🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
107. باب : دخول مكة بغير إحرام
باب: مکہ میں بغیر احرام باندھے داخل ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2872
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ الْمَكِّيُّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے، آپ کے سر پر کالی پگڑی تھی، اور آپ بغیر احرام کے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2872]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج84 (1358)، (تحفة الأشراف: 2947)، مسند احمد (3/387)، ویأتی عند المؤلف فی الزینة 109، برقم 5346 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: دونوں روایتوں میں کوئی تعارض نہیں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ عمامہ خود کے اوپر رہا ہو، یا خود عمامہ کے اوپر رہا ہو یا داخل ہوتے وقت سر پر خود رہا ہو پھر آپ نے اسے ہٹا کر پگڑی باندھ لی ہو، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5345
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" رَأَيْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِمَامَةً حَرْقَانِيَّةً".
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کی پگڑی باندھے دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 5345]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 84 (1359)، سنن ابی داود/اللباس 24 (4077)، سنن الترمذی/الشمائل 16(108)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 22 (2821)، اللباس 14 (3587)، (تحفة الأشراف: 10716)، مسند احمد (4/307) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «حرقانیہ» لفظ «حرق» (جلنا) سے ہے، یعنی: جلنے کے بعد کسی چیز کا جو رنگ ہوتا ہے، وہ سرمئی ہوتا ہے، لیکن مؤلف کے سوا سب کے یہاں، یہاں لفظ «سوداء» ہے، (خود مؤلف کے یہاں بھی آگے «سوداء» ہی ہے) اس لحاظ سے دونوں حدیثوں کو ایک ہی باب (۱۰۹) میں لانا چاہیئے تھا، مگر کسی راوی کے یہاں «حرقانیۃ» ہونے کی وجہ سے اور رنگ میں ذرا سا فرق ہونے کی وجہ سے مؤلف نے شاید الگ الگ دو باب باندھے ہیں، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5346
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ , وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں احرام کے بغیر داخل ہوئے اور آپ کالی پگڑی باندھے ہوئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 5346]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2872 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5347
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن (مکہ میں) داخل ہوئے اور آپ کالی پگڑی باندھے ہوئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 5347]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 84 (1358)، سنن الترمذی/الجہاد 9 (1679)، (تحفة الأشراف: 2890)، مسند احمد (3/387) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5348
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ السَّاعَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ , وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ، قَدْ أَرْخَى طَرَفَهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ".
عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: گویا میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھ رہا ہوں اور آپ کالی پگڑی باندھے ہوئے ہیں، اس کا کنارہ اپنے دونوں مونڈھوں کے درمیان (پیچھے) لٹکا رکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 5348]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5345 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں