🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب : ما يفعل من تعرض لماله
باب: کسی کا مال لوٹا جائے تو وہ کیا کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4087
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قُهَيْدٍ الْغِفَارِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ عُدِيَ عَلَى مَالِي. قَالَ:" فَانْشُدْ بِاللَّهِ". قَالَ: فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ. قَالَ:" فَانْشُدْ بِاللَّهِ". قَالَ: فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ. قَالَ:" فَانْشُدْ بِاللَّهِ". قَالَ: فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ. قَالَ:" فَقَاتِلْ، فَإِنْ قُتِلْتَ فَفِي الْجَنَّةِ، وَإِنْ قَتَلْتَ فَفِي النَّارِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کا کیا حکم ہے اگر کوئی میرا مال ظلم سے لینے آئے؟ آپ نے فرمایا: انہیں اللہ کی قسم دو، اس نے کہا: اگر وہ نہ مانیں؟ آپ نے فرمایا: انہیں اللہ کی قسم دو , اس نے کہا: اگر وہ نہ مانیں؟ آپ نے فرمایا: انہیں اللہ کی قسم دو، اس نے کہا: پھر بھی وہ نہ مانیں؟ آپ نے فرمایا: پھر ان سے لڑو، اگر تم مارے گئے تو جنت میں ہو گے ۱؎ اور اگر تم نے انہیں مار دیا تو وہ جہنم میں ہوں گے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4087]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 14276)، مسند احمد (2/339، 360) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جنت میں جانے کے اسباب میں سے ایک سبب اپنے مال کی حفاظت میں مارا جانا بھی ہے، یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر کسی کے پاس نہ عقیدہ صحیح ہو نہ ہی صوم و صلاۃ اور دوسرے احکام شریعت کی پاکی پابندی اور ایسا آدمی اپنے مال کی حفاظت میں مارا جائے تو سیدھے جنت میں چلا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4088
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ قُهَيْدِ بْنِ مُطَرِّفٍ الْغِفَارِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ عُدِيَ عَلَى مَالِي. قَالَ:" فَانْشُدْ بِاللَّهِ". قَالَ: فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ. قَالَ:" فَانْشُدْ بِاللَّهِ". قَالَ: فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ. قَالَ:" فَانْشُدْ بِاللَّهِ". قَالَ: فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ. قَالَ:" فَقَاتِلْ، فَإِنْ قُتِلْتَ فَفِي الْجَنَّةِ، وَإِنْ قَتَلْتَ فَفِي النَّارِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر کوئی میرا مال چھینے تو آپ کیا کہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: انہیں اللہ کی قسم دو، اس نے کہا: اگر وہ نہ مانیں؟ آپ نے فرمایا: تم انہیں اللہ کی قسم دو، اس نے کہا: اگر وہ نہ مانیں تو؟ آپ نے فرمایا: تم انہیں اللہ کی قسم دو، اس نے کہا: اگر وہ پھر بھی نہ مانیں تو؟ آپ نے فرمایا: تو تم ان سے لڑو، اب اگر تم مارے گئے تو جنت میں ہو گے اور اگر تم نے مار دیا تو وہ جہنم میں ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4088]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں