سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب : التغليس في الحضر
باب: حضر (حالت اقامت) میں فجر اندھیرے میں پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 546
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَيُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ النِّسَاءُ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر پڑھتے تھے (آپ کے ساتھ نماز پڑھ کر) عورتیں اپنی چادروں میں لپٹی لوٹتی تھیں، تو وہ اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہیں جاتی تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 546]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 13 (372)، المواقیت 27 (578)، والأذان 163 (867)، 165 (872)، صحیح مسلم/المساجد 40 (645)، سنن ابی داود/الصلاة 8 (423)، سنن الترمذی/الصلاة 2 (153)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 17931)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 1 (4)، مسند احمد 6/33، 36، 178، 248، 259 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 547
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت:" كُنَّ النِّسَاءُ يُصَلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ، فَيَرْجِعْنَ فَمَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْغَلَسِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عورتیں اپنی چادروں میں لپٹی فجر پڑھتی تھیں، پھر وہ لوٹتی تھیں تو اندھیرے کی وجہ سے کوئی انہیں پہچان نہیں پاتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 547]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 40 (645)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 2 (669)، مسند احمد 6/ 37، (تحفة الأشراف: 16442) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1363
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ النِّسَاءُ يُصَلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ , فَكَانَ إِذَا سَلَّمَ انْصَرَفْنَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ فَلَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر ادا کرتی تھیں، جب آپ سلام پھیرتے تو وہ اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی نکل جاتیں، اور اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 1363]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16521)، سنن الدارمی/الصلاة 20 (1252) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورتیں امام کے سلام پھیرتے ہی اپنے گھروں کو واپس چلی جاتیں، تاکہ مردوں کی بھیڑ بھاڑ سے انہیں واسطہ نہ پڑے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه