🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب : ماجائ في المعوسذتين
باب: معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5430
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَسِيدُ بْنُ أَبِي أَسِيدٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَصَابَنَا طَشٌّ وَظُلْمَةٌ فَانْتَظَرْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ بِنَا , ثُمَّ ذَكَرَ كَلَامًا مَعْنَاهُ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ بِنَا، فَقَالَ:" قُلْ"، فَقُلْتُ: مَا أَقُولُ؟ قَالَ:" قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ , حِينَ تُمْسِي , وَحِينَ تُصْبِحُ ثَلَاثًا يَكْفِيكَ كُلَّ شَيْءٍ".
عبداللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اندھیرے کے ساتھ بارش ہوئی تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز پڑھانے کے لیے انتظار کیا، پھر کچھ کہا جس کا مفہوم یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھانے کے لیے نکلے تو آپ نے فرمایا: کچھ کہو، میں نے کہا: کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: «قل هو اللہ أحد‏» اور معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) صبح و شام تین بار پڑھ لیا کرو، یہ (سورتیں) تمہارے لیے ہر تکلیف و مصیبت میں کافی ہوں گی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5430]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک رات ہلکی سی بارش ہوئی اور سخت اندھیرا تھا، ہم انتظار میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں اور نماز پڑھائیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لائے اور (مجھے) فرمایا: پڑھ۔ میں نے کہا: کیا پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] اور «الْمُعَوِّذَتَيْنِ» معوذتین صبح و شام تین تین دفعہ پڑھا کر، تجھے ہر مصیبت میں کفایت کریں گی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5430]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الٔبدب 110 (5082)، سنن الترمذی/الدعوات 117 (3570)، (تحفة الأشراف: 5250)، مسند احمد (5/312) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5431
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ فَأَصَبْتُ خُلْوَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَدَنَوْتُ مِنْهُ، فَقَالَ:" قُلْ" , فَقُلْتُ: مَا أَقُولُ؟ , قَالَ:" قُلْ"، قُلْتُ:" مَا أَقُولُ؟" , قَالَ: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ حَتَّى خَتَمَهَا"، ثُمَّ قَالَ:" قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ حَتَّى خَتَمَهَا"، ثُمَّ قَالَ:" مَا تَعَوَّذَ النَّاسُ بِأَفْضَلَ مِنْهُمَا".
عبداللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مکہ کے راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ کو اکیلا پا کر جب میں آپ سے قریب ہوا تو آپ نے فرمایا: کچھ کہو، میں نے کہا: کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: کچھ کہو، میں نے کہا: کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: «قل أعوذ برب الفلق» یہاں تک کہ آپ نے پوری سورت پڑھی، پھر فرمایا: «قل أعوذ برب الناس» یہاں تک کہ اسے بھی پوری پڑھی پھر فرمایا: ان دونوں سے بہتر لوگوں نے کسی اور چیز کے ذریعہ پناہ نہیں مانگی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5431]
حضرت عبداللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں مکہ مکرمہ کے راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ خلوت نصیب ہوئی تو میں آپ کے قریب ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑھ۔ میں نے عرض کی: کیا پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] آخر سورہ تک پڑھا کر، پھر سورہ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] آخر سورہ تک پڑھا کر۔ پھر فرمایا: کسی انسان نے ان دو سورتوں سے افضل کلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل نہیں کی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5431]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح الٕلسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں