🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
139. باب : طواف الرجال مع النساء
باب: مردوں کا عورتوں کے ساتھ طواف کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2930
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا قَدِمَتْ مَكَّةَ وَهِيَ مَرِيضَةٌ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" طُوفِي مِنْ وَرَاءِ الْمُصَلِّينَ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ" , قَالَتْ: فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ يَقْرَأُ: وَالطُّورِ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ وہ مکہ آئیں، اور وہ بیمار تھیں، تو انہوں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ نے فرمایا سوار ہو کر نمازیوں کے پیچھے سے طواف کر لو، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ کعبہ کے پاس «والطور» پڑھ رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2930]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ مکے میں آئیں تو بیمار تھیں۔ انہوں نے اس بات کا ذکر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سوار ہو کر نمازیوں کے اوپر اوپر سے طواف کر لینا۔ میں نے (دوران طواف) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبے کے پاس (نماز میں) سورۂ طور پڑھتے سنا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2930]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2928 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2928
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أَشْتَكِي، فَقَالَ:" طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ، فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ، يَقْرَأُ ب: والطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں۔ آپ نے فرمایا: لوگوں کے پیچھے سوار ہو کر طواف کر لو، تو میں نے طواف کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ «الطور * وكتاب مسطور» پڑھ رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2928]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں بیمار ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں کے اوپر اوپر سے (دور سے) سوار ہو کر طواف کر لو۔ میں نے اسی طرح طواف کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بیت اللہ کے قریب نماز پڑھا رہے تھے اور سورہ الطور کی تلاوت فرما رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2928]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 78 (464)، الحج 64 (1619)، 71 (1621)، 74 (1633)، تفسیرالطور 1 (4853)، صحیح مسلم/الحج 42 (1276)، سنن ابی داود/الحج49 (1882)، سنن ابن ماجہ/الحج34 (2961)، (تحفة الأشراف: 18262)، موطا امام مالک/الحج 40 (123)، مسند احمد (6/290، 319) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2929
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا طُفْتُ طَوَافَ الْخُرُوجِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَطُوفِي عَلَى بَعِيرِكِ مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ" , عُرْوَةُ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ أُمِّ سَلَمَةَ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے تو واپسی کا طواف نہیں کیا ہے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کھڑی کر دی جائے، تو تم اپنے اونٹ پر لوگوں کے پیچھے سے طواف کر لو۔ عبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: عروہ کا ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2929]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں نے طوافِ وداع نہیں کیا۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب جماعت شروع ہو جائے تو تم اپنے اونٹ پر سوار ہو کر لوگوں کے اوپر اوپر سے طواف کر لینا۔ عروہ نے یہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نہیں سنا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2929]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 18198) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں