سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
207. باب : الجمع بين الصلاتين بالمزدلفة
باب: مزدلفہ میں دو نمازیں ایک ساتھ پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3034
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، أَنَّ كُرَيْبًا، قَالَ: سَأَلْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، وَكَانَ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ، فَقُلْتُ: كَيْفَ فَعَلْتُمْ؟ قَالَ:" أَقْبَلْنَا نَسِيرُ، حَتَّى بَلَغْنَا الْمُزْدَلِفَةَ، فَأَنَاخَ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَى الْقَوْمِ، فَأَنَاخُوا فِي مَنَازِلِهِمْ، فَلَمْ يَحُلُّوا حَتَّى صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، ثُمَّ حَلَّ النَّاسُ، فَنَزَلُوا، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا، انْطَلَقْتُ عَلَى رِجْلَيَّ فِي سُبَّاقِ قُرَيْشٍ وَرَدِفَهُ الْفَضْلُ.
کریب کہتے ہیں کہ میں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے اور وہ عرفہ کی شام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھے پوچھا: آپ لوگوں نے کیسے کیا؟ انہوں نے کہا: ہم چلتے رہے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کو بٹھایا، پھر مغرب پڑھی، پھر آپ نے لوگوں کو (اترنے کی اطلاع) بھیجی، تو لوگوں نے اپنے اپنے ٹھکانوں پر اپنے اونٹ بٹھا لیے۔ تو ابھی وہ اتر بھی نہ سکے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری نماز عشاء بھی پڑھ لی۔ پھر لوگ اترے اور قیام کیا، پھر صبح کی تو میں قریش کے پہلے جتھے والوں کے ساتھ پیدل گیا۔ اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (اونٹ پر) سوار ہوئے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3034]
حضرت کریب رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے پوچھا، کیونکہ وہ عرفہ کی شام (واپسی کے وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر بیٹھے تھے، میں نے کہا: آپ نے کیسے کیا؟ انہوں نے فرمایا: ہم چلتے آئے حتیٰ کہ مزدلفہ پہنچ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور مغرب کی نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو پیغام بھیجا تو انہوں نے اپنے اونٹوں کو اپنی قیام گاہوں میں بٹھایا، لیکن انہوں نے سامان نہیں اتارا حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھائی، پھر لوگوں نے اپنا سامان وغیرہ اتارا اور اپنی قیام گاہوں میں ٹھہرے۔ جب صبح ہوئی تو میں قریش کے جلد جانے والوں میں پیدل چل پڑا اور حضرت فضل رضی اللہ عنہما آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر بیٹھ گئے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3034]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج 64 (1921)، سنن ابن ماجہ/الحج 59 (3019)، موطا امام مالک/الحج 65 (197)، (تحفة الأشراف: 116)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 6 (139)، 35 (181)، الحج 93، 95 (1667، 1669، 1672)، صحیح مسلم/الحج45، 47 (1280)، مسند احمد (5/200، 202، 208، 210)، سنن الدارمی/المناسک 51 (1922) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 610
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَهُ مِنْ عَرَفَةَ، فَلَمَّا أَتَى الشِّعْبَ نَزَلَ فَبَالَ وَلَمْ يَقُلْ أَهْرَاقَ الْمَاءَ، قَالَ: فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنْ إِدَاوَةٍ، فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا، فَقُلْتُ لَهُ: الصَّلَاةَ، فَقَالَ: الصَّلَاةُ أَمَامَكَ" فَلَمَّا أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ صَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ نَزَعُوا رِحَالَهُمْ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ".
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ میں سواری پر پیچھے بٹھا لیا تھا) تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھاٹی پر آئے تو اترے، اور پیشاب کیا، (انہوں نے لفظ «بَالَ» کہا «أهراق الماء» نہیں کہا ۱؎) تو میں نے برتن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پانی ڈالا، آپ نے ہلکا پھلکا وضو کیا، میں نے آپ سے عرض کیا: نماز پڑھ لیجئیے، تو آپ نے فرمایا: نماز تمہارے آگے ہے، جب آپ مزدلفہ پہنچے تو مغرب پڑھی، پھر لوگوں نے اپنی سواریوں سے کجاوے اتارے، پھر آپ نے عشاء پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 610]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات سے واپسی پر انہیں اپنے پیچھے اونٹ پر بٹھایا ہوا تھا، کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم (عرفات اور مزدلفہ کے درمیان آنے والی) گھاٹی پر پہنچے تو آپ اترے اور پیشاب فرمایا۔ پھر میں نے لوٹے سے پانی ڈالا اور آپ نے ہلکا سا وضو فرمایا۔ میں نے آپ سے گزارش کی: ”نماز پڑھ لیجیے۔“ آپ نے فرمایا: ”نماز آگے ہوگی۔“ جب مزدلفہ تشریف لائے تو مغرب کی نماز پڑھائی، پھر صحابہ رضی اللہ عنہم نے سواریوں سے پالان وغیرہ اتارے، پھر آپ نے عشاء کی نماز پڑھائی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 610]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 97)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 35 (181)، الحج 95 (1672)، صحیح مسلم/الحج 47 (1280)، سنن ابی داود/المناسک 64 (1925)، مسند احمد 5/200، 202، 208، 210 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ان دونوں لفظوں کے معنی ہیں ”پیشاب کیا“۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح