🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
101. باب : التغليظ في جر الإزار
باب: ٹخنے سے نیچے تہبند لٹکانے کی سنگینی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5330
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَارِبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنْ مَخِيلَةٍ , فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَنْظُرْ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے (ٹخنے سے نیچے) اپنا کپڑا تکبر سے لٹکایا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5330]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 5 (5791)، صحیح مسلم/اللباس 9 (2062م)، (تحفة الأشراف: 7409)، مسند احمد (2/42، 46) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5329
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ. ح وَأَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ , أَوْ قَالَ: إِنَّ الَّذِي يَجُرُّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے تکبر (گھمنڈ) سے اپنا کپڑا (ٹخنے سے نیچے) لٹکایا (یا یوں فرمایا: جو شخص تکبر سے اپنا کپڑا لٹکاتا ہے) اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5329]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/5 (5791 تعلیقًا)، صحیح مسلم/اللباس9(2062)، (تحفة الأشراف: 8282) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5337
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَحَدَ شِقَّيْ إِزَارِي يَسْتَرْخِي إِلَّا أَنْ أَتَعَاهَدَ ذَلِكَ مِنْهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكَ لَسْتَ مِمَّنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ خُيَلَاءَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنا کپڑا تکبر (گھمنڈ) سے گھسیٹے گا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میرے تہبند کا ایک کونا لٹک جاتا ہے، إلا اس کے کہ میں اس کا بہت زیادہ خیال رکھوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو تکبر (گھمنڈ) کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5337]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/فضائل الصحابة 5 (3665)، اللباس 2 (5784)، سنن ابی داود/اللباس 28 (4085)، (تحفة الأشراف: 7026)، مسند احمد (2/67، 136) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5338
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَكَيْفَ تَصْنَعُ النِّسَاءُ بِذُيُولِهِنَّ؟ قَالَ:" تُرْخِينَهُ شِبْرًا". قَالَتْ: إِذًا تَنْكَشِفَ أَقْدَامُهُنَّ؟ قَالَ:" تُرْخِينَهُ ذِرَاعًا لَا تَزِدْنَ عَلَيْهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے تکبر (گھمنڈ) سے اپنا کپڑا لٹکایا، اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا، ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! تو پھر عورتیں اپنے دامن کیسے رکھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اسے ایک بالشت لٹکائیں، وہ بولیں: تب تو ان کے قدم کھلے رہیں گے؟، آپ نے فرمایا: تو ایک ہاتھ لٹکائیں، اس سے زیادہ نہ کریں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5338]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 9 (2085)، سنن الترمذی/اللباس 9 (1731)، (تحفة الأشراف: 7526)، مسند احمد (2/5، 55، 101) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں