🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب : إحلال المطلقة ثلاثا وما فيه من التغليظ
باب: تین طلاق والی عورت سے حلالہ کرنے اور کرانے والے کے لیے وارد وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3445
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاشِمَةَ وَالْمُوتَشِمَةَ، وَالْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ، وَآكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ، وَالْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے گودنے اور گودانے والی پر اور بالوں کو (بڑا کرنے کے لیے) جوڑنے والی اور جوڑوانے والی پر اور سود کھانے والے پر اور سود کھلانے والے پر اور حلالہ کرنے پر اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے اس پر۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3445]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/النکاح 28 (1120) مختصراً، (تحفة الأشراف: 9595)، مسند احمد (1/448، 462، سنن الدارمی/النکاح 53 (2304) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5102
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاشِمَاتِ، وَالْمُوتَشِمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گودنے والی، گودوانے والی، پیشانی کے بال اکھاڑنے والی، خوبصورتی کے لیے دانتوں کے درمیان کشادگی کروانے والی، اور اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی چیز کو بدلنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 5102]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیرسورة الحشر 4 (4886)، اللباس 82 (5931)، 84 (5939)، 85 (5943)، 86 (5944)، 87 (5948)، صحیح مسلم/اللباس 33 (2125)، سنن ابی داود/الترجل 5 (4169)، سنن الترمذی/الأدب 33 (2782)، سنن ابن ماجہ/النکاح 52 (1989)، (تحفة الأشراف: 9450)، مسند احمد (1/433، 443، 465)، سنن الدارمی/الإستئذان 19 (2689)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5110- 5112، 5254- 5257 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: چونکہ یہ سارے اعمال ممنوع ہیں اس لیے ان کو کرنے والے اور ان کے کرنے میں مدد دینے والے سب پر لعنت کی گئی ہے، دانتوں میں کشادگی کے لیے، دانتوں کی تراش خراش کرنی پڑتی ہے اور یہ عمل قدرتی دانتوں میں تبدیلی ہے جو اللہ کی تخلیق میں دخل دینا ہے اس لیے یہ عمل بھی ممنوع ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5105
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُرَّةَ يُحَدِّثُ , عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" آكِلُ الرِّبَا وَمُوكِلُهُ، وَكَاتِبُهُ إِذَا عَلِمُوا ذَلِكَ، وَالْوَاشِمَةُ، وَالْمَوْشُومَةُ لِلْحُسْنِ، وَلَاوِي الصَّدَقَةِ، وَالْمُرْتَدُّ أَعْرَابِيًّا بَعْدَ الْهِجْرَةِ، مَلْعُونُونَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سود کھانے والا، کھلانے والا، اور اس کا لکھنے والا ۱؎ جب کہ وہ اسے جانتا ہو (کہ یہ حرام ہے) اور خوبصورتی کے لیے گودنے اور گودوانے والی عورتیں، صدقے کو روکنے والا اور ہجرت کے بعد لوٹ کر اعرابی (دیہاتی) ہو جانے والا ۲؎ یہ سب قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ملعون ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 5105]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9195)، مسند احمد (1/409، 430، 465)، وراجع أیضا: صحیح مسلم/المساقاة 19 (1597)، سنن ابی داود/البیوع 4 (3333)، سنن الترمذی/البیوع 2 (1206)، سنن ابن ماجہ/التجارات 58 (2277)، مسند احمد (1/ 393، 394، 402، 453) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سود کھانا اور کھلانا تو اصل گناہ ہے، اور حساب کتاب گناہ میں تعاون کی قبیل سے ہے اس لیے وہ بھی حرام ہے اور موجب لعنت ہے۔ اسی طرح وہ کام جو اس حرام کام میں ممدو معاون ہوں موجب لعنت ہیں۔ ۲؎: یہ اس وقت کے تناظر میں تھا جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہ کر ان کی مدد کرنی واجب تھی اور مدینہ کے علاوہ مسلمانوں کا کوئی مرکزی بھی نہیں تھا، اگر دنیا میں کہیں اب بھی ایسی صورت حال پیدا ہو جائے تو دنیاوی منفعت کی خاطر مرکز اسلام کو چھوڑ کر دوسری جگہ منتقل ہو جانے کا یہی حکم ہو گا، مگر اب ایسا کہاں؟۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، حارث الأعور ضعيف،. ولبعض الحديث شواهد صحيحة. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 360

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5110
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ الْعُرْيَانِ بْنِ الْهَيْثَمِ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَلْعَنُ الْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ، وَالْمُوتَشِمَاتِ اللَّاتِي يُغَيِّرْنَ خَلْقَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چہرے کے بال اکھاڑنے والی، دانتوں کے درمیان کشادگی کرانے والی اور گودانے والی عورتوں پر لعنت فرماتے ہوئے سنا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی خلقت کو تبدیل کرتی ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 5110]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد النسائي (تحفة الأشراف: 9536)، مسند احمد (1/416، 417)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 5111، 5112) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5111
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ الْعُرْيَانِ بْنِ الْهَيْثَمِ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَلْعَنُ الْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ، وَالْمُوتَشِمَاتِ اللَّاتِي يُغَيِّرْنَ خَلْقَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بال اکھاڑنے والی، دانتوں کے درمیان کشادگی کرانے والی اور گودوانے والی عورتوں پر لعنت کرتے سنا، جو اللہ کی خلقت کو تبدیل کرتی ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 5111]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5110 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5112
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ الْعُرْيَانِ بْنِ الْهَيْثَمِ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَعَنَ اللَّهُ الْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُوتَشِمَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ اللَّاتِي يُغَيِّرْنَ خَلْقَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ لعنت فرمائے بال اکھاڑنے والی، گودوانے والی اور دانتوں میں کشادگی کرانے والی عورتوں پر، جو اللہ تعالیٰ کی خلقت کو تبدیل کرتی ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 5112]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5110 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5254
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ الْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ" , أَلَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ چہرہ کے روئیں اکھاڑنے والی اور دانتوں کو کشادہ کرنے والی عورتوں پر اللہ نے لعنت فرمائی ہے، کیا میں اس پر لعنت نہ بھیجوں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 5254]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5102 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5255
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يُحَدِّثُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاشِمَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جسم پر) گودنا گودنے والی، خوبصورتی کے لیے دانتوں کے درمیان کشادگی کروانے والی، پیشانی کے بال اکھاڑنے والی اور اللہ کی بنائی ہوئی چیز کو بدلنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 5255]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5103 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5256
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ الْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ، وَالْمُتَوَشِّمَاتِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ" , فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ: كَذَا وَكَذَا؟ , قَالَ: وَمَا لِي لَا أَقُولُ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے چہرہ کے بال اکھاڑنے والی، دانتوں میں کشادگی کرنے والی، گودنا گودانے والی اور اللہ کی فطرت کو تبدیل کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے، چنانچہ ایک عورت ان کے پاس آ کر کہا: آپ ہی ایسا ایسا کہتے ہیں؟ وہ بولے: آخر میں وہ بات کیوں نہ کہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 5256]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9604) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5257
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ , يَقُولُ:" لَعَنَ اللَّهُ الْمُتَوَشِّمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ أَلَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ گودنا گودانے والی، چہرے کے بال اکھاڑنے والی اور دانتوں کے درمیان کشادگی کرانے والی عورتوں پر اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے۔ کیا میں اس پر لعنت نہ بھیجوں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 5257]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5103 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں