سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
81. بَابُ: إِذَا أَشَارَ الْمُحْرِمُ إِلَى الصَّيْدِ فَقَتَلَهُ الْحَلاَلُ
باب: محرم جب شکار کی طرف اشارہ کرے اور غیر محرم شکار کرے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 2829
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُمْ كَانُوا فِي مَسِيرٍ لَهُمْ بَعْضُهُمْ مُحْرِمٌ وَبَعْضُهُمْ لَيْسَ بِمُحْرِمٍ، قَالَ: فَرَأَيْتُ حِمَارَ وَحْشٍ فَرَكِبْتُ فَرَسِي وَأَخَذْتُ الرُّمْحَ، فَاسْتَعَنْتُهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُونِي، فَاخْتَلَسْتُ سَوْطًا مِنْ بَعْضِهِمْ، فَشَدَدْتُ عَلَى الْحِمَارِ فَأَصَبْتُهُ، فَأَكَلُوا مِنْهُ، فَأَشْفَقُوا، قَالَ: فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" هَلْ أَشَرْتُمْ أَوْ أَعَنْتُمْ؟" قَالُوا: لَا، قَالَ:" فَكُلُوا".
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ لوگ سفر میں تھے ان میں سے بعض نے احرام باندھ رکھا تھا اور بعض بغیر احرام کے تھے، میں نے ایک نیل گائے دیکھا تو میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو گیا، اور اپنا نیزہ لے لیا، اور ان لوگوں سے مدد چاہی تو ان لوگوں نے مجھے مدد دینے سے انکار کیا تو میں نے ان میں سے ایک کا کوڑا اُچک لیا اور تیزی سے نیل گائے پر جھپٹا اور اسے پا لیا (مار گرایا) تو ان لوگوں نے اس کا گوشت کھایا پھر ڈرے (کہ ہمارے لیے کھانا اس کا حلال تھا یا نہیں) تو اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”کیا تم لوگوں نے اشارہ کیا تھا یا کسی طرح کی مدد کی تھی؟“ انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو کھاؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2829]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/جزاء الصید 5 (1824) مطولا، صحیح مسلم/الحج 8 (1196)، (تحفة الأشراف: 12102)، مسند احمد (5/302)، سنن الدارمی/المناسک 22 (1869) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2830
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَمْرٍو، عَنْ الْمُطَّلِبِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" صَيْدُ الْبَرِّ لَكُمْ حَلَالٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَادَ لَكُمْ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ وَإِنْ كَانَ قَدْ رَوَى عَنْهُ مَالِكٌ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”خشکی کا شکار تمہارے لیے حلال ہے جب تک کہ تم خود شکار نہ کرو، یا تمہارے لیے شکار نہ کیا جائے“۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس حدیث میں «عمرو بن ابی عمرو» قوی نہیں ہیں، گو امام مالک نے ان سے روایت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2830]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج41 (1851)، سنن الترمذی/الحج25 (846)، (تحفة الأشراف: 3098)، مسند احمد (3/362، 387، 389) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1851) ترمذي (846) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 342