سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب : الموتشمات وذكر الاختلاف على عبد الله بن مرة والشعبي في هذا
باب: گودوانے والی عورتوں کا بیان اور اس حدیث کی روایت میں عبداللہ بن مرہ اور شعبی کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 5105
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُرَّةَ يُحَدِّثُ , عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" آكِلُ الرِّبَا وَمُوكِلُهُ، وَكَاتِبُهُ إِذَا عَلِمُوا ذَلِكَ، وَالْوَاشِمَةُ، وَالْمَوْشُومَةُ لِلْحُسْنِ، وَلَاوِي الصَّدَقَةِ، وَالْمُرْتَدُّ أَعْرَابِيًّا بَعْدَ الْهِجْرَةِ، مَلْعُونُونَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”سود کھانے والا، کھلانے والا، اور اس کا لکھنے والا ۱؎ جب کہ وہ اسے جانتا ہو (کہ یہ حرام ہے) اور خوبصورتی کے لیے گودنے اور گودوانے والی عورتیں، صدقے کو روکنے والا اور ہجرت کے بعد لوٹ کر اعرابی (دیہاتی) ہو جانے والا ۲؎ یہ سب قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ملعون ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5105]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”سود لینے والا، دینے والا، سود لکھنے والا بشرطیکہ وہ جانتے بوجھتے ہوں اور حسن کی خاطر رنگ بھرنے والی، بھروانے والی، زکاۃ سے انکار کرنے والا اور ہجرت کر جانے کے بعد دوبارہ بادیہ کو لوٹ جانے والا، یہ سب اشخاص حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی قیامت کے دن ملعون ہوں گے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5105]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9195)، مسند احمد (1/409، 430، 465)، وراجع أیضا: صحیح مسلم/المساقاة 19 (1597)، سنن ابی داود/البیوع 4 (3333)، سنن الترمذی/البیوع 2 (1206)، سنن ابن ماجہ/التجارات 58 (2277)، مسند احمد (1/ 393، 394، 402، 453) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سود کھانا اور کھلانا تو اصل گناہ ہے، اور حساب کتاب گناہ میں تعاون کی قبیل سے ہے اس لیے وہ بھی حرام ہے اور موجب لعنت ہے۔ اسی طرح وہ کام جو اس حرام کام میں ممدو معاون ہوں موجب لعنت ہیں۔ ۲؎: یہ اس وقت کے تناظر میں تھا جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہ کر ان کی مدد کرنی واجب تھی اور مدینہ کے علاوہ مسلمانوں کا کوئی مرکزی بھی نہیں تھا، اگر دنیا میں کہیں اب بھی ایسی صورت حال پیدا ہو جائے تو دنیاوی منفعت کی خاطر مرکز اسلام کو چھوڑ کر دوسری جگہ منتقل ہو جانے کا یہی حکم ہو گا، مگر اب ایسا کہاں؟۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، حارث الأعور ضعيف،. ولبعض الحديث شواهد صحيحة. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 360
حدیث نمبر: 3445
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاشِمَةَ وَالْمُوتَشِمَةَ، وَالْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ، وَآكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ، وَالْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے گودنے اور گودانے والی پر اور بالوں کو (بڑا کرنے کے لیے) جوڑنے والی اور جوڑوانے والی پر اور سود کھانے والے پر اور سود کھلانے والے پر اور حلالہ کرنے پر اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے اس پر۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 3445]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”جسم میں رنگ بھرنے والی، بھروانے والی، زائد بال ملانے والی اور جسے زائد بال لگائے جائیں، سود کھانے والے اور کھلانے والے، حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے، ان سب پر لعنت فرمائی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 3445]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/النکاح 28 (1120) مختصراً، (تحفة الأشراف: 9595)، مسند احمد (1/448، 462، سنن الدارمی/النکاح 53 (2304) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 5102
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاشِمَاتِ، وَالْمُوتَشِمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گودنے والی، گودوانے والی، پیشانی کے بال اکھاڑنے والی، خوبصورتی کے لیے دانتوں کے درمیان کشادگی کروانے والی، اور اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی چیز کو بدلنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5102]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”رنگ بھرنے والی، بھروانے والی، بال اکھیڑنے والی اور دانتوں کو رگڑ رگڑ کر باریک کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے جو حسن کی خاطر (اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی صورت میں) بگاڑ پیدا کرتی ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5102]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیرسورة الحشر 4 (4886)، اللباس 82 (5931)، 84 (5939)، 85 (5943)، 86 (5944)، 87 (5948)، صحیح مسلم/اللباس 33 (2125)، سنن ابی داود/الترجل 5 (4169)، سنن الترمذی/الأدب 33 (2782)، سنن ابن ماجہ/النکاح 52 (1989)، (تحفة الأشراف: 9450)، مسند احمد (1/433، 443، 465)، سنن الدارمی/الإستئذان 19 (2689)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5110- 5112، 5254- 5257 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: چونکہ یہ سارے اعمال ممنوع ہیں اس لیے ان کو کرنے والے اور ان کے کرنے میں مدد دینے والے سب پر لعنت کی گئی ہے، دانتوں میں کشادگی کے لیے، دانتوں کی تراش خراش کرنی پڑتی ہے اور یہ عمل قدرتی دانتوں میں تبدیلی ہے جو اللہ کی تخلیق میں دخل دینا ہے اس لیے یہ عمل بھی ممنوع ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 5110
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ الْعُرْيَانِ بْنِ الْهَيْثَمِ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَلْعَنُ الْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ، وَالْمُوتَشِمَاتِ اللَّاتِي يُغَيِّرْنَ خَلْقَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چہرے کے بال اکھاڑنے والی، دانتوں کے درمیان کشادگی کرانے والی اور گودانے والی عورتوں پر لعنت فرماتے ہوئے سنا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی خلقت کو تبدیل کرتی ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5110]
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ ”بال اکھیڑنے والی، بہ تکلف دانتوں کو کشادہ کرنے والی اور رنگ بھروانے والی عورتوں پر لعنت کرتے تھے جو اللہ عزوجل کی پیدا کردہ صورت میں بگاڑ پیدا کرتی ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5110]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد النسائي (تحفة الأشراف: 9536)، مسند احمد (1/416، 417)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 5111، 5112) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 5111
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ الْعُرْيَانِ بْنِ الْهَيْثَمِ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَلْعَنُ الْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ، وَالْمُوتَشِمَاتِ اللَّاتِي يُغَيِّرْنَ خَلْقَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بال اکھاڑنے والی، دانتوں کے درمیان کشادگی کرانے والی اور گودوانے والی عورتوں پر لعنت کرتے سنا، جو اللہ کی خلقت کو تبدیل کرتی ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5111]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ”بال اکھیڑنے والی، دانتوں کو بہ تکلف کشادہ کرنے والی اور رنگ بھروانے والی عورتوں پر لعنت فرماتے ہوئے سنا ہے جو اللہ عزوجل کی بنائی ہوئی صورت میں تبدیلی پیدا کرتی ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5111]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5110 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5112
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ الْعُرْيَانِ بْنِ الْهَيْثَمِ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَعَنَ اللَّهُ الْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُوتَشِمَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ اللَّاتِي يُغَيِّرْنَ خَلْقَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ لعنت فرمائے بال اکھاڑنے والی، گودوانے والی اور دانتوں میں کشادگی کرانے والی عورتوں پر، جو اللہ تعالیٰ کی خلقت کو تبدیل کرتی ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5112]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے بال اکھیڑنے والی، رنگ بھروانے والی اور دانتوں کو بہ تکلف کھلا کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے جو اللہ عزوجل کی بنائی ہوئی صورت کو تبدیل کرتی ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5112]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5110 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5254
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ الْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ" , أَلَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ چہرہ کے روئیں اکھاڑنے والی اور دانتوں کو کشادہ کرنے والی عورتوں پر اللہ نے لعنت فرمائی ہے، کیا میں اس پر لعنت نہ بھیجوں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5254]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے بال اکھیڑنے والی اور دانت کھلے کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے، میں اس پر کیوں لعنت نہ کروں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے؟“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5254]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5102 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5255
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يُحَدِّثُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاشِمَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جسم پر) گودنا گودنے والی، خوبصورتی کے لیے دانتوں کے درمیان کشادگی کروانے والی، پیشانی کے بال اکھاڑنے والی اور اللہ کی بنائی ہوئی چیز کو بدلنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5255]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رنگ بھرنے والی، دانت کھلے کرنے والی اور بال اکھیڑنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے جو اللہ عز وجل کی پیدا کردہ شکل و صورت کو بدلتی ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5255]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5103 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5256
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ الْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ، وَالْمُتَوَشِّمَاتِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ" , فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ: كَذَا وَكَذَا؟ , قَالَ: وَمَا لِي لَا أَقُولُ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے چہرہ کے بال اکھاڑنے والی، دانتوں میں کشادگی کرنے والی، گودنا گودانے والی اور اللہ کی فطرت کو تبدیل کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے، چنانچہ ایک عورت ان کے پاس آ کر کہا: آپ ہی ایسا ایسا کہتے ہیں؟ وہ بولے: آخر میں وہ بات کیوں نہ کہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5256]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے بال اکھیڑنے والی، دانتوں کو کھلا کرنے والی اور رنگ بھروانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے جو اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی صورت کو بدلتی ہیں۔“ ایک عورت ان کے پاس آئی اور کہا: آپ ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں وہ بات کیوں نہ کہوں جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہو؟ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5256]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9604) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5257
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ , يَقُولُ:" لَعَنَ اللَّهُ الْمُتَوَشِّمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ أَلَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ گودنا گودانے والی، چہرے کے بال اکھاڑنے والی اور دانتوں کے درمیان کشادگی کرانے والی عورتوں پر اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے۔ کیا میں اس پر لعنت نہ بھیجوں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5257]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ”اللہ تعالیٰ نے رنگ بھروانے والی اور بہ تکلف بال اکھیڑنے والی، دانت کھلے کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔“ (انہوں نے کہا:) ”میں اس پر کیوں نہ لعنت کروں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے؟“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5257]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5103 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن