سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
70. باب : لعن الواصلة والمستوصلة
باب: بال جوڑنے اور جوڑوانے والی عورت پر وارد لعنت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5252
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ، عَنْ أَسْمَاءَ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ بِنْتًا لِي عَرُوسٌ وَإِنَّهَا اشْتَكَتْ , فَتَمَزَّقَ شَعْرُهَا فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ إِنْ وَصَلْتُ لَهَا فِيهِ , فَقَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ، وَالْمُسْتَوْصِلَةَ".
اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! میری ایک بیٹی نئی نویلی دلہن ہے، اسے ایک بیماری ہو گئی ہے کہ اس کے بال جھڑ رہے ہیں اگر میں اس کے بال جوڑوا دوں تو کیا مجھ پر گناہ ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”بال جوڑنے اور جوڑوانے والی عورتوں پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5252]
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایک بیٹی کی شادی تازہ تازہ ہوئی ہے، وہ بیمار ہو گئی اور اس کے بال جھڑ گئے، اگر میں ان میں مصنوعی بالوں سے اضافہ کر لوں تو کیا میں گناہ گار ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مصنوعی بال لگانے والی اور لگوانے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5252]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5097 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5097
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ امْرَأَتِهِ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ".
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بال جوڑنے والی اور بال جوڑوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5097]
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”جعلی بال لگانے والی اور لگوانے والی پر لعنت فرمائی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5097]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 83 (5935)، 85 (5941)، صحیح مسلم/اللباس 33 (2122)، سنن ابن ماجہ/النکاح 52 (1988)، (تحفة الأشراف: 15747)، مسند احمد (6/111، 345، 346، 353)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5252 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه