سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
78. بَابُ : مَا يَجُوزُ لِلْمُحْرِمِ أَكْلُهُ مِنَ الصَّيْدِ
باب: محرم کے لیے جائز شکار کا بیان۔
حدیث نمبر: 2819
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ، فَأُهْدِيَ لَهُ طَيْرٌ وَهُوَ رَاقِدٌ، فَأَكَلَ بَعْضُنَا، وَتَوَرَّعَ بَعْضُنَا، فَاسْتَيْقَظَ طَلْحَةُ فَوَفَّقَ مَنْ أَكَلَهُ، وَقَالَ:" أَكَلْنَاهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبدالرحمٰن تیمی کہتے ہیں کہ ہم طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور ہم احرام باندھے ہوئے تھے، تو انہیں (شکار کی ہوئی) ایک چڑیا ہدیہ کی گئی اور وہ سوئے ہوئے تھے تو ہم میں سے بعض نے کھایا اور بعض نے احتیاط برتی تو جب طلحہ رضی اللہ عنہ جاگے، تو انہوں نے کھانے والوں کی موافقت کی، اور کہا کہ ہم نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2819]
حضرت عبدالرحمن تیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، ہم سب محرم تھے، انہیں ایک پرندے کا گوشت بطور تحفہ بھیجا گیا، وہ سو رہے تھے، ہم میں سے کچھ نے وہ گوشت کھا لیا اور کچھ نے پرہیز کیا، اتنے میں حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ جاگ پڑے تو انہوں نے ان لوگوں کی تائید کی جنہوں نے گوشت کھایا تھا اور فرمایا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسی پرندے کا گوشت کھایا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2819]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج8 (1197)، (تحفة الأشراف: 5002)، مسند احمد (1/161، 162)، سنن الدارمی/المناسک22 (1871) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2830
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَمْرٍو، عَنْ الْمُطَّلِبِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" صَيْدُ الْبَرِّ لَكُمْ حَلَالٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَادَ لَكُمْ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ وَإِنْ كَانَ قَدْ رَوَى عَنْهُ مَالِكٌ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”خشکی کا شکار تمہارے لیے حلال ہے جب تک کہ تم خود شکار نہ کرو، یا تمہارے لیے شکار نہ کیا جائے“۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس حدیث میں «عمرو بن ابی عمرو» قوی نہیں ہیں، گو امام مالک نے ان سے روایت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2830]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”تمہارے لیے خشکی کا شکار کھانا حلال ہے بشرطیکہ تم نے شکار نہ کیا ہو اور نہ تمہارے لیے شکار کیا گیا ہو۔“ ابوعبدالرحمن (امام نسائی رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ راویِ حدیث عمرو بن ابی عمرو علمِ حدیث میں قوی نہیں ہیں، اگرچہ امام مالک رحمہ اللہ نے ان سے روایت لی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2830]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج41 (1851)، سنن الترمذی/الحج25 (846)، (تحفة الأشراف: 3098)، مسند احمد (3/362، 387، 389) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1851) ترمذي (846) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 342