🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

207. بَابُ: الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ بِالْمُزْدَلِفَةِ
باب: مزدلفہ میں دو نمازیں ایک ساتھ پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3029
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ أَبِي أَيُّوبَ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ".
ابوایوب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء دونوں ایک ساتھ پڑھیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3029]
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کو مزدلفہ میں جمع کر کے پڑھا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3029]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 606 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3030
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، قَالَ: حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ," أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء دونوں مزدلفہ میں ایک ساتھ پڑھیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3030]
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کی نمازیں مزدلفہ میں جمع کر کے پڑھی تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3030]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 609 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3031
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ، لَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا، وَلَا عَلَى إِثْرِ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب و عشاء دونوں ایک ساتھ ایک تکبیر سے پڑھیں، نہ ان دونوں کے بیچ میں کوئی نفل پڑھی، اور نہ ہی ان دونوں نمازوں کے بعد۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3031]
حضرت سالم کے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کی نمازیں مزدلفہ میں ایک اقامت کے ساتھ پڑھی تھیں، ان کے درمیان یا ان کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نوافل ادا نہیں کیے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3031]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 661 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3032
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أَبَاهُ قَالَ:" جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ لَيْسَ بَيْنَهُمَا سَجْدَةٌ، صَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، وَالْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ"، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَجْمَعُ كَذَلِكَ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب و عشاء دونوں ایک ساتھ پڑھیں، ان دونوں کے درمیان اور کوئی نماز نہیں پڑھی۔ مغرب کی تین رکعتیں پڑھیں اور عشاء کی دو رکعتیں۔ اور عبداللہ بن عمر اسی طرح دونوں نمازیں جمع کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ عزوجل سے جا ملے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3032]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کیا۔ ان کے درمیان کوئی نوافل نہیں پڑھے۔ مغرب کی تین رکعات پڑھیں اور عشاء کی دو۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح جمع کرتے تھے حتیٰ کہ اللہ عز وجل سے جا ملے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3032]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج47 (1288)، (تحفة الأشراف: 7309) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3033
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِجَمْعٍ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء دونوں ایک اقامت سے پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3033]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کو مزدلفہ میں ایک اقامت کے ساتھ جمع کیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3033]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 482 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: خود ابن عمر رضی الله عنہما ہی سے ایک دوسری روایت بھی مروی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں نمازیں آپ نے الگ الگ اقامت کے ساتھ جمع کیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح بزيادة لكل منهما
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3034
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، أَنَّ كُرَيْبًا، قَالَ: سَأَلْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، وَكَانَ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ، فَقُلْتُ: كَيْفَ فَعَلْتُمْ؟ قَالَ:" أَقْبَلْنَا نَسِيرُ، حَتَّى بَلَغْنَا الْمُزْدَلِفَةَ، فَأَنَاخَ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَى الْقَوْمِ، فَأَنَاخُوا فِي مَنَازِلِهِمْ، فَلَمْ يَحُلُّوا حَتَّى صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، ثُمَّ حَلَّ النَّاسُ، فَنَزَلُوا، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا، انْطَلَقْتُ عَلَى رِجْلَيَّ فِي سُبَّاقِ قُرَيْشٍ وَرَدِفَهُ الْفَضْلُ.
کریب کہتے ہیں کہ میں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے اور وہ عرفہ کی شام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھے پوچھا: آپ لوگوں نے کیسے کیا؟ انہوں نے کہا: ہم چلتے رہے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کو بٹھایا، پھر مغرب پڑھی، پھر آپ نے لوگوں کو (اترنے کی اطلاع) بھیجی، تو لوگوں نے اپنے اپنے ٹھکانوں پر اپنے اونٹ بٹھا لیے۔ تو ابھی وہ اتر بھی نہ سکے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری نماز عشاء بھی پڑھ لی۔ پھر لوگ اترے اور قیام کیا، پھر صبح کی تو میں قریش کے پہلے جتھے والوں کے ساتھ پیدل گیا۔ اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (اونٹ پر) سوار ہوئے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3034]
حضرت کریب رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے پوچھا، کیونکہ وہ عرفہ کی شام (واپسی کے وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر بیٹھے تھے، میں نے کہا: آپ نے کیسے کیا؟ انہوں نے فرمایا: ہم چلتے آئے حتیٰ کہ مزدلفہ پہنچ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور مغرب کی نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو پیغام بھیجا تو انہوں نے اپنے اونٹوں کو اپنی قیام گاہوں میں بٹھایا، لیکن انہوں نے سامان نہیں اتارا حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھائی، پھر لوگوں نے اپنا سامان وغیرہ اتارا اور اپنی قیام گاہوں میں ٹھہرے۔ جب صبح ہوئی تو میں قریش کے جلد جانے والوں میں پیدل چل پڑا اور حضرت فضل رضی اللہ عنہما آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر بیٹھ گئے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3034]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج 64 (1921)، سنن ابن ماجہ/الحج 59 (3019)، موطا امام مالک/الحج 65 (197)، (تحفة الأشراف: 116)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 6 (139)، 35 (181)، الحج 93، 95 (1667، 1669، 1672)، صحیح مسلم/الحج45، 47 (1280)، مسند احمد (5/200، 202، 208، 210)، سنن الدارمی/المناسک 51 (1922) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں