🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب : الخضاب بالحناء والكتم
باب: مہندی اور کتم لگانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5086
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ:" أَتَيْتُ أَنَا وَأَبِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ قَدْ لَطَخَ لِحْيَتَهُ بِالْحِنَّاءِ".
ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اس وقت آپ نے اپنی ڈاڑھی میں مہندی لگا رکھی تھی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5086]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1573 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: آگے انس رضی اللہ عنہ کی حدیث (نمبر: ۵۰۸۹) میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں میں اتنے سفید بال تھے ہی نہیں کہ آپ خضاب لگاتے۔ دونوں حدیثوں میں باہم یوں تطبیق دی جاتی ہے کہ واقعی اتنے زیادہ بال تھے نہیں کہ آپ کو ان کے رنگ تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی (یعنی بذریعہ خضاب) مگر آپ نے ان کا رنگ تبدیل کیا تاکہ امت کے لیے نمونہ ہو، اس عمل کو انس رضی اللہ عنہ کو دیکھنے کا اتفاق نہ ہو سکا۔ رہی ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اگلی حدیث (نمبر: ۵۰۸۸) کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیلے رنگ سے اپنے بال رنگتے تھے تو پیلے رنگ کا استعمال بعد میں منسوخ ہو گیا تھا جس کی خبر ابن عمر رضی اللہ عنہما کو نہیں ہو سکی تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1573
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قال:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ".
ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ خطبہ دے رہے تھے اور آپ پر ہرے رنگ کی دو چادریں تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 1573]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد المؤلف بلفظ ’’یخطب‘‘ وأخرجہ کل من: سنن ابی داود/اللباس 19 (4065)، الترجل 18 (4206، 4207)، سنن الترمذی/الأدب 48 (2812)، (تحفة الأشراف: 12036)، مسند احمد 2/226، 227، 228 و 4/163، سنن الدارمی/الدیات 25 (2433، 2434)، ولیس عندھم ذکرالخطبة، بل فی بعض روایات أحمد أنہ کان جالسا فی ظل الکعبة، وبدون ذکرالخطبة، یأتی عند المؤلف نفسہ فی الزینة 96 (برقم: 5321) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5321
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو نُوحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ:" خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ".
ابورمثہ رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک بار گھر سے) باہر نکلے، آپ دو ہرے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5321]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1553 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں