سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
54. باب : الجلاجل
باب: گھونگھرو اور گھنٹے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5223
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ الطُّرْسُوسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُوسَى، قَالَ: كُنْتُ مَعَ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فَحَدَّثَ سَالِمٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جُلْجُلٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے ایسے قافلوں کے ساتھ نہیں چلتے جن کے ساتھ گھنگھرو ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5223]
حضرت سالم رحمہ اللہ نے اپنے والد محترم رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے اس قافلے کے ساتھ نہیں جاتے جس میں گھنٹی ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5223]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5222
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ مِنْ وَلَدِ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْخٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ سَالِمٍ، فَمَرَّ بِنَا رَكْبٌ لِأُمِّ الْبَنِينَ مَعَهُمْ أَجْرَاسٌ، فَحَدَّثَ نَافِعًا سَالِمٌ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رَكْبًا مَعَهُمْ جُلْجُلٌ , كَمْ تَرَى مَعَ هَؤُلَاءٍ مِنَ الْجُلْجُلِ".
ابوبکر بن ابی شیخ کہتے ہیں کہ میں سالم کے ساتھ بیٹھا ہو تھا۔ اتنے میں ام البنین کا ایک قافلہ ہمارے پاس سے گزرا ان کے ساتھ کچھ گھنٹیاں تھیں، تو نافع سے سالم نے کہا کہ ان کے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے ایسے قافلوں کے ساتھ نہیں ہوتے جن کے ساتھ گھنگھرو یا گھنٹے ہوں، ان کے ساتھ تو بہت سارے گھنٹے دکھائی دے رہے ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5222]
حضرت ابوبکر بن ابی شیخ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں حضرت سالم رحمہ اللہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ہمارے پاس سے ام البنین کا ایک تجارتی قافلہ گزرا، ان کے ساتھ (بہت سی) گھنٹیاں تھیں تو حضرت سالم رحمہ اللہ نے حضرت نافع رحمہ اللہ کو اپنے والد محترم (حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے اس قافلے کے ساتھ نہیں جاتے جس میں ایک گھنٹی بھی ہو۔“ کیا خیال ہے، ان کے ساتھ کتنی گھنٹیاں ہوں گی؟ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5222]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔ شراف: 7039)، مسند احمد (2/27)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5223، 5223م) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح