🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب : ماجائ في المعوسذتين
باب: معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5440
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا عُقْبَةُ , قُلْ"، فَقُلْتُ: مَاذَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ , فَسَكَتَ عَنِّي، ثُمَّ قَالَ:" يَا عُقْبَةُ , قُلْ"، قُلْتُ: مَاذَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ , فَسَكَتَ عَنِّي، فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ ارْدُدْهُ عَلَيَّ، فَقَالَ:" يَا عُقْبَةُ , قُلْ"، قُلْتُ: مَاذَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ:" قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ" , فَقَرَأْتُهَا حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى آخِرِهَا، ثُمَّ قَالَ:" قُلْ"، قُلْتُ: مَاذَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ" , فَقَرَأْتُهَا حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى آخِرِهَا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ:" مَا سَأَلَ سَائِلٌ بِمِثْلِهِمَا , وَلَا اسْتَعَاذَ مُسْتَعِيذٌ بِمِثْلِهِمَا".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا، تو آپ نے فرمایا: عقبہ! کہو، میں نے عرض کیا: کیا کہوں؟ اللہ کے رسول! آپ خاموش رہے، پھر فرمایا: عقبہ! کہو، میں نے عرض کیا: کیا کہوں؟ اللہ کے رسول! آپ خاموش رہے، میں نے کہا: اللہ کرے آپ اسے پھر دہرائیں، آپ نے فرمایا: عقبہ! کہو، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: «قل أعوذ برب الفلق» میں نے اسے پڑھا یہاں تک کہ اسے مکمل کیا، پھر آپ نے فرمایا: کہو، میں نے عرض کیا: کیا کہوں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: «قل أعوذ برب الفلق» ، پھر میں نے اسے بھی مکمل پڑھا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مانگنے والے نے اس جیسی کسی اور چیز کے ذریعہ نہیں مانگا اور نہ کسی پناہ مانگنے والے نے اس جیسی کسی اور چیز کے ذریعہ پناہ مانگی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5440]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ آپ نے فرمایا: اے عقبہ! پڑھ۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا پڑھوں؟ آپ خاموش ہو گئے۔ پھر فرمایا: اے عقبہ! کہہ۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا کہوں؟ آپ پھر خاموش ہو گئے۔ میں نے (دل میں) کہا: یا اللہ! آپ کو میری طرف متوجہ فرما۔ آپ نے فرمایا: اے عقبہ! پڑھ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا: سورہ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] میں نے سورت پڑھنا شروع کی حتیٰ کہ مکمل کر دی۔ پھر آپ نے فرمایا: پڑھ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا: سورہ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] ۔ اس وقت میں نے آخر تک پوری پڑھ دی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی سوال کرنے والے نے ان جیسی سورتوں کے ساتھ سوال نہیں کیا اور نہ کسی پناہ طلب کرنے والے نے ان جیسی سورتوں کے ساتھ پناہ طلب کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5440]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9927)، سنن الدارمی/فضائل القرآن 24 (3482) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 954
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ أَسْلَمَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قال: اتَّبَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَاكِبٌ فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى قَدَمِهِ فَقُلْتُ: أَقْرِئْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ سُورَةَ هُودٍ، وَسُورَةَ يُوسُفَ، فَقَالَ:" لَنْ تَقْرَأَ شَيْئًا أَبْلَغَ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا، اور آپ سوار تھے تو میں نے آپ کے پاؤں پہ اپنا ہاتھ رکھا، اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے سورۃ هود اور سورۃ یوسف پڑھا دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک «قل أعوذ برب الفلق‏» اور «قل أعوذ برب الناس» سے زیادہ بلیغ سورت تم کوئی اور نہیں پڑھو گے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 954]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا جبکہ آپ سوار تھے۔ میں نے آپ کے پاؤں پر اپنا ہاتھ رکھا اور گزارش کی: اے اللہ کے رسول! مجھے سورۂ ہود اور سورۂ یوسف پڑھا دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ہرگز کوئی ایسی سورت نہیں پڑھے گا جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] اور «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] سے زیادہ مرتبے والی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 954]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9908)، مسند احمد 4/149، 155، 159، سنن الدارمی/فضائل القرآن 25 (3482)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5441 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5432
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أَقُودُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاحِلَتَهُ فِي غَزْوَةٍ إِذْ قَالَ:" يَا عُقْبَةُ , قُلْ" , فَاسْتَمَعْتُ، ثُمَّ قَالَ:" يَا عُقْبَةُ , قُلْ" , فَاسْتَمَعْتُ , فَقَالَهَا الثَّالِثَةَ، فَقُلْتُ: مَا أَقُولُ؟ فَقَالَ:" قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَقَرَأَ السُّورَةَ حَتَّى خَتَمَهَا" , ثُمَّ قَرَأَ:" قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ , وَقَرَأْتُ مَعَهُ حَتَّى خَتَمَهَا" , ثُمَّ قَرَأَ:" قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ , فَقَرَأْتُ مَعَهُ حَتَّى خَتَمَهَا"، ثُمَّ قَالَ:" مَا تَعَوَّذَ بِمِثْلِهِنَّ أَحَدٌ".
عقبہ بن عامر جہنی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جب ایک غزوہ میں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی نکیل پکڑے آگے آگے چل رہا تھا تو اس وقت آپ نے فرمایا: عقبہ! کہو، میں آپ کی طرف متوجہ ہوا، پھر آپ نے فرمایا: عقبہ! کہو، میں پھر متوجہ ہوا۔ پھر آپ نے تیسری بار فرمایا تو میں نے عرض کیا: کیا کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «قل هو اللہ أحد» پھر پوری سورت پڑھی، اس کے بعد «قل أعوذ برب الفلق‏» پوری پڑھی، میں نے بھی آپ کے ساتھ پڑھی، پھر آپ نے «قل أعوذ برب الناس» پوری پڑھی اور میں نے بھی آپ کے ساتھ پڑھی، اور فرمایا: ان جیسی کسی اور چیز کے ذریعہ کسی نے پناہ نہیں مانگی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5432]
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک دفعہ میں ایک جنگی سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی مہار پکڑ کر آگے آگے چل رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عقبہ! پڑھ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کان لگایا (تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو فرمائیں، وہ میں سن کر پڑھوں)۔ پھر کچھ دیر کے بعد فرمایا: اے عقبہ! پڑھ۔ میں پھر متوجہ ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ پھر یہی فرمایا۔ میں نے عرض کی: کیا پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر تک سورت پڑھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] آخر تک پڑھی۔ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتا رہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] آخر تک پڑھی۔ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتا رہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص نے ان جیسی سورتوں یا کلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل نہیں کی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5432]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9970) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: پناہ طلب کرنے کے لیے ان دو سورتوں سے بڑھ کر کوئی اور ذکر یا دعا نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5433
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُلْ"، قُلْتُ: وَمَا أَقُولُ؟ , قَالَ:" قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ" , فَقَرَأَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ:" لَمْ يَتَعَوَّذْ النَّاسُ بِمِثْلِهِنَّ أَوْ لَا يَتَعَوَّذُ النَّاسُ بِمِثْلِهِنَّ".
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: پڑھو، میں نے کہا: کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا: پڑھو «قل هو اللہ أحد‏»، «قل أعوذ برب الفلق»، «قل أعوذ برب الناس» پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پڑھا اور فرمایا: لوگوں نے ان جیسی کسی اور چیز کے ذریعہ پناہ نہیں مانگی، یا فرمایا: لوگ نہیں مانگتے ان جیسی کسی اور چیز کے ذریعہ پناہ۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5433]
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: پڑھ۔ میں نے عرض کی: کیا پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] ، ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] اور ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورتیں پڑھیں اور فرمایا: لوگوں نے ان جیسی سورتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل نہیں کی یا لوگ ان جیسی سورتوں کے ساتھ پناہ حاصل نہیں کریں گے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5433]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5441
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ أَسْلَمَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَاكِبٌ , فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى قَدَمِهِ , فَقُلْتُ: أَقْرِئْنِي سُورَةَ هُودٍ، أَقْرِئْنِي سُورَةَ يُوسُفَ، فَقَالَ:" لَنْ تَقْرَأَ شَيْئًا أَبْلَغَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ سوار تھے، میں نے اپنا ہاتھ آپ کے پاؤں پر رکھا، میں نے عرض کیا: مجھے سورۃ ہود پڑھایئے، مجھے سورۃ یوسف پڑھایئے، آپ نے فرمایا: تم اللہ کے نزدیک «قل أعوذ برب الفلق» سے زیادہ بہتر کوئی اور سورۃ نہیں پڑھو گے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5441]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا جبکہ آپ سوار تھے، میں نے اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک پر رکھ دیا اور عرض کی: مجھے سورہ ہود پڑھائیے، مجھے سورہ یوسف پڑھائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو کوئی ایسی سورت نہیں پڑھے گا جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک سورہ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] اور سورہ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] سے زیادہ عظمت والی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5441]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 954 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں