سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب : ذكر اختلاف ألفاظ الناقلين لخبر النعمان بن بشير في النحل
باب: عطیہ و ہبہ (بخشش) کے سلسلہ میں نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کی حدیث کے ناقلین کے سیاق کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 3708
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ بَشِيرًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ نَحَلْتُ النُّعْمَانَ نِحْلَةً، قَالَ:" أَعْطَيْتَ لِإِخْوَتِهِ، قَالَ: لَا، قَالَ: فَارْدُدْهُ.
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ بشیر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے نبی! میں نے (اپنے بیٹے) نعمان کو ایک عطیہ دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اس کے بھائیوں کو بھی دیا ہے؟“، انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”جو دیا ہے اسے واپس لے لو“۔ [سنن نسائي/كتاب النحل/حدیث: 3708]
حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت بشیر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں نے نعمان کو ایک تحفہ دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے بھائیوں کو بھی دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اسے بھی واپس کر۔“ [سنن نسائي/كتاب النحل/حدیث: 3708]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3705 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3714
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ. ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ مُحَمَّدٌ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى ابْنِي بِصَدَقَةٍ فَاشْهَدْ، فَقَالَ:" هَلْ لَكَ وَلَدٌ غَيْرُهُ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَعْطَيْتَهُمْ كَمَا أَعْطَيْتَهُ، قَالَ: لَا، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ".
عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: میں نے اپنے بیٹے کو کچھ ہبہ کیا ہے تو آپ اس پر گواہ ہو جائیے۔ آپ نے فرمایا: ”کیا اس کے علاوہ بھی تمہارے پاس کوئی اور لڑکا ہے؟“، انہوں نے کہا: جی ہاں، (ہے) آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے انہیں بھی ایسا ہی دیا ہے جیسے تم نے اسے دیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”تو کیا میں ظلم پر گواہی دوں گا؟“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النحل/حدیث: 3714]
حضرت عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے اپنے بیٹے کو عطیہ دیا ہے، آپ گواہ ہو جائیے۔ آپ نے فرمایا: ”کیا اس کے علاوہ بھی تیری اولاد ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے اس کی طرح انہیں بھی عطیات دیے ہیں؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”تو کیا میں ظلم پر گواہ بنوں؟“ [سنن نسائي/كتاب النحل/حدیث: 3714]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 6580) (صحیح) (یہ مرسل ہے ’’عبداللہ بن عتبہ تابعی ہیں“مگر اگلی سندوں سے یہ روایت صحیح ہے)»
وضاحت: ۱؎: تمہارا دوسرے بیٹوں کو محروم کر کے ایک کو دینا اور اس پر مجھ سے گواہ بننے کے لیے کہنا گویا یہ مطالبہ کرنا ہے کہ میں اس ظلم و زیادتی کی تائید کروں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح