سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
211. باب : فيمن لم يدرك صلاة الصبح مع الإمام بالمزدلفة
باب: مزدلفہ میں فجر امام کے ساتھ نہ پڑھ سکنے والے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3048
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَحَدَّثَنَا , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمُزْدَلِفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ".
ابو جعفر بن محمد باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پورا مزدلفہ موقف (ٹھہرنے کی جگہ) ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3048]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مزدلفہ سارے کا سارا وقوف کی جگہ ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3048]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3018 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3018
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَحَدَّثَنَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" عَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ".
ابو جعفر بن محمد باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے تو ہم ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے متعلق پوچھا تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عرفات سارا کا سارا موقف (ٹھہرنے کی جگہ) ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3018]
امام محمد باقر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس گئے اور ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عرفات سارے کا سارا وقوف کی جگہ ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3018]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 20 (1218)، سنن ابی داود/الحج 57 (1907، 1908)، 65 (1936)، (تحفة الأشراف: 2596)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحج 73 (3048)، مسند احمد 3/321، 326، سنن الدارمی/المناسک 50 (1921)، ویأتی عند المؤلف برقم: 3048 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن