سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب : ذبح الضحية قبل الإمام
باب: امام سے پہلے قربانی کے جانور کے ذبح کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4402
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ يَحْيَى. ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ: أَنَّهُ ذَبَحَ قَبْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ," فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ"، قَالَ: عِنْدِي عَنَاقُ جَذَعَةٍ , هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مُسِنَّتَيْنِ، قَالَ:" اذْبَحْهَا". فِي حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: إِنِّي لَا أَجِدُ إِلَّا جَذَعَةً؟ فَأَمَرَهُ أَنْ يَذْبَحَ.
ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ذبح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوبارہ ذبح کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے عرض کیا: میرے پاس ایک سالہ بکری کا بچہ ہے جو مجھے دو مسنہ سے زیادہ پسند ہے، آپ نے فرمایا: ”اسی کو ذبح کر دو“۔ عبیداللہ کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے کہا: میرے پاس ایک جذعہ کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے تو آپ نے انہیں اسی کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4402]
حضرت ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے اپنی قربانی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ذبح کر دی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوبارہ قربانی کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا: میرے پاس ایک جذعہ بکری ہے جو میرے نزدیک (گوشت کے لحاظ سے) دو مسنوں سے بھی بہتر ہے، اس کے علاوہ اور کوئی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ذبح کر دو۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4402]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11722)، موطا امام مالک/الضحایا 3 (4)، مسند احمد (3/466 و4/45)، سنن الدارمی/الأضاحی7 (2006) (صحیح الإسناد) (یہ حدیث براء رضی الله عنہ سے متفق علیہ ثابت ہے، خود مؤلف کے یہاں 1564 اور 4400 پر گزری ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1564
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا بَهْزٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: أَخْبَرَنِي زُبَيْدٌ، قال: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ , يَقُولُ: حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ عِنْدَ سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ , قَالَ: خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ , فَقَالَ:" إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا , أَنْ نُصَلِّيَ ثُمَّ نَذْبَحَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا , وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ ذَلِكَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ يُقَدِّمُهُ لِأَهْلِهِ" , فَذَبَحَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ دِينَارٍ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , عِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ , قَالَ:" اذْبَحْهَا وَلَنْ تُوفِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ".
شعبی (عامر بن شراحیل) کہتے ہیں کہ ہم سے براء بن عازب رضی اللہ عنہم نے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے پاس بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن خطبہ دیا، تو آپ نے فرمایا: ”اپنے اس دن میں سب سے پہلا کام یہ ہے کہ ہم نماز پڑھیں، پھر قربانی کریں، تو جس نے ایسا کیا تو اس نے ہماری سنت کو پا لیا، اور جس نے اس سے پہلے ذبح کر لیا تو وہ محض گوشت ہے جسے وہ اپنے گھر والوں کو پہلے پیش کر رہا ہے“، ابوبردہ ابن نیار (نماز سے پہلے ہی) ذبح کر چکے تھے، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک سال کا ایک دنبہ ہے، جو دانت والے دنبہ سے بہتر ہے، تو آپ نے فرمایا: ”اسے ہی ذبح کر لو، لیکن تمہارے بعد اور کسی کے لیے یہ کافی نہیں ہو گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 1564]
حضرت شعبی بیان کرتے ہیں کہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے ہمیں مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے پاس بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عید الاضحیٰ کے دن خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”آج کے دن ہم سب سے پہلے جس چیز کی ابتدا کریں گے وہ یہ ہے کہ ہم نماز پڑھیں گے، پھر (قربانی) ذبح کریں گے۔ جو شخص ایسا کرے گا، وہ ہماری سنت پر عمل کرے گا اور جو اس (نماز پڑھنے) سے پہلے ذبح کرے گا تو یہ (قربانی نہیں بلکہ) اس نے اپنے گھر والوں کے لیے گوشت تیار کیا ہے۔“ اتفاقاً حضرت ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے (نماز عید سے قبل) قربانی ذبح کر دی تھی۔ وہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! میرے پاس ایک جزعہ (نوجوان بکرا) جو دو دانتے سے (جسمانی طور پر) بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چلو اسے ذبح کر دو لیکن ایسا جانور تیرے علاوہ کسی سے کفایت نہ کرے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 1564]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العیدین 3 (951) مختصراً، 5 (955) مطولاً، 8 (957)، 10 (968)، 17 (976)، 23 (983) مطولاً، الأضاحي 1 (5556)، 8 (5557)، 11 (5560)، 12 (5563)، الأیمان والنذور 15 (6673)، صحیح مسلم/الأضاحي 1 (1961)، سنن ابی داود/الضحایا 5 (2800، 2801) مطولاً، سنن الترمذی/الأضاحي 12 (1508) مطولاً، (تحفة الأشراف: 1769)، مسند احمد 4/28، 287، 297، 302، 303، سنن الدارمی/الأضاحي 7 (2005)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1571، 1582، 4399، 4400 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1582
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ، قال: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ , ثُمَّ قَالَ:" مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا وَنَسَكَ نُسُكَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ، وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَتِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ" , فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَاللَّهِ لَقَدْ نَسَكْتُ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الصَّلَاةِ عَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ فَتَعَجَّلْتُ فَأَكَلْتُ وَأَطْعَمْتُ أَهْلِي وَجِيرَانِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ" , قَالَ: فَإِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ فَهَلْ تُجْزِي عَنِّي؟ قَالَ:" نَعَمْ وَلَنْ تُجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ".
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن نماز کے بعد خطبہ دیا، پھر فرمایا: ”جس نے ہماری (طرح) نماز پڑھی، اور ہماری طرح قربانی کی تو اس نے قربانی کو پا لیا، اور جس نے نماز سے پہلے قربانی کر دی، تو وہ گوشت کی بکری ہے ۱؎ تو ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! میں نے تو نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ہی ذبح کر دیا، میں نے سمجھا کہ آج کا دن کھانے پینے کا دن ہے، اس لیے میں نے جلدی کر دی، چنانچہ میں نے (خود) کھایا، اور اپنے گھر والوں کو اور پڑوسیوں کو بھی کھلایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو گوشت کی بکری ہوئی“ (اب قربانی کے طور پر دوسری کرو) تو انہوں نے کہا: میرے پاس ایک سال کا ایک دنبہ ہے، جو گوشت کی دو بکریوں سے (بھی) اچھا ہے، تو کیا وہ میری طرف سے کافی ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، مگر تمہارے بعد وہ کسی کے لیے کافی نہیں ہو گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 1582]
حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانیوں والے دن نماز عید کے بعد خطبہ ارشاد فرمایا، پھر فرمایا: ”جس شخص نے ہماری (نماز کی طرح) نماز پڑھی اور ہماری طرح (نماز کے بعد) قربانی کی، اس کی قربانی صحیح ہے، لیکن جس نے نماز عید سے قبل قربانی ذبح کر دی تو یہ گوشت کھانے کے لیے بکری ذبح کی گئی ہے (قربانی نہیں)۔“ حضرت ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! «وَاللّٰهِ» ”واللہ!“ میں نے تو نماز عید کے لیے آنے سے قبل ہی قربانی ذبح کر دی ہے۔ میں نے سوچا کہ آج کھانے پینے کا دن ہے، اس لیے میں نے جلدی کی۔ خود بھی گوشت کھایا، اہل و عیال اور پڑوسیوں کو بھی کھلایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو گوشت کے لیے بکری ذبح کی گئی ہے۔“ انہوں نے کہا: میرے پاس ایک (بکری کی قسم سے) موٹا تازہ جذع ہے جو گوشت کے لحاظ سے دو بکریوں سے بہتر ہے (مگر وہ دانتا نہیں، چھوٹا ہے) تو کیا وہ میری طرف سے کفایت کر جائے گا (اگر میں اسے ذبح کر دوں؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، لیکن یہ تیرے علاوہ کسی سے کفایت نہیں کرے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 1582]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1564 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی یہ قربانی کے لیے نہیں بلکہ صرف کھانے کے لیے ذبح کی گئی بکری ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4373
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ، قَالَ: شَهِدْتُ أَضْحًى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ رَأَى غَنَمًا قَدْ ذُبِحَتْ، فَقَالَ:" مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيَذْبَحْ شَاةً مَكَانَهَا، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ ذَبَحَ فَلْيَذْبَحْ عَلَى اسْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید الاضحی میں تھا، آپ نے لوگوں کو نماز عید پڑھائی، جب نماز مکمل کر لی تو آپ نے دیکھا کہ کچھ بکریاں (نماز سے پہلے ہی) ذبح کر دی گئیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز عید سے پہلے جس نے ذبح کیا ہے اسے چاہیئے کہ وہ اس کی جگہ دوسری بکری ذبح کرے اور جس نے ذبح نہیں کیا ہے تو وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4373]
حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید الاضحیٰ میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ کچھ بکریاں ذبح ہو چکی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز سے پہلے قربانی ذبح کر دی ہے، وہ اس کی جگہ اور بکری ذبح کرے اور جو ذبح نہیں کر چکا تو وہ اللہ عزوجل کا نام لے کر ذبح کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4373]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العیدین 23 (985)، الصید 17 (5500)، الأضاحی 12 (5562)، الأیمان 15 (6674)، التوحید 13 (7400)، صحیح مسلم/الأضاحی 1 (1960)، سنن ابن ماجہ/الأضاحی 12 (3152)، (تحفة الأشراف: 3251)، مسند احمد (4/312، 313)، ویأتی عند المؤلف برقم: 4403 (صحیح)»
وضاحت: : ۱؎ واضح طور پر باب کے مطابق پچھلی حدیث ہے، مؤلف نے اس حدیث سے اس طرح استدلال کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید گاہ میں ذبح پر کچھ نہیں فرمایا: بلکہ صرف نماز عید سے پہلے ذبح کر دیئے جانے پر اعتراض کیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4384
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ غَنَمًا يُقَسِّمُهَا عَلَى صَحَابَتِهِ، فَبَقِيَ عَتُودٌ، فَذَكَرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" ضَحِّ بِهِ أَنْتَ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو آپس میں تقسیم کرنے کے لیے بکریاں دیں، صرف ایک سال کی بکری بچ رہی۔ اس کا ذکر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ تو آپ نے فرمایا: ”تم اسے ذبح کر لو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4384]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ بکریاں دیں کہ صحابہ میں تقسیم کر دیں، آخر میں ایک «جَذَعَة» (بکری کا ایک سالہ بچہ، یعنی میمنا) بچ گیا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چلو! تم اس کی قربانی کر دو۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4384]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوکالة 1 (2300)، الشرکة 12 (2500)، الأضاحی 7 (5555)، صحیح مسلم/الأضاحي 1 (1965)، سنن الترمذی/الأضاحي 7 (1500)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي 7 (3138)، (تحفة الأشراف: 9955)، مسند احمد (4/149، 152)، سنن الدارمی/الأضاحی 4 (1997)، ویأتی فیما یلی: 4385، 4386 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «عتود» ایک سال کی بکری کو کہتے ہیں۔ «جذعہ» بھی اسی معنی میں ہے، پس اگلی دونوں روایتوں میں جو «جذعہ» کا لفظ ہے اس کا مطلب ہے «جذعۃ من المعز» یعنی بکری کا ایک سالہ بچہ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ یا ابوبردہ رضی اللہ عنہما کو مجبوری کے تحت ایک سال کی بکری کی اجازت خصوصی طور سے دی تھی ورنہ قربانی میں اصل دانتا ہوا جانور ہی جائز ہے جیسا کہ حدیث نمبر: ۴۲۸۳ میں گزرا۔ ۲؎: ”تم اسے ذبح کر لو“ یعنی صرف تمہارے لیے جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4385
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيل وَهُوَ الْقَنَّادُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي بَعْجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ ضَحَايَا، فَصَارَتْ لِي جَذَعَةٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , صَارَتْ لِي جَذَعَةٌ؟ فَقَالَ:" ضَحِّ بِهَا".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان قربانی کے جانور تقسیم کیے، میرے حصے میں ایک جذعہ آیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے حصے میں تو ایک جذعہ آیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”تم اسی کی قربانی کر لو“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4385]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں قربانی کے جانور تقسیم فرمائے۔ میرے لیے ایک جذعہ رہ گیا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے لیے جذعہ بچا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو وہی قربان کر دے۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4385]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأضاحي 2 (5547)، صحیح مسلم/الأضاحي 2 (1965)، سنن الترمذی/الأضاحي 7 (100م)، (تحفة الأشراف: 9910) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4386
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ أَضَاحِيَّ، فَأَصَابَنِي جَذَعَةٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَصَابَتْنِي جَذَعَةٌ، فَقَالَ:" ضَحِّ بِهَا".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان قربانی کے جانور تقسیم کیے، تو مجھے ایک جذعہ ملا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے تو ایک جذعہ ملا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”تم اسی کی قربانی کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4386]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں قربانی کے جانور تقسیم فرمائے، مجھے ایک جذعہ ملا، میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! مجھے جذعہ ملا ہے، آپ نے فرمایا: ”تو یہی ذبح کر دے۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4386]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4399
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبِي، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ. ح وَأَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ، فَذَكَرَ أَحَدُهُمَا مَا لَمْ يَذْكُرِ الْآخَرُ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَضْحَى، فَقَالَ:" مَنْ وَجَّهَ قِبْلَتَنَا، وَصَلَّى صَلَاتَنَا، وَنَسَكَ نُسُكَنَا، فَلَا يَذْبَحْ حَتَّى يُصَلِّيَ"، فَقَامَ خَالِي، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي عَجَّلْتُ نُسُكِي لِأُطْعِمَ أَهْلِي، وَأَهْلَ دَارِي، أَوْ أَهْلِي، وَجِيرَانِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعِدْ ذِبْحًا آخَرَ"، قَالَ: فَإِنَّ عِنْدِي عَنَاقَ لَبَنٍ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، قَالَ:" اذْبَحْهَا فَإِنَّهَا خَيْرُ نَسِيكَتَيْكَ، وَلَا تَقْضِي جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ".
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی کے دن کھڑے ہو کر فرمایا: ”جس نے ہمارے قبلے کی طرف رخ کیا، ہماری جیسی نماز پڑھی اور قربانی کی تو وہ جب تک نماز نہ پڑھ لے ذبح نہ کرے۔ یہ سن کر میرے ماموں کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے قربانی میں جلدی کر دی تاکہ میں اپنے بال بچوں اور گھر والوں - یا اپنے گھر والوں اور پڑوسیوں - کو کھلا سکوں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوبارہ قربانی کرو“، انہوں نے عرض کیا: میرے پاس بکری کا ایک چھوٹا بچہ ۲؎ ہے جو مجھے گوشت والی دو بکریوں سے زیادہ عزیز ہے، آپ نے فرمایا: ”تم اسی کو ذبح کرو، یہ ان دو کی قربانی سے بہتر ہے، لیکن تمہارے بعد جذعے کی قربانی کسی کی طرف سے کافی نہیں ہو گی“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4399]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحیٰ کے دن (خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے) کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”جو شخص ہمارے قبلے کی طرف منہ کرتا ہے، ہماری طرح نماز پڑھتا ہے اور ہماری طرح قربانی کرتا ہے تو وہ اپنی قربانی ذبح نہ کرے حتیٰ کہ نماز عید پڑھ لے۔“ میرے ماموں کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! میں نے تو اپنی قربانی جلدی ذبح کرلی تاکہ میں اپنے گھر والوں اور محلے دار پڑوسیوں کو (جلدی) گوشت کھلاؤں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور قربانی ذبح کر۔“ انہوں نے کہا: میرے پاس بکری کا ایک مادہ بچہ ہے جو مجھے گوشت کے لحاظ سے دو بکریوں سے بھی اچھا لگتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ہی ذبح کر دے۔ وہ تیری دو قربانیوں میں سے اچھی قربانی ہو گی۔ لیکن تیرے علاوہ کسی کی طرف سے «جَذَعَةٌ» قربانی میں کفایت نہیں کرے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4399]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1564 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: امام سے پہلے یعنی عید الاضحی کی نماز سے پہلے قربانی کا کیا حکم ہے؟ ۲؎: «عناق لبن» سے مراد وہ بکری جو ابھی ایک سال کی نہیں ہوئی ہو، اور حدیث نمبر ۴۳۸۴ میں اسی تناظر میں «عتود» کا لفظ آیا ہے، جس کے معنی ہیں بکری کا وہ بچہ جو ایک سال ہو چکا ہو مگر دانتا ہوا نہ ہو، اور دونوں کا خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ دونوں قسم کے جانوروں کی قربانی کی اجازت صرف مذکورہ دونوں صحابہ کے لیے دی گئی، اور عام حالات میں عام مسلمانوں کے لیے صرف دانتا جانور ہی جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4400
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا، وَنَسَكَ نُسُكَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ، وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَتِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ"، فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ نَسَكْتُ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الصَّلَاةِ، وَعَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ فَتَعَجَّلْتُ فَأَكَلْتُ، وَأَطْعَمْتُ أَهْلِي، وَجِيرَانِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ"، قَالَ: فَإِنَّ عِنْدِي عَنَاقًا جَذَعَةً، خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، فَهَلْ تُجْزِئُ عَنِّي؟، قَالَ:" نَعَمْ، وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ قربانی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عید کے بعد ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: ”جس نے ہماری جیسی نماز پڑھی اور ہماری جیسی قربانی کی تو اس نے قربانی کی اور جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کی تو وہ گوشت کی بکری ہے ۱؎ یہ سن کر ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ہی قربانی کر چکا ہوں، دراصل میں نے سمجھا کہ آج کا دن کھانے پینے کا دن ہے، تو میں نے جلدی کی اور کھایا اور اپنے بال بچوں نیز پڑوسیوں کو کھلایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو گوشت کی بکری ہے“۔ وہ بولے: میرے پاس بکری کا ایک چھوٹا بچہ ہے جو گوشت کی ان دو بکریوں سے بہتر ہے، کیا وہ میرے لیے کافی ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، لیکن تمہارے بعد یہ کسی کے لیے کافی نہیں ہو گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4400]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی والے دن نمازِ عید کے بعد ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا: ”جو شخص ہم جیسی نماز پڑھتا ہے اور ہم جیسی قربانی کرتا ہے، اس نے تو صحیح قربانی کی اور جس نے نماز پڑھنے سے پہلے ہی قربانی کر دی تو وہ گوشت والی بکری ہے (وہ صرف گوشت کے لیے ذبح کیا گیا جانور متصور ہو گا، قربانی نہیں ہو گی)۔“ حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں نے تو نماز کے لیے آنے سے پہلے قربانی ذبح کر دی تھی۔ میں نے سمجھا کہ یہ سارا دن ہی کھانے پینے کے لیے ہے، اس لیے میں نے جلد بازی کی۔ خود بھی گوشت کھایا اور گھر والوں اور پڑوسیوں کو بھی کھلایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو گوشت والی بکری ہو گئی (قربانی نہیں ہوئی)۔“ انہوں نے عرض کی: میرے پاس ایک «جَذَعَة» بکری ہے جو گوشت کے لحاظ سے دو بکریوں سے بھی بہتر ہے تو کیا وہ مجھ سے کفایت کر جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، لیکن وہ تیرے علاوہ کسی اور سے کفایت نہیں کرے گی۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4400]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1564 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس کے لیے قربانی کا ثواب نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4401
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ:" مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيُعِدْ"، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ، فَذَكَرَ هَنَةً مِنْ جِيرَانِهِ، كَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَّقَهُ، قَالَ: عِنْدِي جَذَعَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، فَرَخَّصَ لَهُ، فَلَا أَدْرِي أَبَلَغَتْ رُخْصَتُهُ مَنْ سِوَاهُ، أَمْ لَا، ثُمَّ انْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن فرمایا: ”جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا ہے، اسے چاہیئے کہ پھر سے قربانی کرے“، ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ایسا دن ہے کہ جس میں ہر ایک کی گوشت کی خواہش ہوتی ہے، اور پھر انہوں نے پڑوسیوں کا حال بیان کیا، گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تصدیق فرمائی۔ انہوں نے کہا: میرے پاس بکری کا ایک چھوٹا بچہ ہے جو مجھے گوشت والی دو بکریوں سے زیادہ ہے، تو انہیں اس کی رخصت دی گئی، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ یہ رخصت دوسروں کے لیے ہے یا نہیں؟ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی طرف گئے اور انہیں ذبح کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4401]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانیوں کے دن فرمایا: ”جس شخص نے نماز عید سے پہلے قربانی ذبح کرلی ہے وہ دوبارہ ذبح کرے۔“ ایک آدمی اٹھ کر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! یہ دن ایسا ہے کہ اس میں گوشت کی خواہش ہوتی ہے، پھر اس نے اپنے پڑوسیوں کی حالت شاقہ (محتاجی اور فقر و فاقے) کا ذکر کیا۔ ایسے لگتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کی تصدیق فرما رہے ہیں۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک جذعہ (بکری کا چھوٹی عمر کا بچہ) ہے جو گوشت کی دو بکریوں سے بھی مجھے زیادہ پسند ہے۔ آپ نے اسے وہی جذعہ ذبح کرنے کی رخصت دی۔ میں نہیں جانتا کہ یہ رخصت اس کے علاوہ دوسرے لوگوں کو بھی پہنچی یا نہیں، پھر آپ دو مینڈھوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں ذبح کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4401]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1589 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4403
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ، قَالَ: ضَحَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَضْحًى ذَاتَ يَوْمٍ، فَإِذَا النَّاسُ قَدْ ذَبَحُوا ضَحَايَاهُمْ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَآهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ ذَبَحُوا قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ:" مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرَى، وَمَنْ كَانَ لَمْ يَذْبَحْ حَتَّى صَلَّيْنَا، فَلْيَذْبَحْ عَلَى اسْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک دن کچھ قربانیاں کیں، تو ہم نے دیکھا کہ لوگ نماز عید سے پہلے ہی اپنے جانور ذبح کر چکے ہیں، جب آپ فارغ ہو کر لوٹے تو انہیں دیکھا کہ وہ نماز عید سے پہلے ہی ذبح کر چکے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز عید سے پہلے ذبح کیا تو اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ذبح نہیں کیا یہاں تک کہ ہم نے نماز عید پڑھ لی تو وہ اللہ کے نام پر ذبح کرے“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4403]
حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قربانیاں ذبح کیں تو دیکھا کہ کچھ لوگ نماز سے پہلے ہی اپنی قربانیاں ذبح کر چکے تھے۔ جب آپ فارغ ہوئے تو آپ کو پتہ چلا کہ وہ نماز سے پہلے ہی ذبح کر چکے ہیں تو آپ نے فرمایا: ”جس شخص نے قربانی نماز سے پہلے ذبح کی ہے، وہ اس کی جگہ اور قربانی ذبح کرے اور جس شخص نے نماز سے پہلے ذبح نہیں کی، وہ اب اللہ کا نام لے کر ذبح کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4403]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4373 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن