سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب : بيع الثمر بالتمر
باب: درخت کے پھل کو توڑے ہوئے پھلوں سے بیچنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4537
أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ , وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يُبَاعَ مَا فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِتَمْرٍ بِكَيْلٍ مُسَمًّى , إِنْ زَادَ لِي وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَيَّ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا، اور مزابنہ یہ ہے کہ درخت میں موجود پھل کو متعین توڑے ہوئے پھلوں سے بیچنا اس طور پر کہ زیادہ ہوا تو بھی میرا (یعنی کا) اور کم ہوا تو بھی میرے ذمہ۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4537]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْمُزَابَنَةِ» (مزابنہ) سے منع فرمایا اور مزابنہ یہ ہے کہ درخت پر لگا ہوا پھل (کھجور) معین وزن (یا ماپ) کی خشک کھجوروں کے بدلے بیچا جائے کہ ”اگر کھجور کا پھل زیادہ ہوا تو اس کا فائدہ بھی مجھے ہے اور اگر پھل کم ہوا تو اس کا نقصان بھی مجھے ہوگا۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4537]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 75 (2172)، صحیح مسلم/البیوع 14(1542)، (تحفة الأشراف: 7522)، مسند احمد (2/5، 64) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 3949
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ، يَقُولُ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , وَهُوَ يَسْأَلُ عَنِ الْخِبْرِ، فَيَقُولُ: مَا كُنَّا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا , حَتَّى أَخْبَرَنَا عَامَ الْأَوَّلِ، ابْنُ خَدِيجٍ أَنَّهُ سَمِعَ" النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْخِبْرِ". وَافَقَهُمَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ.
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار کو کہتے سنا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو سنا اور وہ مخابرہ کے بارے میں پوچھ رہے تھے تو وہ کہہ رہے تھے کہ ہم اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے یہاں تک کہ ہمیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے (خلافت یزید کے) پہلے سال ۱؎ میں خبر دی کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخابرہ سے منع فرماتے سنا ہے۔ ان دونوں (سفیان و ابن جریج) کی موافقت حماد نے کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 3949]
عمرو بن دینار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو فرماتے سنا، جبکہ ان سے بٹائی کے بارے میں پوچھا گیا تھا: ہم اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے حتیٰ کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے ہمیں پہلے سال بتلایا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بٹائی سے منع فرماتے سنا ہے۔ حماد بن زید رحمہ اللہ نے ان دونوں (سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ اور ابن جریج رحمہ اللہ) کی موافقت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 3949]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظرماقبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ واقعہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے آخری دور خلافت کا ہے، اس لیے پہلے سال سے مراد یزید کی خلافت کا پہلا سال ہے۔ (واللہ اعلم)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3963
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ:" كَانَتِ الْمَزَارِعُ تُكْرَى عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عَلَى أَنَّ لِرَبِّ الْأَرْضِ مَا عَلَى رَبِيعِ السَّاقِي مِنَ الزَّرْعِ , وَطَائِفَةً مِنَ التِّبْنِ , لَا أَدْرِي كَمْ هُوَ".
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کھیت بٹائی پر دیے جاتے تھے اس شرط پر کہ زمین کے مالک کے لیے وہ پیداوار ہو گی جو نالیوں اور نہروں کی کیاریوں پر ہو اور کچھ گھاس جس کی مقدار مجھے معلوم نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 3963]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ مبارک میں زمینیں کرائے پر دی جاتی تھیں، اس شرط پر کہ پانی کے نالوں کے قریب اگنے والی فصل اور کچھ معین توڑی، نہ معلوم وہ کتنی ہوتی تھی، مالکِ زمین کو ملے گی (اور باقی مزارع کو)۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 3963]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8425) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4538
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ , وَالْمُزَابَنَةُ: بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا , وَبَيْعُ الْكَرْمِ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا، مزانبہ درخت پر لگے کھجور کو توڑے ہوئے کھجور سے ناپ کر بیچنا، اور بیل پر لگے تازہ انگور کو توڑے ہوئے انگور (کشمش) سے ناپ کر بیچنا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4538]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْمُزَابَنَةُ» ”مزابنہ“ سے منع فرمایا ہے، اور مزابنہ ہے کہ تازہ کھجوریں (درخت پر لگی ہوئیں) تولی ماپی ہوئی خشک کھجوروں کے بدلے اور درخت پر لگے ہوئے انگور ماپے ہوئے منقیٰ کے بدلے بیچے جائیں۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4538]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 75 (2171)، 82 (2185)، صحیح مسلم/البیوع 14 (1542)، (تحفة الأشراف: 8360)، موطا امام مالک/البیوع 13(23)، مسند احمد (2/7، 63) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4553
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُزَابَنَةِ , أَنْ يَبِيعَ ثَمَرَ حَائِطِهِ وَإِنْ كَانَ نَخْلًا بِتَمْرٍ كَيْلًا , وَإِنْ كَانَ كَرْمًا أَنْ يَبِيعَهُ بِزَبِيبٍ كَيْلًا , وَإِنْ كَانَ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهُ بِكَيْلِ طَعَامٍ , نَهَى عَنْ ذَلِكَ كُلِّهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا ہے ”مزابنہ یہ ہے کہ آدمی اپنے باغ میں لگے پھل کو بیچے، اگر وہ کھجور ہو تو نپی ہوئی کھجور سے بیچے، اور اگر انگور ہو تو اسے نپے ہوئے خشک انگور (منقیٰ یا کشمش) سے بیچے، اور اگر کھڑی کھیتی (فصل) ہو تو اسے نپے ہوئے اناج سے بیچے“۔ آپ نے ان تمام اقسام کی بیع سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4553]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْمُزَابَنَةِ» ”مزابنہ سے منع فرمایا ہے، وہ یہ ہے کہ (کوئی شخص) اپنے باغ کا پھل (مثلاً) تازہ کھجوریں خشک تولی ہوئی کھجوروں کے عوض بیچے، اسی طرح انگوروں کو تولے ہوئے منقیٰ کے عوض بیچے اور اگر کھیتی ہو تو اسے معین غلے کے عوض بیچے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام صورتوں سے منع فرما دیا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4553]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 91 (2205)، صحیح مسلم/البیوع 14 (1542)، سنن ابن ماجہ/التجارات 54 (2265)، (تحفة الأشراف: 8273)، مسند احمد (2/123) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه