🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب : ماجائ في المعوسذتين
باب: معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5437
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عُقْبَةَ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ بِهِمَا فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ".
عقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر میں معوذتین پڑھیں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5437]
حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دو سورتیں صبح کی نماز میں پڑھیں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5437]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5435 (صحیح) (مکحول شامی کی ملاقات عقبہ رضی الله عنہ سے نہیں ہے، لیکن دوسرے طرق کی وجہ سے حدیث صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5438
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ الْحَارِثِ وَهُوَ الْعَلَاءُ، عَنِ الْقَاسِمِ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: كُنْتُ أَقُودُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عُقْبَةُ , أَلَا أُعَلِّمُكَ خَيْرَ سُورَتَيْنِ قُرِئَتَا؟" فَعَلَّمَنِي قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ , وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ فَلَمْ يَرَنِي سُرِرْتُ بِهِمَا جِدًّا , فَلَمَّا نَزَلَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ صَلَّى بِهِمَا صَلَاةَ الصُّبْحِ لِلنَّاسِ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ الْتَفَتَ إِلَيَّ , فَقَالَ:" يَا عُقْبَةُ كَيْفَ رَأَيْتَ؟".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی نکیل پکڑ کر آگے آگے چل رہا تھا، تو آپ نے فرمایا: عقبہ! کیا میں تمہیں دو بہترین سورتیں نہ بتاؤں جو مجھے پڑھائی گئی ہیں؟ پھر آپ نے مجھے «‏قل أعوذ برب الفلق‏» اور «قل أعوذ برب الناس» سکھائی، لیکن آپ نے مجھے ان دونوں پر خوش ہوتے نہیں دیکھا، پھر جب آپ فجر کے لیے مسجد آتے تو انہیں دونوں سورتوں سے لوگوں کو فجر پڑھائی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: عقبہ! تم نے (ان کو) کیسا پایا۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5438]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی لگام پکڑ کر آگے آگے چل رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عقبہ! میں تجھے دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں جو کبھی پڑھی گئی ہوں؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سورۂ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] اور ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] سکھائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس فرمایا کہ میں یہ سورتیں سیکھ کر زیادہ خوش نہیں ہوا، لہٰذا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے لیے اترے تو یہ دونوں سورتیں صبح کی نماز میں لوگوں کی امامت کرواتے ہوئے پڑھیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے عقبہ! تیرا کیا خیال ہے؟ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5438]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 354 (1462)، (تحفة الأشراف: 9946)، مسند احمد (4/144، 149، 153) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5439
أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: بَيْنَا أَقُودُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَقَبٍ مِنْ تِلْكَ النِّقَابِ , إِذْ قَالَ:" أَلَا تَرْكَبُ يَا عُقْبَةُ؟" , فَأَجْلَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَرْكَبْ مَرْكَبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" أَلَا تَرْكَبُ يَا عُقْبَةُ؟" , فَأَشْفَقْتُ أَنْ يَكُونَ مَعْصِيَةً، فَنَزَلَ وَرَكِبْتُ هُنَيْهَةً , وَنَزَلْتُ وَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" أَلَا أُعَلِّمُكَ سُورَتَيْنِ مِنْ خَيْرِ سُورَتَيْنِ قَرَأَ بِهِمَا النَّاسُ فَأَقْرَأَنِي قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ , وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ"، فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَتَقَدَّمَ فَقَرَأَ بِهِمَا ثُمَّ مَرَّ بِي، فَقَالَ:" كَيْفَ رَأَيْتَ يَا عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ؟ اقْرَأْ بِهِمَا كُلَّمَا نِمْتَ وَقُمْتَ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری (اونٹنی) کی نکیل ان گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں پکڑے آگے آگے چل رہا تھا تو اس وقت آپ نے فرمایا: عقبہ! کیا تم سوار نہیں ہو گے؟ میں نے آپ کی بزرگی کا خیال کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر ہو جاؤں، پھر آپ نے فرمایا: کیا تم سوار نہیں ہو گے عقبہ؟ تو مجھے ڈر لگا کہ کہیں نافرمانی نہ ہو جائے، پھر آپ اترے اور میں تھوڑی دیر کے لیے سوار ہوا پھر میں اتر گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور فرمایا: لوگ جو سورتیں پڑھتے ہیں، ان میں سے میں تمہیں دو بہترین سورتیں نہ بتاؤں؟ چنانچہ آپ نے مجھے پڑھ کر سنائی «قل أعوذ برب الفلق» اور «‏ قل أعوذ برب الناس»، پھر نماز قائم کی گئی، تو آپ آگے بڑھے اور ان دونوں سورتوں کو پڑھا، پھر آپ میرے پاس سے گزرے، اور فرمایا: عقبہ! یہ کیسی لگیں؟ جب جب سوؤ اور جب جب جاگو انہیں پڑھا کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5439]
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک دفعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی لگام پکڑ کر ان گھاٹیوں میں سے کسی گھاٹی میں چل رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عقبہ! تو (میرے ساتھ سوار ہو جا)؟ میں نے اس بات کو بہت بڑا محسوس کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر سوار ہو جاؤں۔ کچھ دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عقبہ! تو سوار کیوں نہیں ہو جاتا؟ مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہ ہو۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے اترے تو میں تھوڑی دیر کے لیے سوار ہو گیا۔ پھر میں اتر آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تجھے دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں جو لوگوں نے پڑھی ہیں؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سورہ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] اور سورہ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] پڑھائیں۔ پھر جماعت کے لیے اقامت کہی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور یہی دو سورتیں پڑھیں۔ پھر (نماز سے فراغت کے بعد) میرے پاس سے گزرے تو فرمایا: عقبہ بن عامر! تیری کیا رائے ہے؟ ان سورتوں کو پڑھا کر جب بھی تو سوئے یا جاگے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5439]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5438 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں