🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
109. باب : ذكر الشفعة وأحكامها
باب: شفعہ اور اس کے احکام کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4708
أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ مَالٍ لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَعُرِفَتِ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ".
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ مال جو تقسیم نہ ہوا ہو، اس میں شفعہ کا حق ہے۔ لہٰذا جب حد بندی ہو جائے اور راستہ متعین ہو جائے تو اس میں شفعہ کا حق نہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4708]
حضرت ابو سلمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شفعہ ہر اس مال میں ہے جو تقسیم نہ ہوا ہو۔ جب الگ الگ حد بندی ہو جائے اور راستے بھی الگ الگ ہو جائیں تو شفعہ باقی نہیں رہتا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4708]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 19583) (صحیح) (یہ حدیث مرسل ہے، اس لیے کہ ابوسلمہ نے یہاں پر واسطہ کا ذکر نہیں کیا، لیکن صحیح بخاری، کتاب الشفعہ (2257) میں ابو سلمہ نے اس حدیث کو جابر (رضی الله عنہ) سے روایت کیا ہے)»
وضاحت: ۱؎: حق شفعہ کے سلسلہ میں مناسب اور صحیح بات یہ ہے کہ یہ حق ایسے دو پڑوسیوں کو حاصل ہو گا جن کے مابین پانی، راستہ وغیرہ مشتر کہوں، دوسری صورت میں یہ حق حاصل نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4650
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ شِرْكٍ رَبْعَةٍ , أَوْ حَائِطٍ لَا يَصْلُحُ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ , فَإِنْ بَاعَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ حَتَّى يُؤْذِنَهُ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شفعہ کا حق ہر چیز میں ہے، زمین ہو یا کوئی احاطہٰ (باغ وغیرہ)، کسی حصہ دار کے لیے جائز نہیں کہ اپنے دوسرے حصہ دار کی اجازت کے بغیر اپنا حصہ بیچے، اگر اس نے بیچ دیا تو وہ (دوسرا حصہ دار) اس کا زیادہ حقدار ہو گا یہاں تک کہ وہ خود اس کی اجازت دیدے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4650]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شفعہ ہر مشترکہ چیز میں ہو سکتا ہے، وہ گھر ہو یا باغ (اور کھیت)۔ کسی ایک شریک کو جائز نہیں (مشترکہ چیز میں اپنا حصہ) فروخت کرے حتیٰ کہ اپنے شریک (ساتھی یا ساتھیوں) کو مطلع کرے۔ اگر وہ بلا اطلاع فروخت کر دے تو شریک اس کو لینے کا حق دار ہو گا الا یہ کہ اسے اطلاع کرنے کے بعد بیچے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4650]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساقاة 28 (البیوع49) (1608)، سنن ابی داود/البیوع 75 (3513)، (تحفة الأشراف: 2806)، مسند احمد (3/312، 316، 357، 397)، سنن الدارمی/البیوع 83 (2670)، ویأتي عندالمؤلف برقم: 4705 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «شفعہ» : زمین، باغ گھر وغیرہ میں ایسی ساجھے داری کو کہتے ہیں جس میں کسی فریق کا حصہ متعین نہ ہو کہ ہمارا حصہ یہاں سے یہاں تک ہے اور دوسرے کا حصہ یہاں سے یہاں تک ہے بس مطلق ملکیت میں سب کی ساجھے داری ہو، ایسا ساجھے دار اگر اپنا حصہ بیچنا چاہتا ہے تو دوسرے شریک کو پہلے بتائے، اگر وہ اسی قیمت پر لینے پر راضی ہو جائے تو اسی کا حق ہے، اگر جازت دیدے تب دوسرے سے بیچنا جائز ہو گا، اور اگر اس کی اجازت کے بغیر بیچ دیا تو وہ اس بیع کو قاضی منسوخ کرا سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4705
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ شَرِكَةٍ لَمْ تُقْسَمْ رَبْعَةٍ وَحَائِطٍ لَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَبِيعَهُ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ، فَإِنْ شَاءَ أَخَذَ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ، وَإِنْ بَاعَ وَلَمْ يُؤْذِنْهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مشترک مال جو تقسیم نہ ہوا ہو جیسے زمین یا باغ، میں شفعہ کا حکم دیا، اس کے لیے صحیح نہیں کہ وہ اسے بیچے جب تک کہ حصہ دار سے اجازت نہ لے لے، اگر وہ (شریک) چاہے تو اسے لے لے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے، اور اگر اس (شریک) سے اس کی اجازت لیے بغیر بیچ دیا تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4705]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مشترک چیز میں حق شفعہ قرار دیا ہے بشرطیکہ وہ تقسیم نہ ہوئی ہو۔ گھر ہو یا کھیت ہو یا باغ۔ کسی ایک شریک کو اپنا حصہ بیچنے کی اجازت نہیں حتیٰ کہ اپنے شریک کو مطلع کرے۔ چاہے وہ لے لے، چاہے نہ لے۔ لیکن اگر اسے اطلاع کیے بغیر بیچ ڈالا تو شریک اس کا زیادہ حق دار ہوگا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4705]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4650 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4706
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ".
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑوسی اپنے پڑوس کا زیادہ حقدار ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4706]
حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑوسی اپنے قرب کی وجہ سے زیادہ حق رکھتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4706]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الشفعة 2 (2258)، الحیل14(6977)، 15(6978)، سنن ابی داود/البیوع 75 (3516)، سنن ابن ماجہ/الشفعة 3 (الأحکام 87) (2498)، (تحفة الأشراف: 12027)، مسند احمد (6/10، 390) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: شفعہ وہ استحقاق ہے جس کے ذریعہ شریک اپنے شریک کا وہ حصہ جو دوسرے کی ملکیت میں جا چکا ہے قیمت ادا کر کے حاصل کر سکے، لیکن اس میں شرط یہ ہے کہ دونوں کی جائیداد اس طرح مشترک ہو کہ دونوں کے حصے کی تعیین نہ ہو، اور دونوں کا راستہ بھی ایک ہو، دیکھئیے حدیث رقم ۴۷۰۸۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4707
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْضِي لَيْسَ لِأَحَدٍ فِيهَا شَرِكَةٌ، وَلَا قِسْمَةٌ إِلَّا الْجُوَارَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ".
شرید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میری زمین ہے، جس میں کسی کی حصہ داری اور شرکت نہیں اور نہ ہی پڑوس کے سوا کسی کا حصہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑوسی اپنے پڑوسی کا زیادہ حقدار ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4707]
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری زمین میں کوئی شخص شریک نہیں، نہ کسی کا حصہ ہے، البتہ پڑوس ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑوسی بھی قرب کی وجہ سے حق دار ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4707]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الشفعة 2 (2496)، (تحفة الأشراف: 4840)، مسند احمد (4/388، 389، 390) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4709
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حُسَيْنٍ وَهُوَ ابْنُ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ وَالْجِوَارِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شفعہ اور پڑوس کے حق کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4709]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شفعہ اور پڑوس کے حق کو برقرار رکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4709]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2687) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں