🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
90. باب : التشديد في لبس الحرير
باب: ریشم پہننے کی سخت ممانعت اور یہ بیان کہ اسے دنیا میں پہننے والا آخرت میں نہیں پہنے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5309
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , وَبِشْرِ بْنِ الْمُحْتَفِزِ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حریر نامی ریشم تو وہی پہنتا ہے جس کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5309]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ریشم تو وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5309]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 6656، 6659) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1383
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةً , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ"، ثُمَّ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهَا فَأَعْطَى عُمَرَ مِنْهَا حُلَّةً , فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا" , فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے (ریشم کا) ایک جوڑا (بکتے) دیکھا، تو عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش آپ اسے خرید لیتے، اور جمعہ کے دن، اور باہر کے وفود کے لیے جب وہ آپ سے ملنے آئیں پہنتے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے تو وہی پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس طرح کے کچھ جوڑے آئے، آپ نے ان میں سے ایک جوڑا عمر رضی اللہ عنہ کو دیا، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے مجھے اسے پہننے کے لیے دیا ہے حالانکہ عطارد کے جوڑے کے بارے میں آپ نے ایسا ایسا کہا تھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے یہ جوڑا تمہیں اس لیے نہیں دیا ہے کہ اسے تم خود پہنو، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے مشرک بھائی کو دے دیا جو مکہ میں تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 1383]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک (ریشمی) جوڑا (فروخت ہوتے) دیکھا تو کہنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ یہ جوڑا خرید لیں اور جمعے کے دن پہنا کریں اور جب وفد آئیں، تب بھی پہنیں (تو کیا ہی خوب ہو)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے (یعنی ریشمی کپڑے کو) تو وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ پھر (اس کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسی قسم کے جوڑے آئے تو آپ نے ان میں سے ایک جوڑا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ یہ جوڑا مجھے پہناتے ہیں جب کہ آپ نے عطارد کے لائے ہوئے جوڑے کے بارے میں جو الفاظ ارشاد فرمائے تھے (وہ تو اس کے برعکس حرمت پر دلالت کرنے والے تھے؟) آپ نے فرمایا: میں نے تجھے پہننے کے لیے نہیں دیا۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ جوڑا مکہ مکرمہ میں رہنے والے اپنے ایک مشرک بھائی کو دے دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 1383]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجمعة 7 (886)، العیدین 1 (948)، الھبة 27 (2612)، 29 (2619)، الجھاد 177 (3054) (وفیہ ’’العید‘‘ بدل ’’الجمعة‘‘)، اللباس 30 (5841)، الأدب 9 (5981)، 66 (6081) (بدون ذکر الجمعة أو العید)، صحیح مسلم/اللباس 1 (2068)، سنن ابی داود/الصلاة 219 (1076)، اللباس 10 (4040)، (تحفة الأشراف: 8335)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/اللباس 16 (3591)، موطا امام مالک/اللباس 8 (18)، مسند احمد 2/20، 39، 49 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1561
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ , وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: وَجَدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حُلَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ بِالسُّوقِ فَأَخَذَهَا، فَأَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , ابْتَعْ هَذِهِ فَتَجَمَّلْ بِهَا لِلْعِيدِ وَالْوَفْدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ , أَوْ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ" , فَلَبِثَ عُمَرُ مَا شَاءَ اللَّهُ , ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ , فَأَقْبَلَ بِهَا حَتَّى جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , قُلْتَ: إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ , ثُمَّ أَرْسَلْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِعْهَا وَتُصِبْ بِهَا حَاجَتَكَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بازار میں موٹے ریشمی کپڑے کا ایک جوڑا (بکتے ہوئے) پایا، تو اسے لیا، اور اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! اسے خرید لیں، اور عید کے لیے اور وفود سے ملتے وقت اسے پہنیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس شخص کا لباس ہے جس کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہ ہو گا، یا اسے تو وہی پہنے گا جس کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہ ہو گا، تو عمر رضی اللہ عنہ ٹھہرے رہے جب تک اللہ نے چاہا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس باریک ریشمی کپڑے کا ایک جبہ بھیجا، تو وہ اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا تھا کہ یہ اس شخص کا لباس ہے جس کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں، پھر آپ نے اسے میرے پاس بھیج دیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے بیچ دو، اور اس سے اپنی ضرورت پوری کرو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 1561]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بازار میں ریشم کا ایک جوڑا (برائے فروخت) دیکھا۔ وہ اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوئے اور گزارش کی: اے اللہ کے رسول! اسے خرید لیں اور عید اور وفود سے ملاقات کے مواقع پر زیب تن فرمایا کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ (ریشم) تو ان لوگوں کا لباس ہے جن کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں۔ یا (فرمایا:) اسے تو وہ لوگ پہنتے ہیں جن کو (آخرت میں) کچھ نہیں ملے گا۔ کچھ عرصہ، جتنا کہ اللہ تعالیٰ نے چاہا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ ٹھہرے رہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ریشم کا ایک جبہ بھیجا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس جبے کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے تو فرمایا تھا: یہ ان کا لباس ہے جن کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں۔ پھر آپ نے یہ جبہ مجھے بھیج دیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے بیچ کر اپنی ضروریات پوری کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 1561]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 1 (2068)، سنن ابی داود/الصلاة 219 (1077)، اللباس 10 (4040)، (تحفة الأشراف: 6895) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ میں نے اسے تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجا ہے کہ تم خود اسے پہنو، بلکہ اس لیے بھیجا ہے کہ بیچ کر تم اس کی قیمت اپنی ضرورت میں صرف کرو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5297
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , أَنَّهُ رَأَى حُلَّةَ سِيَرَاءَ تُبَاعُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذَا لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ"، قَالَ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ مِنْهَا بِحُلَلٍ فَكَسَانِي مِنْهَا حُلَّةً، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا، إِنَّمَا كَسَوْتُكَهَا لِتَكْسُوَهَا , أَوْ لِتَبِيعَهَا"، فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مِنْ أُمِّهِ مُشْرِكًا.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مسجد کے دروازے کے پاس میں نے ایک ریشمی دھاری والا جوڑا بکتے دیکھا، تو عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ اسے جمعہ کے دن کے لیے اور اس وقت کے لیے جب آپ کے پاس وفود آئیں خرید لیتے (تو اچھا ہوتا) ۱؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سب وہ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ پھر اس میں کے کئی جوڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو ان میں سے آپ نے ایک جوڑا مجھے دے دیا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ جوڑا آپ نے مجھے دے دیا، حالانکہ اس سے پہلے آپ نے اس کے بارے میں کیا کیا فرمایا تھا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں یہ پہننے کے لیے نہیں دیا ہے، بلکہ کسی (اور) کو پہنانے یا بیچنے کے لیے دیا ہے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ایک ماں جائے بھائی کو دے دیا جو مشرک تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5297]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے مسجد (نبوی) کے دروازے پر ریشمی دھاریوں والا حلہ فروخت ہوتے دیکھا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ یہ حلہ جمعۃ المبارک کے دن اور وفود کی آمد کے موقع پر استعمال کے لیے خرید لیں تو مناسب رہے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے حلے تو وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ پھر بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسی قسم کے کچھ حلے آئے تو آپ نے مجھے بھی ان میں سے ایک حلہ دے دیا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے یہ حلہ مجھے دیا ہے جب کہ آپ نے تو اس بارے میں بڑے سخت الفاظ فرمائے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تجھے یہ پہننے کے لیے نہیں دیا بلکہ اس لیے دیا ہے کہ تو کسی اور کو پہنائے یا بیچ لے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ اپنے ایک مشرک اخیافی بھائی کو دے دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5297]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 2 (2068)، (تحفة الٔاشراف: 10551) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کی اس بات پر کوئی نکیر نہیں کی، اس سے ثابت ہوا کہ ان مواقع کے لیے اچھا لباس اختیار کرنے کی بات پر آپ نے صاد کیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5300
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ , وَأَبُو عَامِرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ الْحَنَفِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ: أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةُ سِيَرَاءَ , فَبَعَثَ بِهَا إِلَيَّ فَلَبِسْتُهَا، فَعَرَفْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ:" أَمَا إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهَا لِتَلْبَسَهَا"، فَأَمَرَنِي فَأَطَرْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیراء چادر تحفے میں آئی، تو آپ نے اسے میرے پاس بھیج دی، میں نے اسے پہنا، تو میں نے آپ کے چہرے پر غصہ دیکھا، چنانچہ آپ نے فرمایا: سنو، میں نے یہ پہننے کے لیے نہیں دی تھی، پھر آپ نے مجھے حکم دیا تو میں نے اس کو اپنے خاندان کی عورتوں میں تقسیم کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5300]
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ عالیہ میں ایک ریشمی دھاری دار حلہ بطور تحفہ بھیجا گیا، آپ نے وہ مجھے بھیج دیا، میں نے اسے پہن لیا۔ (آپ نے مجھے دیکھا تو) میں نے آپ کے چہرہ انور پر غصے کے آثار دیکھے، آپ نے فرمایا: میں نے تجھے اس لیے نہیں دیا تھا کہ تو اسے پہنے۔ پھر میں نے آپ کے حکم سے اسے اپنے گھر کی عورتوں میں تقسیم کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5300]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 2 (2071)، سنن ابی داود/اللباس 10 (4043)، (تحفة الأشراف: 10329)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس 30 (5840)، مسند احمد 1/130، 139) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5301
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، أَنَّ عُمَرَ خَرَجَ فَرَأَى حُلَّةَ إِسْتَبْرَقٍ تُبَاعُ فِي السُّوقِ , فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , اشْتَرِهَا فَالْبَسْهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ , وَحِينَ يَقْدَمُ عَلَيْكَ الْوَفْدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ"، ثُمَّ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثِ حُلَلٍ مِنْهَا , فَكَسَا عُمَرَ حُلَّةً، وَكَسَا عَلِيًّا حُلَّةً , وَكَسَا أُسَامَةَ حُلَّةً فَأَتَاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ ثُمَّ بَعَثْتَ إِلَيَّ، فَقَالَ:" بِعْهَا , وَاقْضِ بِهَا حَاجَتَكَ , أَوْ شَقِّقْهَا خُمُرًا بَيْنَ نِسَائِكَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نکلے تو دیکھا بازار میں استبرق کی چادر بک رہی ہے، آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! اسے خرید لیجئے اور اسے جمعہ کے دن اور جب کوئی وفد آپ کے پاس آئے تو پہنئے۔ آپ نے فرمایا: یہ تو وہ پہنتے ہیں جن کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں ہوتا، پھر آپ کے پاس تین چادریں لائی گئیں تو آپ نے ایک عمر رضی اللہ عنہ کو دی، ایک علی رضی اللہ عنہ کو اور ایک اسامہ رضی اللہ عنہ کو دی، عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! آپ نے اس کے بارے میں کیا کیا فرمایا تھا، پھر بھی آپ نے اسے میرے پاس بھیجوایا؟ آپ نے فرمایا: اسے بیچ دو اور اس سے اپنی ضرورت پوری کر لو یا اسے اپنی عورتوں کے درمیان دوپٹہ بنا کر تقسیم کر دو۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5301]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ (گھر سے) نکلے تو دیکھا کہ «إِسْتَبْرَق» استبراق کا ایک جوڑا بازار میں فروخت ہو رہا ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ حلہ خرید لیجیے اور جمعۃ المبارک کے دن اور وفود کی آمد کے موقع پر زیب تن فرمایا کیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے کپڑے تو وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس قسم کے تین حلے لائے گئے۔ آپ نے ایک حلہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو، دوسرا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اور تیسرا حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کے پاس حاضر ہو کر عرض کی: اے اللہ کے رسول! ان حلوں کے بارے میں تو آپ نے بڑے سخت الفاظ ارشاد فرمائے تھے۔ اب آپ نے وہ حلہ مجھے بھیج دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: اسے بیچ کر اپنی ضروریات پوری کر لے یا دو پٹے بنا کر اپنی عورتوں میں تقسیم کر دے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5301]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 6759) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: استبرق ایک قسم کا ریشم ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5302
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ أَبِي إِسْحَاق، قَالَ: قَالَ سَالِمٌ: مَا الْإِسْتَبْرَقُ؟ قُلْتُ: مَا غَلُظَ مِنَ الدِّيبَاجِ , وَخَشُنَ مِنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , يَقُولُ:" رَأَى عُمَرُ مَعَ رَجُلٍ حُلَّةَ سُنْدُسٍ، فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اشْتَرِ هَذِهِ" , وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
یحییٰ بن ابی اسحاق کہتے ہیں کہ سالم نے پوچھا: استبرق کیا ہے؟ میں نے کہا: ایک قسم کا ریشم ہے جو سخت ہوتا ہے، وہ بولے: میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کے پاس ایک جوڑا سندس کا دیکھا، اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اسے خرید لیجئیے … پھر پوری روایت بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5302]
حضرت یحیی بن ابی اسحاق رحمہ اللہ نے کہا کہ حضرت سالم رحمہ اللہ نے مجھ سے پوچھا: «إِسْتَبْرَقُ» کیا ہوتا ہے؟ میں نے کہا: موٹا کھردرا ریشم۔ وہ کہنے لگے: میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو فرماتے سنا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کے پاس «سُنْدُسٍ» کا حلہ دیکھا، وہ یہ حلہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا: یہ خرید لیجیے۔ پھر راوی نے حسبِ سابق حدیث بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5302]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الٔمدب 66 (6081)، صحیح مسلم/اللباس 2 (2068)، (تحفة الٔاشراف: 7033)، مسند احمد (2/4949) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سندس یہ بھی ایک قسم کا ریشمی کپڑا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5305
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: لَبِسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَاءً مِنْ دِيبَاجٍ أُهْدِيَ لَهُ، ثُمَّ أَوْشَكَ أَنْ نَزَعَهُ، فَأَرْسَلَ بِهِ إِلَى عُمَرَ، فَقِيلَ لَهُ: قَدْ أَوْشَكَ مَا نَزَعْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:" نَهَانِي عَنْهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام". فَجَاءَ عُمَرُ يَبْكِي، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَرِهْتَ أَمْرًا وَأَعْطَيْتَنِيهِ. قَالَ:" إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهُ لِتَلْبَسَهُ، إِنَّمَا أَعْطَيْتُكَهُ لِتَبِيعَهُ"، فَبَاعَهُ عُمَرُ بِأَلْفَيْ دِرْهَمٍ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیبا کی ایک قباء پہنی جو آپ کو ہدیہ کی گئی تھی، پھر تھوڑی دیر بعد اسے اتار دیا اور اسے عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! آپ نے اسے بہت جلد اتار دی، فرمایا: مجھے جبرائیل علیہ السلام نے اس کے استعمال سے روک دیا ہے، اتنے میں عمر رضی اللہ عنہ روتے ہوئے آئے اور بولے: اللہ کے رسول! ایک چیز آپ نے ناپسند فرمائی اور وہ مجھے دے دی؟ فرمایا: میں نے تمہیں پہننے کے لیے نہیں دی، میں نے تمہیں بیچ دینے کے لیے دی ہے، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دو ہزار درہم میں بیچ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5305]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم کی قبا پہنی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور تحفہ ملی تھی، پھر جلد ہی اتار دی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اتنی جلدی اتار دی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھے اس سے روک دیا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ روتے ہوئے آئے اور عرض گزار ہوئے: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایک چیز ناپسند فرمائی پھر وہ مجھے دے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تجھے پہننے کے لیے نہیں دی بلکہ اس لیے دی کہ تو اسے بیچ (کر اپنی ضروریات پوری کر) لے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دو ہزار درہم میں بیچ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5305]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 2 (2070)، (تحفة الٔاشراف: 2825)، مسند احمد (3/383) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں