سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
93. باب : مسألة الرجل في أمر لا بد له منه
باب: آدمی کا ایسی چیز مانگنا جس کے بغیر چارہ نہیں۔
حدیث نمبر: 2601
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَسْأَلَةُ كَدٌّ يَكُدُّ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ، إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ الرَّجُلُ سُلْطَانًا، أَوْ فِي أَمْرٍ لَا بُدَّ مِنْهُ".
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مانگنا خراش ہے جس سے آدمی اپنے چہرے کو زخمی کرتا ہے مگر یہ کہ آدمی حاکم سے مانگے، یا کوئی ایسی چیز مانگے جس کے بغیر چارہ نہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2601]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مانگنا تو اپنے آپ کو زخمی کرنا ہے، اس طریقے سے آدمی اپنے چہرے کو نوچتا ہے، مگر یہ کہ حاکم سے مانگے یا ایسی چیز مانگے جس کے بغیر چارہ نہ ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2601]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2600
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمَسَائِلَ كُدُوحٌ يَكْدَحُ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ، فَمَنْ شَاءَ كَدَحَ وَجْهَهُ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ، إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ الرَّجُلُ ذَا سُلْطَانٍ، أَوْ شَيْئًا لَا يَجِدُ مِنْهُ بُدًّا".
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مانگنا خراش (زخم کی ہلکی لکیر) ہے جسے آدمی اپنے چہرے پر لگاتا ہے، تو جو چاہے اپنے چہرے پر (مانگ کر) خراش لگائے، اور جو چاہے نہ لگائے، مگر یہ کہ آدمی حاکم سے مانگے، یا کوئی ایسی چیز مانگے جس سے چارہ نہ ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2600]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ مانگنا خراشیں ہیں۔ آدمی اپنے چہرے کو ان کے ذریعے سے نوچتا ہے۔ اب جو چاہے اپنا چہرہ نوچے اور جو چاہے رہنے دے، الا یہ کہ کوئی شخص صاحبِ اقتدار سے مانگے یا ایسی چیز مانگے جس کے بغیر چارہ نہ ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2600]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة 26 (1639)، سنن الترمذی/الزکاة 38 (681)، (تحفة الأشراف: 4614)، مسند احمد 5/19، 22 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح