہ خلافی نہیں کرتے تھے، اور جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوتی تھی تو بھاگتے نہیں تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2395]
حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے، میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور کہا: چچا جان! مجھے وہ بات بیان فرمائیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ارشاد فرمائی تھی۔ وہ فرمانے لگے: اے بھتیجے! میں نے یہ عزم کیا تھا کہ میں عبادت میں سخت محنت کروں گا حتیٰ کہ میں نے کہا: میں ہمیشہ روزے رکھوں گا اور ایک دن رات میں پورا قرآن مجید ختم کیا کروں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کسی سے) یہ بات سن لی تو آپ میرے پاس تشریف لائے حتیٰ کہ میرے گھر میں داخل ہو گئے اور فرمانے لگے: مجھے پتا چلا ہے کہ تو نے کہا ہے: میں ہمیشہ روزہ رکھا کروں گا اور (ہر روز) پورا قرآن (نماز میں) پڑھا کروں گا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بلا شبہ میں نے یہ بات کہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے نہ کرنا۔ ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیا کر۔ میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر ہفتے میں دو دن، یعنی سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھ لیا کر۔ میں نے کہا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر حضرت داؤد علیہ السلام جیسے روزے رکھا کر کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہترین (اور مناسب ترین) روزے ہیں۔ ایک دن روزہ اور ایک دن ناغہ اور حضرت داؤد علیہ السلام جب وعدہ فرما لیتے تھے تو خلاف ورزی نہ کرتے تھے اور جب دشمن سے مقابلہ ہوتا تو بھاگتے نہ تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2395]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2393 (منکر) (جمعرات اور سوموار کا تذکرہ منکر ہے، باقی حصے صحیح ہیں)»
قال الشيخ الألباني: منكر بزيادة الموعد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں