🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب : ذبح الإمام أضحيته بالمصلى
باب: امام کا اپنی قربانی کا جانور عیدگاہ میں ذبح کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4371
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ أَخْبَرَهُ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَذْبَحُ، أَوْ يَنْحَرُ بِالْمُصَلَّى".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ میں ہی (قربانی کا جانور) ذبح یا نحر کرتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4371]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ میں قربانی ذبح یا نحر فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4371]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1590 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مدینہ میں عید گاہ کے اندر قربانی کرنے کی سہولت میسر تھی تو آپ نے ایسا کیا، اگر آج ایسی سہولت میسر ہو تو عید گاہ کے اندر ایسا کیا جا سکتا ہے، یہ کوئی واجب اور سنت نہیں کہ ہر حال میں ایسا ہی کیا جائے، اس زمانہ میں تو اب شاید کسی دیہات میں بھی یہ سہولت نہ ہو، شہروں میں تو اب ایسا ممکن ہی نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1590
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَذْبَحُ أَوْ يَنْحَرُ بِالْمُصَلَّى.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ ہی میں ذبح یا نحر کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 1590]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ میں قربانی کیا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 1590]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العیدین 22 (982)، الأضاحي 6 (5552)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي 17 (3161)، (تحفة الأشراف: 8261)، مسند احمد 2/108، ویأتی عند المؤلف برقم: 4371 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں