🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب : الكفارة قبل الحنث
باب: قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3811
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ، ثُمَّ لَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ، فَأُتِيَ بِإِبِلٍ فَأَمَرَ لَنَا بِثَلَاثِ ذَوْدٍ فَلَمَّا انْطَلَقْنَا، قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ: لَا يُبَارِكُ اللَّهُ لَنَا , أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا. قَالَ أَبُو مُوسَى: فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" مَا أَنَا حَمَلْتُكُمْ بَلِ اللَّهُ حَمَلَكُمْ , إِنِّي وَاللَّهِ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اشعریوں کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، ہم آپ سے سواریاں مانگ رہے تھے ۱؎، آپ نے فرمایا: قسم اللہ کی! میں تمہیں سواریاں نہیں دے سکتا، میرے پاس کوئی سواری ہے بھی نہیں جو میں تمہیں دوں، پھر ہم جب تک اللہ نے چاہا ٹھہرے رہے، اتنے میں کچھ اونٹ لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے تین اونٹوں کا حکم دیا، تو جب ہم چلنے لگے تو ہم میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: اللہ تعالیٰ ہمیں برکت نہیں دے گا۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواریاں طلب کرنے آئے تو آپ نے قسم کھائی کہ آپ ہمیں سواریاں نہیں دیں گے۔ ابوموسیٰ اشعری کہتے ہیں: تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: میں نے تمہیں سواریاں نہیں دی ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے دی ہیں، قسم اللہ کی! میں کسی بات کی قسم کھاتا ہوں، پھر میں اس کے علاوہ کو بہتر سمجھتا ہوں تو میں اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں اور جو بہتر ہوتا ہے کرتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3811]
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں کچھ اشعری افراد کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ہم آپ سے (جہاد کے سلسلے میں) سواریاں مانگنے آئے تھے۔ آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہیں سواریاں نہیں دوں گا اور نہ میرے پاس سواریاں ہیں۔ پھر ہم ٹھہرے رہے جتنی دیر اللہ نے چاہا کہ (بعد میں) آپ کے پاس کچھ اونٹ لائے گئے۔ آپ نے ہمیں تین اونٹ دینے کا حکم دیا۔ جب ہم اونٹ لے کر چل پڑے تو ہم نے ایک دوسرے سے کہا: اللہ تعالیٰ ہمارے لیے ان اونٹوں میں برکت نہیں فرمائے گا کیونکہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواریاں مانگنے آئے تھے تو آپ نے قسم کھائی تھی کہ میں سواریاں نہیں دوں گا۔ (اب شاید آپ قسم بھول گئے ہیں۔ یہ سوچ کر) ہم دوبارہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے ساری بات ذکر کی۔ آپ نے فرمایا: میں نے تمہیں سواریاں نہیں دیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے دی ہیں۔ اللہ کی قسم! اگر میں کسی چیز پر قسم کھا لوں، پھر میں اس کی بجائے کوئی اور چیز بہتر سمجھوں تو میں قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں اور بہتر کام کر لیتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3811]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأیمان 1 (6623)، کفارات الأیمان 9 (6718)، صحیح مسلم/الأیمان 3 (1649)، سنن ابی داود/الأیمان 17 (3276)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 7 (2107)، (تحفة الأشراف: 9122)، مسند احمد (4/398) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سواریوں کا مطالبہ غزوہ تبوک میں شریک ہونے کے لیے کیا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3810
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، عَنْ زَهْدَمٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا عَلَى الْأَرْضِ يَمِينٌ أَحْلِفُ عَلَيْهَا فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُهُ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمین پر کوئی ایسی قسم نہیں جو میں کھاؤں پھر اس کے سوا کو اس سے بہتر سمجھوں مگر میں وہی کروں گا (جو بہتر ہو گا)۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3810]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس زمین کی جس چیز پر بھی قسم کھا لوں، پھر اس کے علاوہ کسی اور چیز کو بہتر دیکھوں تو میں وہ بہتر کام کروں گا۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3810]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الخمس 15 (3133)، المغازي 74 (4385)، الصید26(5517)، الأیمان 1 (6623)، 4 (6649)، 18 (6680)، کفارات الأیمان 9 (6718)، 10(6721)، والتوحید 56 (7555)، صحیح مسلم/الأیمان 3 (1649)، سنن الترمذی/الأطعمة 25 (1826، 1827)، (تحفة الأشراف: 8990)، مسند احمد (4/394، 397، 398، 404401، 418)، سنن الدارمی/الأطعمة 22 (2100)، ویأتي عند المؤلف في الصید (برقم: 4351) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں