سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب : التغليظ في حبس الزكاة
باب: زکاۃ نہ دینے والوں پر وارد وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 2443
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ رَجُلٍ لَهُ مَالٌ لَا يُؤَدِّي حَقَّ مَالِهِ، إِلَّا جُعِلَ لَهُ طَوْقًا فِي عُنُقِهِ شُجَاعٌ أَقْرَعُ وَهُوَ يَفِرُّ مِنْهُ وَهُوَ يَتْبَعُهُ"، ثُمَّ قَرَأَ مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَلا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَهُمْ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سورة آل عمران آية 180".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس مال ہو اور وہ اپنے مال کا حق ادا نہ کرے (یعنی زکاۃ نہ دے) تو وہ مال ایک گنجے زہریلے سانپ کی شکل میں اس کی گردن کا ہار بنا دیا جائے گا، وہ اس سے بھاگے گا، اور وہ (سانپ) اس کے ساتھ ہو گا“، پھر اس کی تصدیق کے لیے آپ نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی «ولا تحسبن الذين يبخلون بما آتاهم اللہ من فضله هو خيرا لهم بل هو شر لهم سيطوقون ما بخلوا به يوم القيامة» ”تم یہ مت سمجھو کہ جو لوگ اس مال میں جو اللہ نے انہیں دیا ہے بخیلی کرتے ہیں ان کے حق میں بہتر ہے، یہ بہت برا ہے ان کے لیے۔ عنقریب جس مال کے ساتھ انہوں نے بخل کیا ہو گا وہ قیامت کے دن ان کے گلے کا ہار بنا دیا جائے گا“ (آل عمران: ۱۸)۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2443]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے مال کا حق (زکاۃ) ادا نہ کرتا ہو تو (قیامت کے دن) وہ مال اس کے گلے میں گنجے سانپ کی صورت میں طوق بنا دیا جائے گا۔ وہ اس سے بھاگے گا، مگر وہ اس کے پیچھے دوڑے گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی کتاب سے اس کی تصدیق کے لیے یہ آیت پڑھی: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَهُمْ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ [سورة آل عمران: 180] ”جو لوگ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے مال میں بخل کرتے ہیں، وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ مال ان کے لیے بہتر ہے، بلکہ وہ ان کے لیے بدتر ہے۔ اور جس مال کے ساتھ انہوں نے بخل کیا، قیامت کے دن وہ ان کے گلے کا طوق بنایا جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2443]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر آل عمران (3012)، سنن ابن ماجہ/الزکاة2 (1784)، مسند احمد 1/377 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2442
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، فَلَمَّا رَآنِي مُقْبِلًا , قَالَ:" هُمُ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ" , فَقُلْتُ: مَا لِي لَعَلِّي أُنْزِلَ فِيَّ شَيْءٌ؟ قُلْتُ: مَنْ هُمْ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، قَالَ:" الْأَكْثَرُونَ أَمْوَالًا، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا حَتَّى بَيْنَ يَدَيْهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَمُوتُ رَجُلٌ فَيَدَعُ إِبِلًا أَوْ بَقَرًا لَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهَا، إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا كَانَتْ، وَأَسْمَنَهُ تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا، وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا كُلَّمَا نَفِدَتْ أُخْرَاهَا، أُعِيدَتْ أُولَاهَا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ".
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ خانہ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے، جب آپ نے ہمیں آتے دیکھا تو فرمایا: ”وہ بہت خسارے والے لوگ ہیں، رب کعبہ کی قسم“! میں نے (اپنے جی میں) کہا: کیا بات ہے؟ شاید میرے بارے میں کوئی آیت نازل ہوئی ہے، میں نے عرض کیا: کون لوگ ہیں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”بہت مال والے، مگر جو اس طرح کرے، اس طرح کرے“ یہاں تک کہ آپ اپنے سامنے، اپنے دائیں، اور اپنے بائیں دونوں ہاتھ سے اشارہ کیا، پھر آپ نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو شخص کوئی اونٹ یا بیل چھوڑ کر مرے گا جس کی اس نے زکاۃ نہ دی ہو گی تو وہ (اونٹ یا بیل) (دنیا میں) جیسا کچھ وہ تھا قیامت کے دن اس سے بڑا اور موٹا تازہ ہو کر اس کے سامنے آئے گا، اور اسے اپنے کھروں سے روندے گا اور سینگوں سے مارے گا، جب آخری جانور روند اور مار چکے گا تو پھر ان کا پہلا لوٹا دیا جائے گا، اور یہ سلسلہ جاری رہے گا یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2442]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ کعبے کے سائے میں بیٹھے تھے۔ جب آپ نے مجھے آتے دیکھا تو فرمانے لگے: ”کعبے کے رب کی قسم! وہ بہت خسارے والے لوگ ہیں۔“ میں نے اپنے دل میں کہا: کیا وجہ ہے؟ شاید میرے بارے میں کوئی وحی اتری ہے۔ میں نے عرض کیا: آپ پر میرے ماں باپ قربان! وہ کون (بدنصیب) ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”زیادہ مالدار لوگ، مگر جس نے ایسے ایسے اور ایسے کیا۔“ یعنی آگے، اپنے دائیں اور بائیں خرچ کیا، پھر فرمایا: ”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھوں میں میری جان ہے! جو آدمی بھی مرتے وقت اونٹ اور گائیں چھوڑ جائے، جن کی زکاۃ وہ نہ دیتا ہو، اس کے جانور اس جسامت اور موٹاپے سے بڑھ کر آئیں گے جو (دنیا میں) تھی اور اسے اپنے پاؤں تلے روندیں گے اور اس کو اپنے سینگوں سے ٹکریں ماریں گے۔ جب ان میں سے آخری جانور گزر جائے گا تو پہلے کو دوبارہ اس کے اوپر سے گزارا جائے گا، (اس کے ساتھ یہ سلسلہ جاری رہے گا حتیٰ کہ لوگوں کے درمیان فیصلے کر دیے جائیں)۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2442]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة43 (1460)، الأیمان والنذور3 (6638)، صحیح مسلم/الزکاة9 (990)، سنن الترمذی/الزکاة1 (617)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 2 (1785)، (تحفة الأشراف: 11981)، مسند احمد 5/152، 158، 169، سنن الدارمی/الزکاة 3 (1659)، ویأتي عند المؤلف فی باب11برقم: 2458 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2444
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الْغُدَانِيِّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَيُّمَا رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ إِبِلٌ، لَا يُعْطِي حَقَّهَا فِي نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا نَجْدَتُهَا وَرِسْلُهَا؟ قَالَ:" فِي عُسْرِهَا وَيُسْرِهَا، فَإِنَّهَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغَذِّ مَا كَانَتْ وَأَسْمَنِهِ وَآشَرِهِ يُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا، إِذَا جَاءَتْ أُخْرَاهَا أُعِيدَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ فَيَرَى سَبِيلَهُ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ بَقَرٌ لَا يُعْطِي حَقَّهَا فِي نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا، فَإِنَّهَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَغَذَّ مَا كَانَتْ وَأَسْمَنَهُ وَآشَرَهُ يُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَنْطَحُهُ كُلُّ ذَاتِ قَرْنٍ بِقَرْنِهَا، وَتَطَؤُهُ كُلُّ ذَاتِ ظِلْفٍ بِظِلْفِهَا، إِذَا جَاوَزَتْهُ أُخْرَاهَا أُعِيدَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ فَيَرَى سَبِيلَهُ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ غَنَمٌ لَا يُعْطِي حَقَّهَا فِي نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا، فَإِنَّهَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغَذِّ مَا كَانَتْ وَأَكْثَرِهِ وَأَسْمَنِهِ وَآشَرِهِ ثُمَّ يُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَطَؤُهُ كُلُّ ذَاتِ ظِلْفٍ بِظِلْفِهَا وَتَنْطَحُهُ كُلُّ ذَاتِ قَرْنٍ بِقَرْنِهَا لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ وَلَا عَضْبَاءُ، إِذَا جَاوَزَتْهُ أُخْرَاهَا أُعِيدَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ فَيَرَى سَبِيلَهُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جس شخص کے پاس اونٹ ہوں اور وہ ان کی تنگی اور خوشحالی میں ان کا حق ادا نہ کرے (لوگوں نے) عرض کیا: اللہ کے رسول! «نجدتها ورسلها» سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: تنگی اور آسانی ۱؎ تو وہ اونٹ جیسے کچھ تھے قیامت کے دن اس سے زیادہ چست، فربہ اور موٹے تازے ہو کر آئیں گے۔ اور یہ ایک کشادہ اور ہموار چٹیل میدان میں اوندھا لٹا دیا جائے گا، وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گے، جب آخری اونٹ روند چکے گا تو پھر پہلا اونٹ روندنے کے لیے لوٹایا جائے گا، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہو گی، اور یہ سلسلہ برابر اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک لوگوں کے درمیان فیصلہ نہ کر دیا جائے گا، اور وہ اپنا راستہ دیکھ نہ لے گا، جن کے پاس گائے بیل ہوں اور وہ ان کا حق ادا نہ کرے یعنی ان کی زکاۃ نہ دے، ان کی تنگی اور ان کی کشادگی کے زمانہ میں، تو وہ گائے بیل قیامت کے دن پہلے سے زیادہ مستی و نشاط میں موٹے تازے اور تیز رفتار ہو کر آئیں گے، اور اسے ایک کشادہ میدان میں اوندھا لٹا دیا جائے گا اور ہر سینگ والا اسے سینگوں سے مارے گا، اور ہر کھر والا اپنی کھروں سے اسے روندے گا، جب آخری جانور روند چکے گا، تو پھر پہلا پھر لوٹا دیا جائے گا، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہو گی، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے اور وہ اپنا راستہ دیکھ لے، اور جس شخص کے پاس بکریاں ہوں اور وہ ان کی تنگی اور آسانی میں ان کا حق ادا نہ کرے تو قیامت کے دن وہ بکریاں اس سے زیادہ چست فربہ اور موٹی تازی ہو کر آئیں گی جتنی وہ (دنیا میں) تھیں، پھر وہ ایک کشادہ ہموار میدان میں منہ کے بل لٹا دیا جائے، تو ہر کھر والی اسے اپنے کھر سے روندیں گی، اور ہر سینگ والی اسے اپنی سینگ سے مارے گی، ان میں کوئی مڑی ہوئی اور ٹوٹی ہوئی سینگ کی نہ ہو گی، جب آخری بکری مار چکے گی تو پھر پہلی بکری لوٹا دی جائے گی، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہو گی، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے، اور وہ اپنا راستہ دیکھ لے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2444]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جس آدمی کے پاس اونٹ ہوں اور وہ ان کی «نَجْدَة» اور ان کی «رِسْل» میں ان کا حق (یعنی زکاۃ) ادا نہ کرتا ہو۔“ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! «نَجْدَة» اور «رِسْل» سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تنگی اور خوش حالی میں (ان کی زکاۃ ادا نہ کرتا ہو) تو قیامت کے دن وہ انتہائی موٹے، تازے اور پوری مستی کی حالت میں آئیں گے اور اس (مالک) کو ان کے سامنے ایک کھلے ہموار میدان میں اوندھا لٹا دیا جائے گا تو وہ اپنے کھروں سے (پاؤں تلے) اسے مسلیں (روندیں) گے۔ جب آخری گزر جائے گا تو پہلے کو پھر لایا جائے گا اور یہ کام اس کے ساتھ قیامت کے پورے دن میں کیا جاتا رہے گا، جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے، حتیٰ کہ لوگوں کے درمیان (جنت اور جہنم کا) فیصلہ کر دیا جائے، اور وہ اپنا (جنت یا جہنم والا) راستہ دیکھ لے۔ اور اسی طرح جس شخص کے پاس گائیں ہوں اور وہ تنگ حالی اور خوش حالی میں ان کی زکاۃ نہ دیتا ہو تو وہ بھی قیامت کے دن انتہائی موٹی تازی اور پوری مستی کی حالت میں آئیں گی اور اس (مالک) کو ان کے سامنے ایک کھلے ہموار میدان میں اوندھا لٹا دیا جائے گا اور ہر سینگ والی اپنے سینگوں سے اس کو ٹکریں مارے گی اور ہر کھر والی اپنے کھروں کے ساتھ اس کو کچلے گی۔ جب ان میں سے آخری گزر جائے گی تو پہلی کو پھر لایا جائے گا اور یہ کام اس کے ساتھ قیامت کے پورے دن میں کیا جاتا رہے گا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے، حتیٰ کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے اور وہ اپنا (جنتی یا جہنمی) راستہ دیکھ لے گا۔ اسی طرح جس آدمی کے پاس بکریاں ہوں اور وہ تنگ حالی اور خوش حالی میں ان کی زکاۃ نہ دیتا ہو تو وہ قیامت کے دن انتہائی موٹی تازی اور پوری مستی کی حالت میں آئیں گی، پھر اس (مالک) کو ان کے سامنے ایک کھلے اور ہموار میدان میں اوندھا لٹا دیا جائے گا، تو ہر کھر والی اپنے کھروں کے ساتھ اس کو مسلے گی اور ہر سینگ والی اپنے سینگوں کے ساتھ اس کو ٹکریں مارے گی۔ ان میں سے کسی کا سینگ نہ مڑا ہوا ہوگا اور نہ ٹوٹا ہوا۔ جب ان میں سے آخری گزر جائے گی تو پہلی کو واپس لایا جائے گا اور اس (مالک) کے ساتھ یہ کام قیامت کے پورے دن ہوتا رہے گا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی، حتیٰ کہ لوگوں کے درمیان (جنت اور جہنم کا) فیصلہ کر دیا جائے اور وہ اپنا (جنت یا جہنم والا) راستہ دیکھ لے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2444]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة32 (1658)، (تحفة الأشراف: 15453)، مسند احمد 2/383، 489، 490 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ نہ تنگی و پریشانی کے زمانے میں زکاۃ دے کہ دینے سے اونٹ کم ہو جائیں گے، اور محتاجی و تنگی مزید بڑھ جائے گی، اور نہ خوش حالی و فارغ البالی کے دنوں میں زکاۃ دے یہ سوچ کر کہ ایسے موٹے تازے جانور کی زکاۃ کون دے؟
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2450
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ، مِمَّا حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ مِمَّا ذَكَرَ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ بِهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَأْتِي الْإِبِلُ عَلَى رَبِّهَا عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ، إِذَا هِيَ لَمْ يُعْطِ فِيهَا حَقَّهَا تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا، وَتَأْتِي الْغَنَمُ عَلَى رَبِّهَا عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ، إِذَا لَمْ يُعْطِ فِيهَا حَقَّهَا، تَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، قَالَ: وَمِنْ حَقِّهَا أَنْ تُحْلَبَ عَلَى الْمَاءِ أَلَا لَا يَأْتِيَنَّ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِبَعِيرٍ يَحْمِلُهُ عَلَى رَقَبَتِهِ لَهُ رُغَاءٌ، فَيَقُولُ: يَا مُحَمَّدُ , فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ بَلَّغْتُ أَلَا لَا يَأْتِيَنَّ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِشَاةٍ يَحْمِلُهَا عَلَى رَقَبَتِهِ لَهَا يُعَارٌ، فَيَقُولُ: يَا مُحَمَّدُ , فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ بَلَّغْتُ، قَالَ: وَيَكُونُ كَنْزُ أَحَدِهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَفِرُّ مِنْهُ صَاحِبُهُ، وَيَطْلُبُهُ أَنَا كَنْزُكَ فَلَا يَزَالُ حَتَّى يُلْقِمَهُ أُصْبُعَهُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اونٹ اپنے مالک کے پاس جب اس نے ان میں ان کا حق نہ دیا ہو گا اس سے بہتر حالت میں آئیں گے جس میں وہ (دنیا میں) تھے، وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گے، اور بکریاں اپنے مالک کے پاس جب اس نے ان میں ان کا حق نہ دیا ہو گا، اس سے بہتر حالت میں آئیں گی جس حالت میں وہ (دنیا میں) تھیں۔ وہ اسے اپنی کھروں سے روندیں گی، اور اپنی سینگوں سے ماریں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کا حق یہ بھی ہے کہ انہیں اسی جگہ دوہا جائے جہاں انہیں پانی پلانے کا نظم ہو ۱؎، سن لو، قیامت کے دن تم میں کا کوئی اپنے اونٹ کو اپنی گردن پر لادے ہوئے نہ لائے وہ بلبلا رہا ہو، پھر وہ کہے: اے محمد! (بچائیے مجھ کو اس عذاب سے) کہ میں کہوں: میں تیرے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں تو تجھے بتا چکا تھا، سن لو! قیامت کے دن کوئی اپنی گردن پر بکری کو لادے ہوئے نہ آئے کہ وہ ممیا رہی ہو، پھر وہ کہے: اے محمد! (مجھے اس عذاب سے بچائیے) کہ اس وقت میں کہوں: میں تیرے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں تو تجھے پہلے ہی بتا چکا ہوں“۔ آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کا خزانہ ۲؎ قیامت کے دن گنجا سانپ بن کر سامنے آئے گا، اس کا مالک اس سے بھاگے گا، اور وہ اس کا برابر پیچھا کرتا رہے گا، اور کہے گا: میں تیرا خزانہ ہوں یہاں تک کہ وہ اس کی انگلی کو اپنے منہ میں داخل کر لے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2450]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اونٹوں کے مالک نے ان کا حق ادا نہیں کیا ہوگا (ان کی زکاۃ نہ دی ہوگی) تو وہ اونٹ (قیامت کے دن) بہترین موٹاپے کی حالت میں اس پر آئیں گے اور اسے اپنے پاؤں سے روندیں گے۔ اور اگر بکریوں کے مالک نے ان کا حق ادا نہیں کیا ہوگا (ان کی زکاۃ نہ دی ہوگی) تو وہ بکریاں (قیامت کے دن) بہترین موٹاپے کی حالت میں اس پر آئیں گی، اسے اپنے کھروں سے مسلیں گی اور اپنے سینگوں سے اسے ٹکریں ماریں گی۔“ فرمایا: ”اور ان جانوروں میں یہ حق بھی ہے کہ جب وہ پانی پینے جائیں تو (وہاں موجود فقراء کو) ان کا دودھ دوہ کر دیا جائے۔ خبردار! ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن تم میں سے کوئی شخص اپنی گردن پر اونٹ اٹھائے ہوئے آئے اور وہ اونٹ بلبلا رہا ہو۔ وہ کہے: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! (میری مدد فرمائیے) اور میں کہہ دوں کہ میں تیرے بارے میں کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی۔ خبردار! ایسا نہ ہو کہ تم میں سے کوئی شخص قیامت کے دن اپنی گردن پر بکری اٹھا کر لائے، وہ بکری ممیا رہی ہو اور وہ کہے: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! (میری مدد فرمائیے) اور میں کہہ دوں کہ میں تیرے بارے میں کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان (لوگوں) کا خزانہ (جس کی زکاۃ نہ دی گئی ہو) قیامت کے دن گنجے سانپ کی صورت اختیار کرے گا۔ اس کا مالک اس سے بھاگے گا لیکن وہ اسے تلاش کرے گا اور کہے گا: میں تیرا خزانہ ہوں۔ وہ اسی طرح اس کا پیچھا کرتا رہے گا حتیٰ کہ وہ اپنی انگلیاں اس (سانپ) کے منہ میں ڈال دے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2450]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة3 (1402)، الجھاد189 (2378)، تفسیربراء ة6 (3073)، الحیل3 (6958)، (تحفة الأشراف: 13736)، مسند احمد (2/316، 379، 426) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: بکریوں کو گھاٹوں پر دوہا جائے تاکہ وہاں موجود مساکین کو بھی اس میں سے کچھ دیا جائے، نہ کہ بند گھروں میں مساکین سے بچنے کے لیے دوہا جائے۔ ۲؎: جس کی وہ زکاۃ نہیں ادا کرتا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 2456
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ وَلَا بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا، إِلَّا وُقِفَ لَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَاعٍ قَرْقَرٍ، تَطَؤُهُ ذَاتُ الْأَظْلَافِ بِأَظْلَافِهَا، وَتَنْطَحُهُ ذَاتُ الْقُرُونِ بِقُرُونِهَا، لَيْسَ فِيهَا يَوْمَئِذٍ جَمَّاءُ وَلَا مَكْسُورَةُ الْقَرْنِ" , قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَاذَا حَقُّهَا؟ قَالَ:" إِطْرَاقُ فَحْلِهَا، وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا، وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَا صَاحِبِ مَالٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهُ، إِلَّا يُخَيَّلُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعٌ أَقْرَعُ يَفِرُّ مِنْهُ صَاحِبُهُ وَهُوَ يَتَّبِعُهُ، يَقُولُ لَهُ هَذَا كَنْزُكَ الَّذِي كُنْتَ تَبْخَلُ بِهِ، فَإِذَا رَأَى أَنَّهُ لَا بُدَّ لَهُ مِنْهُ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي فِيهِ فَجَعَلَ يَقْضَمُهَا كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی اونٹ، گائے اور بکری والا ان کا حق ادا نہیں کرے گا، (یعنی زکاۃ نہیں ادا کرے گا) تو اسے قیامت کے دن ایک کشادہ ہموار میدان میں کھڑا کیا جائے گا، کھر والے جانور اپنے کھروں سے اسے روندیں گے، اور سینگ والے اسے اپنی سینگوں سے ماریں گے۔ اس دن ان میں کوئی ایسا نہ ہو گا جس کے سینگ ہی نہ ہو اور نہ ہی کسی کی سینگ ٹوٹی ہوئی ہو گی“، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان پر نر کودوانا، ان کے ڈول کو منگنی دینا اور اللہ کی راہ میں ان پر بوجھ اور سواری لادنا، اور جو صاحب مال اپنے مال کا حق ادا نہ کرے گا وہ مال قیامت کے دن ایک گنجے (زہریلے) سانپ کی شکل میں اسے دکھائی پڑے گا، اس کا مالک اس سے بھاگے گا، اور وہ اس کا پیچھا کرے گا، اور اس سے کہے گا: یہ تو تیرا وہ خزانہ ہے جس کے ساتھ تو بخل کرتا تھا، جب وہ دیکھے گا کہ اس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے تو (لاچار ہو کر) اپنا ہاتھ اس کے منہ میں ڈال دے گا، اور وہ اس کو اس طرح چبائے گا جس طرح اونٹ چباتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2456]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی اونٹوں، گایوں یا بکریوں کا مالک ان کا حق (ان کی زکاۃ) نہیں دے گا، اسے قیامت کے دن ایک ہموار کھلے میدان میں کھڑا کیا جائے گا۔ کھروں والے جانور اسے اپنے کھروں سے کچلیں گے اور سینگوں والے جانور اسے اپنے سینگوں سے ٹکریں ماریں گے۔ ان میں سے کوئی بھی بغیر سینگوں کے نہ ہوگا اور نہ کسی کے سینگ ٹوٹے ہوئے ہوں گے۔“ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! (زکاۃ کے علاوہ) ان میں اور کیا حق ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نر جفتی کے لیے دینا، پانی نکالنے کے لیے ڈول دینا اور اللہ کے راستے میں (جہاد کے لیے) اور فقیر وغیرہ ضرورت مند کو بوجھ لادنے اور سواری کے لیے دینا۔ اسی طرح روپے پیسے والا اگر ان کی زکاۃ نہیں دے گا تو قیامت کے دن وہ اس کے لیے ایک گنجا سانپ بنا دیا جائے گا، مالک اس سے بھاگے گا لیکن وہ سانپ اس کے پیچھے دوڑے گا اور کہے گا: میں تیرا وہ خزانہ ہوں جس کے ساتھ تو بخل کرتا تھا۔ جب مالک کو یقین ہو جائے گا کہ اس سے بچنے کا کوئی چارہ نہیں تو وہ اپنا ہاتھ اس کے منہ میں ڈال دے گا۔ وہ اس کو اس طرح چبائے گا جس طرح اونٹ چباتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2456]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الزکاة6 (988)، (تحفة الأشراف: 2788)، مسند احمد (3/321)، سنن الدارمی/الزکاة3 (1657) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2458
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ وَلَا بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا، إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا كَانَتْ، وَأَسْمَنَهُ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، وَتَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا كُلَّمَا نَفِدَتْ أُخْرَاهَا أَعَادَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ".
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اونٹ گائے اور بکریاں رکھتا ہو اور ان کی زکاۃ نہ دے تو وہ دنیا میں جیسے تھے اس سے بڑے اور موٹے تازے ہو کر آئیں گے، اور وہ اسے اپنی سینگوں سے ماریں گے، اور اپنی کھروں سے روندیں گے، جب آخری جانور مار چکے گا تو پھر پہلا جانور لوٹا دیا جائے گا، اور یہ سلسلہ جاری رہے گا یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2458]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی اونٹوں، گایوں یا بکریوں کا مالک ان کی زکاۃ ادا نہیں کرے گا تو قیامت کے دن وہ جانور اس جسامت اور موٹاپے سے بڑھ کر آئیں گے جو (دنیا میں تھی)۔ اپنے سینگوں سے اسے ٹکریں ماریں گے اور اپنے کھروں سے اسے روندیں گے۔ جب ان میں سے آخری گزر جائے گا تو پہلے کو دوبارہ لایا جائے گا اور اس کے ساتھ یہی سلوک ہوتا رہے گا حتیٰ کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2458]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2442 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2483
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الَّذِي لَا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مَالُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ أقْرَعَ لَهُ زَبِيَبَتَانِ , قَالَ: فَيَلْتَزِمُهُ أَوْ يُطَوِّقُهُ، قَالَ: يَقُولُ: أَنَا كَنْزُكَ، أَنَا كَنْزُكَ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے مال کی زکاۃ نہیں دیتا ہے، اسے قیامت کے دن اس کا مال ایسے خوفناک سانپ کی صورت میں نظر آئے گا جو گنجا ہو گا، اس کی آنکھوں پر دو سیاہ نقطے ہوں گے، وہ اس سے چمٹ جائے گا، یا اس کے گلے کا ہار بن جائے گا، اور کہے گا: میں تیرا خزانہ ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2483]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے مال (سونا، چاندی اور رقم) کی زکاۃ ادا نہیں کرتا، قیامت کے دن اس کے مال کو اس کے سامنے گنجے سانپ کی صورت میں لایا جائے گا جس کی آنکھوں پر دو سیاہ نقطے ہوں گے۔ وہ اسے چمٹ جائے گا یا اس کے گلے کا طوق بن جائے گا اور کہے گا: میں تیرا خزانہ ہوں۔ میں تیرا خزانہ ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2483]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 7211)، مسند احمد (2/98، 137، 156) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2484
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ آتَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَالًا فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ، مُثِّلَ لَهُ مَالُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ، يَأْخُذُ بِلِهْزِمَتَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ: أَنَا مَالُكَ، أَنَا كَنْزُكَ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: وَلا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ سورة آل عمران آية 180".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اللہ تعالیٰ مال دے اور وہ اس مال کی زکاۃ ادا نہ کرے، تو قیامت کے دن اس کا مال گنجا سانپ بن جائے گا، اس کی آنکھ کے اوپر دو سیاہ نقطے ہوں گے، وہ قیامت کے دن اس کے دونوں کلّے پکڑے گا، اور اس سے کہے گا: میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں“۔ پھر آپ نے آیت کریمہ کی تلاوت کی: «ولا يحسبن الذين يبخلون بما آتاهم اللہ من فضله» ”اللہ تعالیٰ نے جنہیں مال دیا ہے وہ بخیلی کر کے یہ نہ سمجھیں کہ یہ ان کے لیے بہتر ہے بلکہ وہی مال قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہو گا“ (آل عمران: ۱۸۰)۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2484]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اللہ تعالیٰ مال عطا فرمائے، پھر وہ اس کی زکاۃ نہ دے تو قیامت کے دن اس کے مال کو اس کے سامنے گنجے سانپ کی صورت دی جائے گی جس کی آنکھوں پر دو سیاہ نقطے ہوں گے۔ وہ اس شخص کے منہ کے دونوں کناروں کو پکڑ لے گا اور کہے گا: میں تیرا مال ہوں۔ میں تیرا خزانہ ہوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمْ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ﴾ [سورة آل عمران: 180] ”جو لوگ اس مال میں بخل کرتے ہیں جو ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے عطا فرمایا ہے (وہ اس (بخل) کو اپنے لیے ہرگز بہتر نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لیے برا ہے اور قیامت کے دن وہ مال ان کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا۔)“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2484]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة3 (1403)، تفسیر آل عمران14 (4565)، براء ة6 (4659)، الحیل3 (6957)، (تحفة الأشراف: 12820)، مسند احمد (2/355) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري