سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
67. باب : التزويج على نواة من ذهب
باب: کھجور کی گٹھلی برابر سونے کے عوض شادی کرانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3353
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ , عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهِ أَثَرُ الصُّفْرَةِ، فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَمْ سُقْتَ إِلَيْهَا؟" قَالَ: زِنَةَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ".
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ان پر زردی کا اثر تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے آپ کو بتایا کہ انہوں نے ایک انصاری عورت سے شادی کر لی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کتنا مہر دیا ہے اسے؟ انہوں نے کہا: ایک «نواۃ» (کھجور کی گٹھلی) برابر سونا ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولیمہ ۲؎ کرو چاہے ایک بکری سے ہی کیوں نہ ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3353]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو ان پر «صُفْرَة» (زرد رنگ) کے نشانات تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے سبب پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کر لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اسے کیا مہر دیا؟“ انہوں نے کہا: سونے کا ایک «نَوَاة» (گٹھلی)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولیمہ کر اگرچہ ایک بکری ہی کا ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3353]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 1 (2049)، ومناقب الأنصار 3 (3781)، 50 والنکاح 7 (5072)، 49 (5138)، 54 (5153)، 56 (5155)، 68 (5167)، الأدب 67 (6082)، الدعوات 53 (6386)، (تحفة الأشراف: 736)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/النکاح 13 (1427)، سنن ابی داود/النکاح 30 (2190)، سنن الترمذی/النکاح 10 (1094)، سنن ابن ماجہ/النکاح 24 (1907)، مسند احمد (3/165، 190، 190، 205، 271)، سنن الدارمی/الأطعمة 28 (2108)، النکاح 22 (2250) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اہل حساب کی اصطلاح میں «نواۃ» پانچ درہم کے وزن کو کہتے ہیں۔ ۲؎: یہ بات آپ نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کی مالی حیثیت دیکھ کر کہی تھی کہ ولیمہ میں کم سے کم ایک بکری ضرور ہو اس سے اس بات پر استدلال درست نہیں کہ ولیمہ میں گوشت ضروری ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی الله عنہا کے ولیمہ میں ستو اور کھجور ہی پر اکتفا کیا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 3374
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَثَرَ صُفْرَةٍ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ:" بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن (عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ) کے کپڑے پر زردی کا نشان دیکھا تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: کھجور کی گٹھلی کے وزن برابر سونا دے کر میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے۔ آپ نے فرمایا: «بارك اللہ لك» ”اللہ تمہیں اس نکاح میں برکت دے“ ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3374]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے جسم پر «صُفْرَة» (خوشبو) کا نشان دیکھا تو فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: میں نے ایک عورت سے سونے کا سکہ «نَوَاة» مہر مقرر کر کے شادی کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «بَارَكَ اللَّهُ لَكَ» ”اللہ تعالیٰ تیرے لیے (اس نکاح میں) برکت فرمائے۔ ولیمہ ضرور کرنا، چاہے ایک بکری کے ساتھ ہی ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3374]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النکاح 56 (5155)، الدعوات 53 (6386)، صحیح مسلم/النکاح 13 (1427)، سنن الترمذی/النکاح 10 (1094)، سنن ابن ماجہ/النکاح 24 (1907)، (تحفة الأشراف: 288)، مسند احمد (3/226) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 3375
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ , أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ جَاءَ وَعَلَيْهِ رَدْعٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَهْيَمْ؟" قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، قَالَ: وَمَا أَصْدَقْتَ؟ قَالَ: وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ:" أَوْلِمْ، وَلَوْ بِشَاةٍ".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ آئے اور ان پر زعفران کے رنگ کا اثر تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے (یہ اسی کا اثر و نشان ہے)۔ آپ نے پوچھا؟ مہر کتنا دیا؟ کہا: کھجور کی گٹھلی کے وزن کے برابر سونا، آپ نے فرمایا: ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کیوں نہ ہو۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3375]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آئے تو ان (کے جسم یا کپڑوں) پر زعفران کے نشانات تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کیسے؟“ انہوں نے کہا: میں نے شادی کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا مہر دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: سونے کا سکہ «نَوَاةٍ» ”نواۃ“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولیمہ بھی کرنا اگرچہ ایک بکری ہی کا ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3375]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/النکاح 30 (2109)، (تحفة الأشراف: 339) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3376
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَزِيرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ، كَأَنَّهُ يَعْنِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ، فَقَالَ:" مَهْيَمْ؟" قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ:" أَوْلِمْ، وَلَوْ بِشَاةٍ".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر زردی کا اثر دیکھا (مجھ سے مراد عبدالرحمٰن بن عوف ہیں) پوچھا یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے (یہ اسی کا نشان ہے)، آپ نے فرمایا: ”ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3376]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ پر صفرہ (زرد خوشبو) کا نشان دیکھا تو فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولیمہ کرنا، چاہے ایک بکری ہی کا ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3376]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 798)، ویأتي عند المؤلف برقم: 3390 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3390
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَزِيرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ:" آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ، فَآخَى بَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ , وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: إِنَّ لِي مَالًا، فَهُوَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ شَطْرَانِ، وَلِي امْرَأَتَانِ، فَانْظُرْ أَيُّهُمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ فَأَنَا أُطَلِّقُهَا، فَإِذَا حَلَّتْ فَتَزَوَّجْهَا، قَالَ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ، دُلُّونِي أَيْ عَلَى السُّوقِ، فَلَمْ يَرْجِعْ حَتَّى رَجَعَ بِسَمْنٍ، وَأَقِطٍ قَدْ أَفْضَلَهُ، قَالَ: وَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ أَثَرَ صُفْرَةٍ، فَقَالَ:" مَهْيَمْ؟" فَقُلْتُ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ:" أَوْلِمْ، وَلَوْ بِشَاةٍ".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش اور انصار کے درمیان مواخات یعنی بھائی چارہ قائم کر دیا، تو سعد بن ربیع اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما کو ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا۔ سعد (انصاری) رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میرے پاس مال ہے اس کا آدھا تمہارا ہے اور آدھا میرا اور میری دو بیویاں ہیں تو دیکھو ان میں سے جو تمہیں زیادہ اچھی لگے اسے میں طلاق دے دیتا ہوں، جب وہ عدت گزار کر پاک و صاف ہو جائے تو تم اس سے شادی کر لو۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: اللہ تمہاری بیویوں اور تمہارے مال میں تمہیں برکت عطا کرے۔ مجھے تو تم بازار کی راہ دکھا دو، (پھر وہ بازار گئے) اور گھی اور پنیر نفع میں کما کر لائے بغیر نہ لوٹے۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر زردی کا نشان دیکھا تو کہا: یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: میں نے ایک انصاری لڑکی سے شادی کی ہے تو آپ نے فرمایا: ”ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کا سہی“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3390]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ہجرت کے موقع پر) قریش (مہاجرین) اور انصار کے درمیان بھائی چارہ فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن ربیع (انصاری) اور حضرت عبدالرحمن بن عوف (مہاجر) رضی اللہ عنہما کو آپس میں بھائی بھائی بنایا، چنانچہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میرے پاس جو بھی مال ہے وہ میرے اور تیرے درمیان مشترک ہے، میری دو بیویاں ہیں، دیکھ جو تجھے اچھی لگے، میں اسے طلاق دے دیتا ہوں، جب عدت ختم ہو تو اس سے نکاح کر لینا، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ تیرے گھر بار میں برکت فرمائے (میں کچھ نہیں لوں گا)، مجھے بتاؤ تجارتی بازار کدھر ہے؟ جب واپس آئے تو (کاروبار کے ذریعے سے) کچھ گھی اور پنیر بچا لائے تھے، حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا کہ (چند دن بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر صفرہ خوشبو کے نشان دیکھے تو فرمایا: ”یہ کیسے؟“ میں نے عرض کیا: میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کر لی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولیمہ کرنا، چاہے ایک بکری ہی کا ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3390]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3376 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن