سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب : ذكر اختلاف طلحة بن مصرف ومعاوية بن صالح على يحيى بن سعيد في هذا الحديث
باب: اس حدیث میں یحییٰ بن سعید سے روایت کرنے میں طلحہ بن مصرف اور معاویہ بن صالح کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4047
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَطَّعَ الَّذِينَ سَرَقُوا لِقَاحَهُ , وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ بِالنَّارِ، عَاتَبَهُ اللَّهُ فِي ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ سورة المائدة آية 33 الْآيَةَ كُلَّهَا".
ابوالزناد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کے ہاتھ کاٹے جن ہوں نے آپ کی اونٹنیاں چرائی تھیں اور آگ سے ان کی آنکھوں کو پھوڑا تو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلے میں آپ کی سرزنش کی ۱؎، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ مکمل آیت اتاری «إنما جزاء الذين يحاربون اللہ ورسوله» ”ان لوگوں کا بدلہ جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں … الخ“۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4047]
حضرت ابو الزناد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے ہاتھ کاٹے جنہوں نے آپ کی دودھ والی اونٹنیاں چرائی تھیں اور ان کی آنکھیں آگ (پر گرم کی ہوئی سلائیوں) کے ساتھ پھوڑ دیں تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں آپ پر اظہارِ ناراضی فرمایا اور یہ پوری آیت اتری: ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ﴾ [سورة المائدة: 33] ۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4047]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (ضعیف الإسناد) (یہ روایت معضل ہے، سند سے ابو الزناد کے بعد دو آدمی ساقط ہیں)»
وضاحت: ۱؎: یہ اثر ضعیف ہے اور اس میں یہ بات کہ ابوالزناد نے اللہ تعالیٰ کی جانب سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق عتاب کی جو بات کہی ہے غیر مناسب ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے ساتھ وہی سلوک اپنایا جو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چروا ہوں کے ساتھ اپنایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے سلوک پر صاد کیا، صرف آنکھیں پھوڑنے کی ممانعت کر دی۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4370) السند مرسل وابن عجلان عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 351
حدیث نمبر: 306
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قال: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ أُنَاسًا أَوْ رِجَالًا مِنْ عُكْلٍ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمُوا بِالْإِسْلَامِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أَهْلُ ضَرْعٍ وَلَمْ نَكُنْ أَهْلَ رِيفٍ وَاسْتَوْخَمُوا الْمَدِينَةَ" فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَرَاعٍ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فِيهَا فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا". فَلَمَّا صَحُّوا وَكَانُوا بِنَاحِيَةِ الْحَرَّةِ، كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ وَقَتَلُوا رَاعِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي آثَارِهِمْ، فَأُتِيَ بِهِمْ فَسَمَرُوا أَعْيُنَهُمْ وَقَطَعُوا أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، ثُمَّ تُرِكُوا فِي الْحَرَّةِ عَلَى حَالِهِمْ حَتَّى مَاتُوا.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ قبیلہ عکل کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور اپنے اسلام لانے کی بات کی، اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! ہم لوگ مویشی والے ہیں (جن کا گزارہ دودھ پر ہوتا ہے) ہم کھیتی باڑی والے نہیں ہیں، مدینہ کی آب و ہوا انہیں راس نہیں آئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ انہیں کچھ اونٹ اور ایک چرواہا دے دیا جائے، اور ان سے کہا کہ وہ جا کر مدینہ سے باہر رہیں، اور ان جانوروں کے دودھ اور پیشاب پئیں ۱؎ چنانچہ وہ باہر جا کر حرّہ کے ایک گوشے میں رہنے لگے جب اچھے اور صحت یاب ہو گئے، تو اپنے اسلام لے آنے کے بعد کافر ہو گئے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا، اور اونٹوں کو ہانک لے گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے تعاقب کرنے والوں کو ان کے پیچھے بھیجا (چنانچہ وہ پکڑ لیے گئے اور) آپ کے پاس لائے گئے، تو لوگوں نے ان کی آنکھوں میں آگ کی سلائی پھیر دی ۲؎، اور ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئیے، پھر اسی حال میں انہیں (مقام) حرہ میں چھوڑ دیا گیا یہاں تک کہ وہ سب مر گئے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 306]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عکل قبیلے کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کلمۂ اسلام پڑھا، پھر وہ کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول! ہم اونٹوں والے لوگ ہیں، کھیتی والے نہیں“ اور انہوں نے مدینے کی آب و ہوا کو ناموافق پایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اونٹوں اور چرواہے کا حکم دیا اور انہیں حکم دیا کہ ان میں چلے جائیں اور ان کے دودھ اور پیشاب پئیں۔ پھر جب وہ تندرست ہو گئے اور وہ حرہ کے ایک کنارے میں رہ رہے تھے، وہ اسلام لانے کے بعد پھر کافر ہو گئے۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا اور آپ کے اونٹ ہانک کر لے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے ان کے پیچھے تلاش کرنے والے بھیجے۔ آخر کار انہیں پکڑ کر لایا گیا تو مسلمانوں نے ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیریں اور ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے، پھر انہیں اسی زخمی حالت میں حرہ میں چھوڑ دیا گیا حتیٰ کہ وہ (تڑپتے تڑپتے) مر گئے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 306]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 66 (233)، الزکاة 68 (1501)، الجھاد 184 (3064)، المغازي 36 (4192)، الطب 5 (5685)، 29/5727، الحدود 15 (6802)، 18 (6805)، الدیات 22 (6899)، صحیح مسلم/القسامة 2 (1671)، (تحفة الأشراف: 1176)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة 38 (1845)، الطب 6 (2042)، سنن ابن ماجہ/فیہ 30 (3503)، مسند احمد 3/161، 163، 170، 233، ویأتي عند المؤلف برقم: 4037 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ علاج کے طور پر اونٹ کا پیشاب پیا جا سکتا ہے اس میں کوئی حرج نہیں، اکثر اہل علم کا یہی قول ہے کہ جن جانورں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کا پیشاب پاک ہے، اور بوقت ضرورت ان کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں۔ ۲؎: ایک روایت میں انس رضی اللہ عنہ نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں سلائیاں اس وجہ سے پھیریں کہ ان لوگوں نے بھی چرواہے کی آنکھوں میں سلائیاں پھیری تھیں، لیکن یہ روایت بقول امام ترمذی غریب ہے، یحییٰ بن غیلان کے علاوہ کسی نے بھی اس میں یزید بن زریع کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 307
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، قال: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قال: قَدِمَ أَعْرَابٌ مِنْ عُرَيْنَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْلَمُوا فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ حَتَّى اصْفَرَّتْ أَلْوَانُهُمْ وَعَظُمَتْ بُطُونُهُمْ، فَبَعَثَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى لِقَاحٍ لَهُ" وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا". حَتَّى صَحُّوا، فَقَتَلُوا رَاعِيَهَا وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ، فَبَعَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ، فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ. قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَبْدُ الْمَلِكِ لِأَنَسٍ وَهُوَ يُحَدِّثُهُ هَذَا الْحَدِيثَ: بِكُفْرٍ أَمْ بِذَنْبٍ؟ قَالَ: بِكُفْرٍ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَا نَعْلَمُ أَحَدًا، قَالَ: عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَنَسٍ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ طَلْحَةَ، وَالصَّوَابُ عِنْدِي وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ يَحْيَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، مُرْسَلٌ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قبیلہ عرینہ کے کچھ اعرابی (دیہاتی) آئے، اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا، لیکن مدینہ کی آب و ہوا انہیں راس نہیں آئی، یہاں تک کہ ان کے رنگ زرد ہو گئے، اور پیٹ پھول گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی اونٹنیوں کے پاس بھیج دیا ۱؎ اور انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے دودھ اور پیشاب پئیں، یہاں تک کہ وہ صحت یاب ہو گئے، تو ان لوگوں نے آپ کے چرواہے کو قتل کر ڈالا، اور اونٹوں کو ہانک لے گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو ان کے تعاقب میں بھیجا، چنانچہ انہیں پکڑ کر آپ کی خدمت میں لایا گیا، تو آپ نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے، اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائی پھیر دی۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 307]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عرینہ قبیلے کے کچھ بدوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور مسلمان ہو گئے لیکن انہوں نے مدینے کی آب و ہوا کو ناموافق پایا حتیٰ کہ ان کے رنگ زرد ہو گئے اور ان کے پیٹ بڑھ گئے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی دودھ والی اونٹنیوں میں بھیج دیا اور ان سے فرمایا: ”ان کا دودھ اور ان کا پیشاب پیئیں۔“ حتیٰ کہ وہ تندرست ہو گئے تو انہوں نے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹ ہانک کر لے گئے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پکڑنے کے لیے آدمی بھیجے۔ وہ (پکڑ کر) لائے گئے تو آپ نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیریں۔ امیر المومنین عبدالملک نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا جب کہ وہ انہیں حدیث بیان کر رہے تھے: ”(ان کی یہ سزا) کفر کی وجہ سے تھی یا گناہ کی وجہ سے؟“ انہوں نے کہا: ”کفر کی وجہ سے۔“ امام ابو عبدالرحمٰن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ”ہم نہیں جانتے کہ طلحہ کے علاوہ کسی راوی نے اس حدیث میں «عَنْ يَحْيَى عَنْ أَنَسٍ» ”یحییٰ سے، انہوں نے انس سے“ کہا ہو۔ میرے نزدیک صحیح سند یوں ہے: یحییٰ (بن سعید) عن سعید بن المسیب۔ گویا یہ حدیث مرسل ہے۔ (اس میں حضرت انس کا ذکر نہیں ہونا چاہیے۔) «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتا ہے۔““ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 307]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1664)، ویأتي عند المؤلف برقم: 4040 (صحیح الاسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4029
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ مَوْلَى أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قِلَابَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ ثَمَانِيَةً , قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَوْخَمُوا الْمَدِينَةَ وَسَقِمَتْ أَجْسَامُهُمْ، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" أَلَا تَخْرُجُونَ مَعَ رَاعِينَا فِي إِبِلِهِ فَتُصِيبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا"، قَالُوا: بَلَى، فَخَرَجُوا، فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، فَصَحُّوا , فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ فَأَخَذُوهُمْ , فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ , وَأَرْجُلَهُمْ , وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ , وَنَبَذَهُمْ فِي الشَّمْسِ حَتَّى مَاتُوا.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ عکل کے آٹھ آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہیں آئی، بیمار پڑ گئے، انہوں نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تم ہمارے چرواہوں کے ساتھ اونٹوں میں جا کر ان کا دودھ اور پیشاب پیو گے؟“ وہ بولے: کیوں نہیں، چنانچہ وہ نکلے اور انہوں نے ان کا دودھ اور پیشاب پیا ۲؎، تو اچھے ہو گئے، اب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے کچھ لوگ روانہ کئے، جنہوں نے انہیں گرفتار کر لیا، جب انہیں لایا گیا تو آپ نے ان کے ہاتھ اور قبیلہ عرینہ کے مجرمین کے پاؤں کاٹ دئیے، ان کی آنکھیں (گرم سلائی سے) پھوڑ دیں اور انہیں دھوپ میں ڈال دیا گیا یہاں تک کہ وہ مر گئے ۳؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4029]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عکل قبیلہ کے آٹھ آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے (اور قبول اسلام ظاہر کیا)۔ پھر انہوں نے مدینہ کی آب و ہوا کو موافق نہ پایا اور ان کے جسم کمزور پڑ گئے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی شکایت کی۔ آپ نے فرمایا: ”تم ہمارے چرواہے کے ساتھ اس کے (باہر رہنے والے) اونٹوں میں کیوں نہیں چلے جاتے کہ تم ان اونٹوں کے دودھ اور پیشاب پیو؟“ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ وہ وہاں چلے گئے اور (اونٹوں کا) دودھ اور پیشاب پیتے رہے۔ وہ تندرست ہو گئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پکڑنے کے لیے آدمی بھیجے۔ انہوں نے ان لوگوں کو جا پکڑا، چنانچہ ان کو آپ کے پاس لایا گیا تو آپ نے ان کے ہاتھ پاؤں سختی کے ساتھ کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیریں، پھر ان کو دھوپ میں پھینک دیا حتیٰ کہ وہ مر گئے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4029]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 66 (233)، الجہاد 152 (3018)، صحیح مسلم/القسامة 2 (1671)، سنن ابی داود/الحدود 3 (4364)، سنن الترمذی/الطہارة 55 (72)، (تحفة الأشراف: 945)، مسند احمد (3/161، 186، 198)، ویأتي فیما یلي: 4030- 4040 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس آیت کے سبب نزول کے سلسلہ میں علماء کا اختلاف ہے، جمہور کا کہنا ہے کہ اس کا نزول قبیلہ عرنین کے مجرمین کے بارے میں ہوا ہے جب کہ مالک، شافعی، ابوثور اور اصحاب رأے کا کہنا ہے کہ اس کے نزول کا تعلق مسلمانوں میں سے ہر اس شخص سے ہے جو رہزنی اور زمین میں فساد برپا کرے، امام بخاری اور امام نسائی جمہور کے موافق ہیں۔ ۲؎: جمہور علماء محدثین کے نزدیک جن جانوروں کا گوشت حلال ہے ان کا پیشاب پائخانہ پاک ہے، اور بوقت ضرورت ان کے پیشاب سے علاج جائز ہے۔ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا۔ ۳؎: ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کے ساتھ جس طرح کیا تھا اسی طرح آپ نے ان کے ساتھ قصاص کے طور پر کیا، یا یہ لوگ زمین میں فساد برپا کرنے والے باغی تھے اس لیے ان کے ساتھ ایسا کیا، جمہور کے مطابق اگر اس طرح کے لوگ مسلمان ہوں تو جن ہوں نے قتل کیا ان کو قتل کیا جائے گا، اور جنہوں نے صرف مال لیا ان کے ہاتھ پاؤں کاٹے جائیں گے، اور جنہوں نے نہ قتل کیا اور نہ ہی مال لیا بلکہ صرف ہنگامہ مچایا تو ایسے لوگوں کو اس جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ قید کر دیا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 4030
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْوَلِيدِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ،" فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتُوا إِبِلَ الصَّدَقَةِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا"، فَفَعَلُوا فَقَتَلُوا رَاعِيَهَا وَاسْتَاقُوهَا،" فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ، قَالَ: فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ , وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ , وَلَمْ يَحْسِمْهُمْ , وَتَرَكَهُمْ حَتَّى مَاتُوا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ سورة المائدة آية 33 الْآيَةَ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ عکل کے کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اسلام قبول کیا، انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہیں آئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ صدقے و زکاۃ کے اونٹوں میں جا کر ان کا پیشاب اور دودھ پیئیں، انہوں نے ایسا ہی کیا، پھر چرواہے کو قتل کر دیا اونٹوں کو ہانک لے گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں چند افراد بھیجے، جب پکڑ کر وہ لائے گئے تو آپ نے ان کے ہاتھ پیر کاٹ دئیے، ان کی آنکھیں گرم سلائی سے پھوڑ دیں، اور ان کے زخموں کو داغا نہیں بلکہ یوں ہی چھوڑ دیا، یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «إنما جزاء الذين يحاربون اللہ ورسوله» ”ان لوگوں کا بدلہ جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں، الآیۃ“۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4030]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عکل قبیلے کے کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے (اور مسلمان ہو گئے)۔ پھر انہوں نے مدینہ منورہ کی آب و ہوا کو ناموافق پایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا: ”تم صدقہ کے اونٹوں میں چلے جاؤ اور ان کے دودھ اور پیشاب پیو۔“ انہوں نے ایسے ہی کیا (تو وہ صحت مند ہو گئے)۔ پھر انہوں نے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہانک کر لے گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں آدمی بھیجے، انہیں پکڑ کر لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں سختی کے ساتھ کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیریں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے زخموں (کو داغ لگا کر ان) کا خون بند نہیں کیا بلکہ ان کو (اسی طرح) چھوڑ دیا حتیٰ کہ وہ مر گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا﴾ [سورة المائدة: 33] ”بلاشبہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں، ان کی سزا یہ ہے... الخ“ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4030]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4032
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنْ عُكْلٍ أَوْ عُرَيْنَةَ" فَأَمَرَ لَهُمْ وَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ بِذَوْدٍ أَوْ لِقَاحٍ يَشْرَبُونَ أَلْبَانَهَا وَأَبْوَالَهَا"، فَقَتَلُوا الرَّاعِيَ , وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ،" فَبَعَثَ فِي طَلَبِهِمْ، فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ , وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ عکل یا عرینہ کے چند آدمی آئے، انہیں جب مدینے کی آب و ہوا راس نہیں آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں کا یا دودھ والی اونٹنیوں کا دودھ اور پیشاب پینے کا حکم دیا، تو انہوں نے چرواہے کو قتل کیا اور اونٹ ہانک لے گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں کچھ لوگوں کو روانہ کیا اور ان کے ہاتھ پیر کاٹ دیے، اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4032]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عکل یا عرینہ قبیلے کے کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مدینہ منورہ کی آب و ہوا انہیں راس نہ آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے اونٹوں میں جانے کا حکم دیا کہ وہ ان کے دودھ اور پیشاب پیئیں، انہوں نے (صحت مند ہونے کے بعد) چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں اپنے آدمی بھیجے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں سختی کے ساتھ کاٹ دیے اور ان کی آنکھیں (گرم سلائیوں سے) بری طرح پھوڑ دیں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4032]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4029 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4033
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , وَغَيْرُهُ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ،" فَبَعَثَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ذَوْدٍ لَهُ , فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا"، فَلَمَّا صَحُّوا ارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ، وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤْمِنًا، وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ،" فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آثَارِهِمْ فَأُخِذُوا فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ , وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ , وَصَلَبَهُمْ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہیں آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے اونٹوں کے پاس بھیجا، انہوں نے ان کا دودھ اور پیشاب پیا، جب وہ اچھے ہو گئے تو اسلام سے پھر گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہانک لے گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے کچھ لوگ روانہ کئے، تو انہیں گرفتار کر لیا گیا، پھر ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے گئے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دی گئیں اور انہیں سولی پر چڑھا دیا گیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4033]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عُرینہ قبیلے کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے (اور اسلام قبول کیا)، پھر انہوں نے مدینہ منورہ کی آب و ہوا کو نا موافق پایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے اونٹوں میں بھیج دیا۔ انہوں نے (چند دن تک) ان کا دودھ اور پیشاب پیا۔ جب وہ تندرست ہو گئے تو وہ اسلام سے مرتد ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبِ ایمان چرواہے کو قتل کیا اور اونٹ ہانک کر چلتے بنے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں آدمی بھیجے، وہ پکڑ کر لائے گئے۔ آپ نے ان کے ہاتھ پاؤں سختی کے ساتھ کاٹ دیئے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر کر ان کو پھوڑ دیا اور انہیں سولی پر لٹکا دیا۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4033]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 705) (صحیح) (مگر ”وصلبھم“ کا جملہ صحیح نہیں ہے)»
وضاحت: ۱؎: سولی پر چڑھانے کی بات کسی اور روایت میں نہیں ہے، بلکہ صحیح یہ ہے کہ آپ نے انہیں یونہی دھوپ میں ڈال دیا اسی حالت میں وہ تڑپ تڑپ کر مر گئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله وصلبهم
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، عبد الله بن عمر العمري ضعيف، عن غير نافع،و’’غيره‘‘ مجهول. وقوله: ’’وصلبهم ‘‘ ضعيف،،وباقي الحديث صحيح بالشواهد. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 351
حدیث نمبر: 4034
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسٌ مِنْ عُرَيْنَةَ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدِنَا فَكُنْتُمْ فِيهَا فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا"، فَفَعَلُوا فَلَمَّا صَحُّوا قَامُوا إِلَى رَاعِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَتَلُوهُ، وَرَجَعُوا كُفَّارًا وَاسْتَاقُوا ذَوْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ فِي طَلَبِهِمْ، فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ , وَأَرْجُلَهُمْ , وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عرینہ کے کچھ لوگ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر تم سب ہمارے اونٹوں میں جا کر رہتے، ان کا دودھ اور پیشاب پیتے (تو اچھا ہوتا)“ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، پھر جب وہ اچھے ہو گئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو جا کر قتل کر دیا اور کافر و مرتد ہو گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو ہانک لے گئے، آپ نے ان کی تلاش میں کچھ لوگ روانہ کئے، چنانچہ وہ سب گرفتار کر کے لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں کو گرم سلائی سے پھوڑ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4034]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عرینہ قبیلے کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”اگر تم ہمارے اونٹوں میں جا کر رہو اور ان کے دودھ اور پیشاب پیو (تو تمہاری صحت کے لیے بہتر ہو گا)۔“ انہوں نے اسی طرح کیا، پھر جب وہ تندرست ہو گئے تو اٹھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا اور دوبارہ کافر بن گئے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ ہانک کر لے گئے۔ آپ نے ان کی تلاش میں آدمی بھیجے۔ انہیں لایا گیا تو آپ نے ان کے ہاتھ پاؤں سختی کے ساتھ کاٹ دیے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4034]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 597)، مسند احمد (3/205) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4035
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَدِمَ نَاسٌ مِنْ عُرَيْنَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدِنَا فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا". قَالَ: وَقَالَ قَتَادَةُ:" وَأَبْوَالِهَا" , فَخَرَجُوا إِلَى ذَوْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا صَحُّوا كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ، وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤْمِنًا، وَاسْتَاقُوا ذَوْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْطَلَقُوا مُحَارِبِينَ , فَأَرْسَلَ فِي طَلَبِهِمْ، فَأُخِذُوا فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہیں آئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر تم جاتے اور ہمارے اونٹوں کا دودھ پیتے (تو اچھا ہوتا)“ (قتادہ نے «البانہا» (دودھ) کے بجائے «ابو الہا» (پیشاب) کہا ہے) چنانچہ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کے پاس گئے جب اچھے ہو گئے تو اسلام لانے کے بعد کافر (مرتد) ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کر دیا اور آپ کے اونٹ ہانک لے گئے اور جنگجو (لڑنے والے) بن کر گئے۔ آپ نے ان کی تلاش میں کچھ لوگوں کو بھیجا تو وہ گرفتار کر لیے گئے، آپ نے ان کے ہاتھ پیر کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں کو گرم سلائی سے پھوڑ دیا“۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4035]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عرینہ قبیلے کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے۔ انہوں نے مدینہ کی آب و ہوا کو موافق نہ پایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”اگر تم ہمارے (صحرا میں چرنے والے) اونٹوں میں جا کر رہو اور ان کے دودھ اور پیشاب پیو (تو تمہاری صحت کے لیے بہتر ہو گا)۔“ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں میں جا کر رہنے لگے۔ جب وہ تندرست ہو گئے تو باوجود اسلام قبول کرنے کے کافر بن گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ ہانک کر چلتے بنے۔ گویا ان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ ہو گئی۔ آپ نے ان کی تلاش میں کچھ آدمی بھیجے۔ انہیں پکڑ کر لایا گیا۔ آپ نے ان کے ہاتھ پاؤں سختی کے ساتھ کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیریں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4035]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 651) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4036
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَسْلَمَ أُنَاسٌ مِنْ عُرَيْنَةَ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ , فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدٍ لَنَا فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا"، قَالَ حُمَيْدٌ، وَقَالَ قَتَادَةُ: عَنْ أَنَسٍ:" وَأَبْوَالِهَا" , فَفَعَلُوا , فَلَمَّا صَحُّوا كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ , وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤْمِنًا , وَاسْتَاقُوا ذَوْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهَرَبُوا مُحَارِبِينَ , فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَتَى بِهِمْ , فَأُخِذُوا فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ، وَأَرْجُلَهُمْ , وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ , وَتَرَكَهُمْ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ اسلام لائے تو انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہیں آئی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر تم لوگ ہمارے اونٹوں میں جاتے اور ان کا دودھ پیتے (تو اچھا ہوتا)“، (حمید کہتے ہیں: قتادہ نے انس سے «البانہا» (دودھ کے) بجائے «ابو الہا» (پیشاب) روایت کی ہے۔) انہوں نے ایسا ہی کیا، پھر جب وہ ٹھیک ہو گئے تو اسلام لانے کے بعد کافر و مرتد ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کر دیا، اور آپ کے اونٹوں کو ہانک لے گئے اور جنگجو بن کر نکلے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گرفتار کرنے کے لیے کچھ لوگ بھیجے، چنانچہ وہ سب گرفتار کر لیے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے، ان کی آنکھیں گرم سلائی سے پھوڑ دیں، اور انہیں حرہ (مدینے کے پاس پتھریلی زمین) میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ سب مر گئے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4036]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عرینہ قبیلے کے کچھ لوگ مسلمان ہوئے، پھر انہوں نے مدینہ منورہ کی آب و ہوا کو نہ پایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”اگر تم ہمارے اونٹوں میں جا کر رہو اور ان کے دودھ اور پیشاب پیو (تو یہ تمہاری صحت کے لیے بہتر ہو گا)۔“ انہوں نے اسی طرح کیا۔ چنانچہ جب وہ تندرست ہو گئے تو وہ اسلام سے کفر کی طرف لوٹ گئے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ ہانک لیے اور علانیہ بغاوت کرتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے آدمی بھیجے تو وہ لوگ پکڑے گئے، چنانچہ (انہیں پکڑ کر) آپ نے ان کے ہاتھ پاؤں سختی کے ساتھ کاٹ دیے، ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیریں اور ان کو پتھریلے میدان میں چھوڑ دیا حتیٰ کہ وہ (ایڑیاں رگڑتے پیاسے) مر گئے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4036]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 757)، مسند احمد (3/107، 205) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4037
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ: أَنَّ نَاسًا أَوْ رِجَالًا مِنْ عُكْلٍ أَوْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا أَهْلُ ضَرْعٍ وَلَمْ نَكُنْ أَهْلَ رِيفٍ، فَاسْتَوْخَمُوا الْمَدِينَةَ ," فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَرَاعٍ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فِيهَا , فَيَشْرَبُوا مِنْ لَبَنِهَا , وَأَبْوَالِهَا"، فَلَمَّا صَحُّوا وَكَانُوا بِنَاحِيَةِ الْحَرَّةِ كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ , وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ،" فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي آثَارِهِمْ، فَأُتِيَ بِهِمْ , فَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ، وَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، ثُمَّ تَرَكَهُمْ فِي الْحَرَّةِ عَلَى حَالِهِمْ حَتَّى مَاتُوا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ عکل یا عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے: اللہ کے رسول! ہم مویشی والے لوگ ہیں ناکہ کھیت والے۔ انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہ آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے کچھ اونٹوں اور ایک چرواہے کا حکم دیا اور ان سے وہاں جانے کے لیے کہا تاکہ وہ ان کے دودھ اور پیشاب پی کر صحت یاب ہو سکیں، جب وہ ٹھیک ہو گئے (وہ حرہ کے ایک گوشے میں تھے۔) تو اسلام سے پھر کر کافر (و مرتد) ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہانک لے گئے، آپ نے ان کے پیچھے کچھ لوگوں کو بھیجا، تو وہ گرفتار کر کے لائے گئے، آپ نے ان کی آنکھیں گرم سلائی سے پھوڑ دیں، ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے اور پھر انہیں حرہ میں ان کے حال پر چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ سب مر گئے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4037]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عکل یا عرینہ قبیلے میں سے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہم دودھ پر گزارا کرنے والے لوگ ہیں، ہم کاشت کار نہیں۔ (وجہ یہ تھی کہ) انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا راس نہ آئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ: ”ہمارے اونٹوں اور چرواہے کے پاس رہو اور اونٹوں کے دودھ اور پیشاب پیو۔“ وہ حرہ کے ایک کنارے میں رہتے تھے، پھر جب وہ تندرست ہو گئے تو اسلام سے مرتد ہو کر کافر بن گئے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹ ہانک کر چلتے بنے۔ آپ نے ان کے پیچھے تلاش کرنے والے بھیجے۔ انہیں پکڑ لایا گیا، چنانچہ آپ نے ان کی آنکھیں (گرم سلائیوں سے) پھوڑ دیں۔ ان کے ہاتھ پاؤں سختی کے ساتھ کاٹ دیے، پھر انہیں اسی حالت میں حرہ (گرم پتھریلے میدان) میں چھوڑ دیا حتیٰ کہ وہ مر گئے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4037]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 68 (1501مختصراً) (تحفة الأشراف: 1277) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4039
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو بَكْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، وَثَابِتٌ , عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُرَيْنَةَ نَزَلُوا فِي الْحَرَّةِ، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ،" فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُونُوا فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ، وَأَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا"، فَقَتَلُوا الرَّاعِيَ، وَارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ، وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ،" فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آثَارِهِمْ، فَجِيءَ بِهِمْ , فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ، وَأَلْقَاهُمْ فِي الْحَرَّةِ"، قَالَ أَنَسٌ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَحَدَهُمْ يَكْدُمُ الْأَرْضَ بِفِيهِ عَطَشًا حَتَّى مَاتُوا.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ حرہ میں ٹھہرے، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہ آئی، تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ صدقے کے اونٹوں میں جا کر ان کے دودھ اور پیشاب پیئیں، تو انہوں نے چرواہے کو قتل کر دیا، اسلام سے پھر گئے اور اونٹوں کو ہانک لے گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے کچھ لوگوں کو بھیجا، انہیں پکڑ کر لایا گیا تو آپ نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے، آنکھیں پھوڑ دیں اور انہیں حرہ میں ڈال دیا۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ان میں سے ایک کو دیکھا کہ وہ پیاس کی وجہ سے زمین سے اپنے منہ کو رگڑ رہا تھا، (یعنی زمین کو اپنے منہ سے چاٹ رہا تھا) یہاں تک کہ سب مر گئے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4039]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ عرینہ قبیلے کے کچھ لوگ حرّہ کے میدان میں اترے، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ انہوں نے مدینہ منورہ کی آب و ہوا کو موافق نہ پایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ صدقے کے اونٹوں میں رہیں اور ان کے دودھ اور پیشاب پئیں، پھر انہوں نے چرواہے کو قتل کیا، اسلام سے مرتد ہو گئے اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے آدمی بھیجے۔ ان کو پکڑ لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں سختی کے ساتھ کاٹ دیے، ان کی آنکھوں کو پھوڑ دیا اور انہیں گرم پتھریلے میدان میں چھوڑ دیا۔ (حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) اللہ کی قسم! میں نے دیکھا کہ وہ پیاس کی بنا پر زمین پر دانت مار رہے تھے حتیٰ کہ اسی طرح مر گئے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4039]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود 3 (4367)، سنن الترمذی/الطہارة 55 (72)، (تحفة الأشراف: 317) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4040
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" قَدِمَ أَعْرَابٌ مِنْ عُرَيْنَةَ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمُوا، فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ حَتَّى اصْفَرَّتْ أَلْوَانُهُمْ , وَعَظُمَتْ بُطُونُهُمْ،" فَبَعَثَ بِهِمْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى لِقَاحٍ لَهُ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا حَتَّى صَحُّوا"، فَقَتَلُوا رُعَاتَهَا، وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ،" فَبَعَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ، فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ. وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ". قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَبْدُ الْمَلِكِ لِأَنَسٍ وَهُوَ يُحَدِّثُهُ هَذَا الْحَدِيثَ: بِكُفْرٍ أَوْ بِذَنْبٍ؟ قَالَ: بِكُفْرٍ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ اعرابی (دیہاتی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اسلام قبول کیا، انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہیں آئی، یہاں تک کہ ان کے رنگ پیلے پڑ گئے، ان کے پیٹ پھول گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دودھ والی اونٹنیوں کے پاس بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ وہ ان کا دودھ اور پیشاب پئیں، یہاں تک کہ جب وہ ٹھیک ہو گئے تو انہوں نے ان چرواہوں کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہانک لے گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں کچھ لوگ بھیجے، انہیں لایا گیا تو آپ نے ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دیے، اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائی پھیر کر ان کو پھوڑ دیا۔ امیر المؤمنین عبدالملک نے انس رضی اللہ عنہ سے کہا (وہ ان سے یہ حدیث بیان کر رہے تھے): کفر (ردت) کی وجہ سے یا جرم کی وجہ سے (ان کے ساتھ ایسا کیا گیا)؟ انہوں نے کہا: کفر (ردت) کی وجہ سے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4040]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عرینہ قبیلے کے کچھ بدو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اسلام قبول کیا، پھر انہیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہ آئی حتیٰ کہ ان کے رنگ زرد پڑ گئے اور پیٹ بڑھ گئے۔ تو اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے اونٹوں میں بھیج دیا اور انہیں ان کے دودھ اور پیشاب پینے کا حکم دیا حتیٰ کہ وہ تندرست ہو گئے۔ بعد ازاں انہوں نے اونٹوں کے چرواہوں کو قتل کر دیا اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں آدمی بھیجے۔ انہیں لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر دیں۔ جب حضرت انس رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان فرما رہے تھے تو امیر المومنین عبدالملک نے ان سے پوچھا کہ ان کے ساتھ یہ سلوک ان کے کفر کی وجہ سے کیا یا ان کے گناہ کی وجہ سے؟ فرمایا: کفر کی وجہ سے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4040]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 307 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4041
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَدِمَ نَاسٌ مِنَ الْعَرَبِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمُوا، ثُمَّ مَرِضُوا ," فَبَعَثَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى لِقَاحٍ لِيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا"، فَكَانُوا فِيهَا، ثُمَّ عَمَدُوا إِلَى الرَّاعِي غُلَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَتَلُوهُ، وَاسْتَاقُوا اللِّقَاحَ، فَزَعَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اللَّهُمَّ عَطِّشْ مَنْ عَطَّشَ آلَ مُحَمَّدٍ اللَّيْلَةَ"، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ، فَأُخِذُوا فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ , وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ , وَبَعْضُهُمْ يَزِيدُ عَلَى بَعْضٍ". إِلَّا أَنَّ مُعَاوِيَةَ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: اسْتَاقُوا إِلَى أَرْضِ الشِّرْكِ.
تابعی سعید بن المسیب کہتے ہیں کہ کچھ عرب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اسلام قبول کیا، پھر وہ بیمار پڑ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دودھ والی اونٹنیوں کے پاس بھیجا تاکہ وہ ان کا دودھ پیئں۔ وہ انہیں اونٹنیوں میں رہے، پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام چرواہے پر نیت خراب کی اور اسے قتل کر دیا اور اونٹنیاں ہانک لے گئے، لوگوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی: «اللہم عطش من عطش آل محمد الليلة» ”اے اللہ! اسے پیاسا رکھ جس نے محمد کے گھر والوں کو اس رات پیاسا رکھا“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں کچھ لوگ بھیجے۔ جب وہ گرفتار کر لیے گئے تو آپ نے ان کے ہاتھ کاٹ دیے اور ان کی آنکھیں گرم سلائی سے پھوڑ دیں۔ راویوں میں سے بعض دوسرے سے کچھ زیادہ بیان کرتے ہیں، سوائے معاویہ کے، انہوں نے اس حدیث میں کہا ہے کہ وہ ہانک کر مشرکوں کی زمین کی طرف لے گئے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4041]
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ کچھ عرب لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اسلام قبول کیا، پھر وہ بیمار ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اونٹوں میں بھیج دیا تاکہ وہ ان کا دودھ پییں۔ وہ ان میں رہے، پھر انہوں نے منصوبہ بنا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللّٰهُمَّ اعْطِشْ مَنْ أَعْطَشَ آلَ مُحَمَّدٍ» ”اے اللہ! اس شخص کو پیاسا مار جس نے آل محمد کو رات پیاسا رکھ کر مارا۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں آدمی بھیجے، وہ پکڑے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی کے ساتھ ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں کو (گرم سلائیوں سے) پھوڑ دیا۔ بعض اساتذہ دوسروں سے زیادہ بیان کرتے ہیں، معاویہ رحمہ اللہ نے اس حدیث میں کہا کہ وہ اونٹوں کو مشرکین کے علاقے کی طرف ہانک کر لے گئے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4041]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18752) (ضعیف الإسناد) (یہ روایت مرسل ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، السند مرسل. والحديث صحيح بشواهده دون قوله: ’’اللهم عطش …… الليلة‘‘. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 351
حدیث نمبر: 4042
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخَلَنْجِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" أَغَارَ قَوْمٌ عَلَى لِقَاحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَهُمْ، فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ، وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنیوں کو لوٹا تو آپ نے انہیں گرفتار کیا اور ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4042]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دودھ والی اونٹنیوں کو لوٹ لیا تھا۔ آپ نے ان کو گرفتار کیا، پھر سختی کے ساتھ ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں کو پھوڑ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4042]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 17179) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4043
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي الْوَزِيرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ. ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ:" أَنَّ قَوْمًا أَغَارُوا عَلَى لِقَاحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُتِيَ بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَطَّعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْدِيَهُمْ، وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ". اللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنیاں لوٹ لیں، انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے، اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4043]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دودھ والی اونٹنیاں لوٹ لیں، چنانچہ انہیں (پکڑ کر) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی کے ساتھ ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں کو (گرم سلائیوں سے) پھوڑ دیا۔ یہ الفاظ ابن مثنیٰ کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4043]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الحدود 20 (2579)، (تحفة الأشراف: 17032)، ویأتي عند المؤلف: 4044، 4045) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4044
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ:" أَنَّ قَوْمًا أَغَارُوا عَلَى إِبِلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ، وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ".
عروہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ لوٹ لیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دیے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4044]
حضرت ہشام کے والد (حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ) سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ لوٹ لیے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی کے ساتھ ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4044]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4043 (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، اس لیے کہ عروہ نے صحابی کا ذکر نہیں کیا، لیکن دوسرے طرق سے تقویت پاکر صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4045
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , وَذَكَرَ آخَرَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ قَالَ: أَغَارَ نَاسٌ مِنْ عُرَيْنَةَ عَلَى لِقَاحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَاسْتَاقُوهَا , وَقَتَلُوا غُلَامًا لَهُ ," فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آثَارِهِمْ فَأُخِذُوا فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ".
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنیاں لوٹ لیں، انہیں ہانک لے گئے اور آپ کے غلام کو قتل کر دیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے کچھ لوگ روانہ کیے، وہ سب گرفتار کر لیے گئے، تو آپ نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4045]
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ عرینہ قبیلے کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دودھ والی اونٹنیاں لوٹ لیں اور انہیں ہانک لے گئے اور آپ کے ایک غلام (چرواہے) کو بھی قتل کر دیا۔ آپ نے ان کے پیچھے آدمی دوڑائے، چنانچہ وہ (قاتل) پکڑ لیے گئے۔ آپ نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے اور آنکھیں پھوڑ دیں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4045]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4043 (صحیح) (یہ روایت بھی مرسل ہے، اس لیے کہ عروہ نے صحابی کا ذکر نہیں کیا، لیکن دوسرے طرق سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن