سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. باب : الوضوء من مس الذكر
باب: عضو تناسل چھونے سے وضو کا بیان۔
حدیث نمبر: 445
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي بَكْرٍ، قال عَلَى أَثَرِهِ، قال أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَلَمْ أُتْقِنْهُ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ بُسْرَةَ، قالت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ".
بسرۃ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنا ذکر (عضو تناسل) چھوئے، تو چاہیئے کہ وہ وضو کرے“۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 445]
حضرت بسرہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنی شرم گاہ کو ہاتھ لگائے تو چاہیے کہ وہ وضو کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 445]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 163 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 163
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، أَنْبَأَنَا مَالِكٌ، ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: أَنْبَأَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، فَذَكَرْنَا مَا يَكُونُ مِنْهُ الْوُضُوءُ، فَقَالَ مَرْوَانُ: مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ الْوُضُوءُ، فَقَالَ عُرْوَةُ: مَا عَلِمْتُ ذَلِكَ. فَقَالَ مَرْوَانُ: أَخْبَرَتْنِي بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ".
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں مروان بن حکم کے پاس گیا، پھر ہم نے ان چیزوں کا ذکر کیا جن سے وضو لازم آتا ہے، تو مروان نے کہا: ذکر (عضو تناسل) کے چھونے سے وضو ہے، اس پر عروہ نے کہا: مجھے معلوم نہیں، تو مروان نے کہا: بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا کہ ”جب کوئی اپنا ذکر (عضو تناسل) چھوئے تو وضو کرے“۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 163]
حضرت عمرو بن زبیر رحمہ اللہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا: ”میں مروان بن حکم رحمہ اللہ کے پاس گیا، چنانچہ ہم نے آپس میں ان چیزوں کا ذکر کیا جن سے وضو واجب ہوتا ہے۔ مروان نے کہا: ”شرم گاہ کو چھونے سے بھی وضو واجب ہو جاتا ہے۔“ میں نے کہا: ”مجھے تو اس بات کا علم نہیں۔“ مروان نے کہا: ”مجھے حضرت بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی شرم گاہ (عضو) کو چھو بیٹھے تو اسے چاہیے کہ وضو کرے۔“”“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 163]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 70 (181)، سنن الترمذی/فیہ 61 (82) مختصرًا، سنن ابن ماجہ/63 (479) مختصرًا، (تحفة الأشراف: 15785)، موطا امام مالک/فیہ 15 (58)، مسند احمد 6/406، 407، سنن الدارمی/الطہارة 50 (751، 752)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 163، 445- 448 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 164
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قال: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قال: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: ذَكَرَ مَرْوَانُ فِي إِمَارَتِهِ عَلَى الْمَدِينَةِ أَنَّهُ يُتَوَضَّأُ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ إِذَا أَفْضَى إِلَيْهِ الرَّجُلُ بِيَدِهِ، فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ وَقُلْتُ لَا وُضُوءَ عَلَى مَنْ مَسَّهُ، فَقَالَ مَرْوَانُ: أَخْبَرَتْنِي بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَكَرَ مَا يُتَوَضَّأُ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَيُتَوَضَّأُ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ". قَالَ عُرْوَةُ: فَلَمْ أَزَلْ أُمَارِي مَرْوَانَ حَتَّى دَعَا رَجُلًا مِنْ حَرَسِهِ، فَأَرْسَلَهُ إِلَى بُسْرَةَ فَسَأَلَهَا عَمَّا حَدَّثَتْ مَرْوَانَ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بُسْرَةُ بِمِثْلِ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْهَا مَرْوَانُ.
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ مروان نے اپنی مدینہ کی امارت کے دوران ذکر کیا کہ عضو تناسل کے چھونے سے وضو کیا جائے گا، جب اس تک آدمی اپنا ہاتھ لے جائے، تو میں نے اس کا انکار کیا اور کہا: جو عضو تناسل چھوئے اس پر وضو نہیں ہے، تو مروان نے کہا: مجھے بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے ان چیزوں کا ذکر کیا جن سے وضو کیا جاتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور عضو تناسل چھونے سے (بھی) وضو کیا جائے گا“، عروہ کہتے ہیں: میں مروان سے برابر جھگڑتا رہا، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے ایک دربان کو بلایا اور اسے بسرہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا، چنانچہ اس نے مروان سے بیان کی ہوئی حدیث کے بارے میں بسرہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا، تو بسرہ نے اسی طرح کی بات کہلا بھیجی جو مروان نے ان کے واسطے سے مجھ سے بیان کی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 164]
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، انہوں نے کہا کہ مروان نے مدینہ کی امارت (گورنری) کے دوران ذکر کیا کہ ”جب آدمی اپنا ہاتھ عضو مخصوص کو لگائے تو اسے اس کے بعد وضو کرنا چاہیے۔“ میں نے اس کا انکار کیا اور کہا: ”جس نے اپنے عضو مخصوص کو ہاتھ لگایا اس پر کوئی وضو نہیں ہے۔“ تو مروان نے کہا کہ مجھے حضرت بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان چیزوں کا ذکر کرتے ہوئے سنا جن سے وضو کرنا پڑتا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عضو مخصوص کو چھونے سے بھی وضو کرے۔“ عروہ نے کہا کہ میں مروان سے بحث کرتا رہا حتیٰ کہ اس نے اپنے محافظ دستے سے ایک آدمی بلایا اور اسے حضرت بسرہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا۔ اس نے ان سے اس روایت کے بارے میں سوال کیا جو انہوں نے مروان کو بیان کی تھی تو حضرت بسرہ رضی اللہ عنہا نے وہی روایت سنا کر بھیجی جو مروان نے مجھے ان کے نام سے بیان کی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 164]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 15785) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 446
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا أَفْضَى أَحَدُكُمْ بِيَدِهِ إِلَى فَرْجِهِ فَلْيَتَوَضَّأْ".
بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنا ہاتھ اپنے ذکر (عضو تناسل) تک لے جائے (چھوئے) تو چاہیئے کہ وہ وضو کرے“۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 446]
حضرت بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا سے منقول ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنا ہاتھ اپنی شرم گاہ کو لگائے تو وضو کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 446]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 163 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 447
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، أَنَّهُ قَالَ: الْوُضُوءُ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ. فَقَالَ مَرْوَانُ: أَخْبَرَتْنِيهِ بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ، فَأَرْسَلَ عُرْوَةُ، قَالَتْ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُتَوَضَّأُ مِنْهُ، فَقَالَ:" مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ".
عروہ بن زبیر مروان بن حکم سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: شرمگاہ چھونے پر وضو ہے، تو مروان نے کہا: مجھ سے اسے بسرہ بنت صفوان نے بیان کیا ہے، تو عروہ نے بسرہ کے پاس (اس کی تصدیق کے لیے آدمی) بھیجا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چیزوں کا ذکر کیا جن سے وضو کیا جاتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذکر چھونے سے بھی وضو ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 447]
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مروان بن حکم نے کہا: ”عضو مخصوص چھونے سے وضو واجب ہوجاتا ہے۔“ مروان نے کہا: ”مجھے یہ بات بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے بتائی۔“ عروہ رحمہ اللہ نے ان (بسرہ) کو پیغام بھیجا تو انہوں نے فرمایا: ”ایک دفعہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چیزوں کا ذکر فرمایا جن سے وضو واجب ہوتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عضو کو چھونے سے بھی۔“” [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 447]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 163 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 448
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قال: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلَا يُصَلِّي حَتَّى يَتَوَضَّأَ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ هَذَا الْحَدِيثَ، وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ.
بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنا ذکر (عضو تناسل) چھوئے، تو نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ وضو کر لے“۔ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی) کہتے ہیں: ہشام بن عروہ نے اس حدیث ۱؎ کو اپنے باپ سے نہیں سنا ہے، «واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم» ۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 448]
حضرت بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی اپنے عضو کو ہاتھ لگائے تو وہ وضو کیے بغیر نماز نہ پڑھے۔“ امام ابوعبدالرحمن رحمہ اللہ (نسائی) بیان کرتے ہیں کہ ہشام بن عروہ نے یہ حدیث اپنے باپ (حضرت عروہ رحمہ اللہ) سے نہیں سنی۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 448]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 163 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اور دوسری حدیثوں کا سماع ان سے ثابت ہے، اور یہ حدیث بواسطہ «عروہ عن مروان، عن بسرۃ» متصل اور صحیح ہے، دیکھئیے سند رقم ۱۶۳، ۱۶۴۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح