سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب : ذكر الاختلاف على عبد الله بن دينار في لفظ هذا الحديث
باب: اس حدیث کے الفاظ میں عبداللہ بن دینار پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4480
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , عَنْ إِسْمَاعِيل , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ بَيِّعَيْنِ لَا بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا , إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیچنے اور خریدنے والے دونوں کے درمیان اس وقت تک بیع پوری نہیں ہوتی جب تک وہ جدا نہ ہو جائیں، سوائے بیع خیار کے“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4480]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سودا کرنے والے دو اشخاص میں سے ہر ایک کے لیے سودا پکا نہیں ہوتا حتیٰ کہ وہ جدا ہو جائیں مگر اختیار والا سودا۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4480]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 10 (1531)، (تحفة الأشراف: 7131) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 4470
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمُتَبَايِعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ، مَا لَمْ يَفْتَرِقَا، إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خریدنے اور بیچنے والا جب تک الگ الگ نہ ہو جائیں دونوں کو اپنے ساتھی پر اختیار رہتا ہے، سوائے اس بیع کے جس میں اختیار کی شرط ہو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4470]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خرید و فروخت کرنے والے دو اشخاص میں سے ہر ایک کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ جدا ہونے سے قبل سودا واپس کرے، البتہ بیع خیار میں ایسے نہیں ہوتا۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4470]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 10 (1531)، سنن ابی داود/البیوع 53 (3454)، (تحفة الأشراف: 8341)، مسند احمد (1/56) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: وہ معاملہ جس میں طرفین سے یہ طے ہو کہ فلان تاریخ تک یا اتنے دن تک معاملہ کو ختم کرنے کا اختیار رہے گا، اس معاملہ میں مقررہ مدت تک حق اختیار اور حاصل رہے گا، باقی دیگر معاملات میں صرف معاملہ کی مجلس ختم ہونے تک اختیار رہے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4471
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ، مَا لَمْ يَفْتَرِقَا، أَوْ يَكُونَ خِيَارًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خرید و فروخت کرنے والوں کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ الگ الگ نہ ہوں، یا پھر اختیار کی شرط ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4471]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خرید و فروخت کرنے والے دو اشخاص جب تک جدا نہ ہوں، واپسی کا اختیار رکھتے ہیں الا یہ کہ بیعِ خیار ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4471]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 10 (1531م)، (تحفة الأشراف: 8180)، مسند احمد (2/54) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4472
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحْرِزٌ بُنُ الْوَضَّاحُ , عَنْ إِسْمَاعِيل , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُتَبَايِعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا , إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْبَيْعُ كَانَ عَنْ خِيَارٍ , فَإِنْ كَانَ الْبَيْعُ عَنْ خِيَارٍ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خرید و فروخت کرنے والوں کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ الگ نہ ہوں، سوائے اس کے کہ بیع اختیار کی شرط کے ساتھ ہوئی ہو، لہٰذا اگر بیع اختیار کی شرط کے ساتھ ہوئی ہے تو بیع ہو جاتی ہے“ (البتہ اختیار باقی رہتا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4472]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو سودا کرنے والے جب تک جدا نہ ہوں، واپسی کا اختیار رکھتے ہیں، الا یہ کہ وہ سودا خیار والا ہو۔ اگر سودے میں اختیار ختم کر دیا گیا ہو تو بیع پکی ہو گئی (اب واپسی کا اختیار نہیں رہے گا، خواہ مجلس قائم بھی ہو)۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4472]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد النسائي (تحفة الأشراف: 7506) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4473
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , قَالَ: أَمْلَى عَلَيَّ نَافِعٌ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا تَبَايَعَ الْبَيِّعَانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مِنْ بَيْعِهِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا , أَوْ يَكُونَ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ , فَإِنْ كَانَ عَنْ خِيَارٍ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو آدمی بیع کریں تو ان میں سے ہر ایک کو اپنی بیع کا اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ دونوں الگ تھلگ نہ ہوں، یا پھر ان کی بیع میں اختیار کی شرط ہو، تو اگر بیع میں شرط اختیار ہو تو بیع ہو جاتی ہے (لیکن حق اختیار باقی رہتا ہے)“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4473]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو شخص سودا کریں تو ان میں سے ہر ایک کو اپنی بیع کی واپسی کے بارے میں ایک دوسرے کے جدا ہونے تک اختیار حاصل ہے یا ان کی بیع میں اختیار ختم کر دیا گیا ہو، اگر ایسی بات ہے تو بیع پکی ہو گئی۔ (اب واپسی نہیں ہو گی)۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4473]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 10 (1531)، (تحفة الأشراف: 7779) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 4474
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى , قَالَ: حَدَّثَنَا سَعيِدٌ، عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا , أَوْ يَقُولَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ اخْتَرْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیع کرنے والے دونوں کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ الگ تھلگ نہ ہوں، یا پھر ان میں سے ایک دوسرے سے کہے کہ اختیار کی شرط کر لو“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4474]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سودا کرنے والے دو شخص واپسی کا اختیار رکھتے ہیں جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں، یا پھر ان میں سے ایک دوسرے کو بیع کے دوران ہی میں کہہ دے کہ اب پسند کر لو۔ (بعد میں واپسی نہیں ہو گی۔ ایسی صورت میں اختیار نہیں رہے گا)۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4474]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4470 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4475
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَفْتَرِقَا , أَوْ يَكُونَ بَيْعَ خِيَارٍ" , وَرُبَّمَا قَالَ نَافِعٌ: أَوْ يَقُولَ:" أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ اخْتَرْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیع کرنے والے دونوں کو اختیار رہتا ہے جب تک الگ تھلگ نہ ہوں، یا پھر وہ اختیاری خرید و فروخت ہو“۔ نافع کی بعض روایتوں میں یوں ہے «أو يقول أحدهما للآخر اختر» ”یا ان میں سے ایک دوسرے سے یہ کہے: بیع میں اختیار کی شرط کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4475]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیع کرنے والے دو افراد ایک دوسرے سے جدا ہونے تک بیع کی واپسی کا اختیار رکھتے ہیں الا یہ کہ وہ بیع خیار ہو“ اور کبھی نافع نے کہا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا): ”یا ان میں سے ایک دوسرے کو (بیع کرتے وقت) کہہ دے: اب پسند کر لے (بعد میں واپسی نہیں ہو گی)۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4475]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4476
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَفْتَرِقَا , أَوْ يَكُونَ بَيْعَ خِيَارٍ" , وَرُبَّمَا قَالَ نَافِعٌ:" أَوْ يَقُولَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ اخْتَرْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیع کرنے والے دونوں اختیار کے ساتھ رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ الگ تھلگ ہو جائیں، یا بیع خیار (اختیاری بیع) کے ساتھ ہو“۔ کبھی کبھی نافع نے یوں کہا: ” «أو يقول أحدهما للآخر اختر» یا یہ کہ ان میں سے ایک دوسرے سے کہے: بیع بالخیار کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4476]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سودا کرنے والے دو شخص ایک دوسرے سے جدا ہونے تک سودے کی واپسی کا اختیار رکھتے ہیں الا یہ کہ وہ اختیار والا سودا ہو۔“ اور کبھی نافع نے کہا (آپ نے فرمایا تھا): ”یا (سودا کرتے وقت) ایک نے دوسرے سے کہہ دیا ہو: ابھی پسند کر لے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4476]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 45 (2112)، صحیح مسلم/البیوع 10 (1531)، سنن ابن ماجہ/التجارات 17 (2181)، (تحفة الأشراف: 8272)، مسند احمد (2/19) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4477
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلَانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ حَتَّى يَفْتَرِقَا" , وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى:" مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا وَكَانَا جَمِيعًا أَوْ يُخَيِّرَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ , فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ , فَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو آدمی آپس میں خریدیں اور بیچیں تو ان میں سے ہر ایک کو اس وقت تک اختیار ہوتا ہے جب تک وہ جدا نہ ہوں، اور ایک دوسری بار نافع نے ( «حتى يفترقا» کے بجائے) «ما لم يتفرقا» کہا، حالانکہ وہ دونوں ایک جگہ تھے، یا یہ کہ ان میں سے ایک دوسرے کو اختیار دیدے، لہٰذا اگر ان میں سے ایک دوسرے کو اختیار دیدے اور وہ دونوں اس (شرط خیار) پر بیع کر لیں تو بیع ہو جائے گی، اب اگر وہ دونوں بیع کرنے کے بعد جدا ہو جائیں اور ان میں سے کسی ایک نے بیع ترک نہ کی تو بیع ہو جائے گی۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4477]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو شخص سودا کریں تو ان میں سے ہر ایک کو واپسی کا اختیار رہتا ہے حتیٰ کہ وہ ایک دوسرے سے جدا ہوں۔“ ایک اور مرتبہ (نافع نے ان الفاظ سے) بیان کیا کہ (آپ نے فرمایا: ”ان دونوں کو اختیار ہے) جب تک وہ دونوں جدا نہ ہوں اور اکٹھے رہیں الا یہ کہ ان میں سے کوئی ایک، دوسرے کو (بیع کے وقت ہی) اختیار دے دے۔ اگر بیع کے وقت ہی ان دونوں میں سے ایک، دوسرے کو اختیار دے دے اور وہ دونوں اس پر سودا کر لیں تو بیع پکی ہو گئی۔ اور اگر سودا کرنے کے بعد وہ ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں اور اس وقت تک کسی نے بیع واپس نہیں کی تو بیع پکی ہو گئی (اب واپس نہیں ہو گی)۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4477]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4478
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ , يَقُولُ: سَمِعْتُ نَافِعًا يُحَدِّثُ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمُتَبَايِعَيْنِ بِالْخِيَارِ فِي بَيْعِهِمَا مَا لَمْ يَفْتَرِقَا , إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْبَيْعُ خِيَارًا" , قَالَ نَافِعٌ: فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا اشْتَرَى شَيْئًا يُعْجِبُهُ فَارَقَ صَاحِبَهُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خرید و فروخت کرنے والے دونوں اپنی بیع کے سلسلے میں اس وقت تک اختیار کے ساتھ رہتے ہیں جب تک وہ جدا نہ ہوں، سوائے اس کے کہ وہ بیع خیار (اختیاری خرید و فروخت) ہو“۔ نافع کہتے ہیں: چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب کوئی ایسی چیز خریدتے جو دل کو بھا گئی ہو تو صاحب معاملہ سے (فوراً) جدا ہو جاتے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4478]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو سودا کرنے والے ایک دوسرے سے جدائی تک اپنی بیع کی واپسی کا اختیار رکھتے ہیں الا یہ کہ وہ بیع خیار والی ہو۔“ نافع نے کہا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب کوئی چیز خریدتے اور وہ چیز ان کو اچھی لگتی تو (سودا کرتے ہی) اپنے ساتھی سے جدا ہو جاتے (تاکہ وہ واپس نہ کر سکے)۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4478]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 10 (1531)، سنن الترمذی/البیوع 26 (1245)، (تحفة الأشراف: 8522) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 4479
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعٌ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُتَبَايِعَانِ لَا بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا , إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خرید و فروخت کرنے والے دونوں کے درمیان اس وقت تک بیع پوری نہیں ہوتی جب تک وہ جدا نہ ہو جائیں، سوائے بیع خیار کے“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4479]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو سودا کرنے والے جب تک ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو جاتے، ان کا سودا پکا نہیں ہوتا، الا یہ کہ وہ سودا کرتے وقت اختیار ختم کر لیں۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4479]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4481
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ , عَنْ شُعَيْبٍ , عَنْ اللَّيْثِ , عَنْ ابْنِ الْهَادِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" كُلُّ بَيِّعَيْنِ فَلَا بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا , إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بیچنے اور خریدنے والے دونوں کے درمیان اس وقت تک بیع پوری نہیں ہوتی جب تک وہ جدا نہ ہو جائیں، سوائے بیع خیار کے“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4481]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”سودا کرنے والے دو اشخاص کے درمیان بیع مستقل نہیں ہوتی حتیٰ کہ وہ الگ الگ ہو جائیں علاوہ اختیار والی بیع کے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4481]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7265)، ویأتي عند المؤلف برقم: 4483) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4482
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ بَيِّعَيْنِ لَا بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا , إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیچنے اور خریدنے والے دونوں کے درمیان اس وقت تک بیع پوری نہیں ہوتی جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں، سوائے بیع خیار کے“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4482]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیع کرنے والے دو افراد کے درمیان بیع پکی نہیں ہوتی حتیٰ کہ وہ الگ الگ ہو جائیں علاوہ بیعِ خیار کے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4482]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 46 (2113)، (تحفة الأشراف: 7155)، مسند احمد (2/135) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 4483
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ بَكْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" كُلُّ بَيِّعَيْنِ لَا بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا , إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بیچنے اور خریدنے والے دونوں کے درمیان اس وقت تک بیع پوری نہیں ہوتی جب تک دونوں جدا نہ ہو جائیں، سوائے بیع خیار کے“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4483]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”سودا کرنے والے دو افراد کے درمیان سودا مستقل نہیں ہوتا حتیٰ کہ ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں مگر خیار والی بیع (کا حکم الگ ہے)۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4483]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4481 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4484
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ , عَنْ بَهْزِ بْنِ أَسَدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ بَيِّعَيْنِ فَلَا بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا , إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیچنے اور خریدنے والے دونوں کے درمیان اس وقت تک بیع پوری نہیں ہوتی جب تک وہ جدا نہ ہو جائیں، سوائے بیع خیار کے“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4484]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر دو سودا کرنے والوں کے درمیان سودا پکا نہیں ہوتا حتیٰ کہ ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں مگر خیار والی بیع (کا حکم الگ ہے)۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4484]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7195)، مسند احمد (2/15) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح