سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
54. باب : إعادة ما نام عنه من الصلاة لوقتها من الغد
باب: جس نماز سے آدمی سو جائے تو اسے دوسرے روز اس کے وقت پر دوبارہ پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 620
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى، قَالَ: وَأَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي سورة طه آية 14".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی نماز بھول جائے تو جب اسے یاد آئے پڑھ لے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: نماز قائم کرو جب میری یاد آئے“۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 620]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نماز بھول جائے تو اسے چاہیے کہ اسے یاد آنے پر پڑھ لے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ [سورة طه: 14] ”اور میری یاد آنے پر نماز پڑھو۔“” [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 620]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13373) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 614
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نماز بھول جائے، جب یاد آ جائے تو اسے پڑھ لے“۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 614]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی کوئی نماز بھول جائے تو جب یاد آئے پڑھ لے۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 614]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 55 (684)، سنن ابی داود/الصلاة 11 (442) مختصراً، سنن الترمذی/الصلاة 17 (178)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 10 (696)، (تحفة الأشراف: 1430)، مسند احمد 3/100، 243، 267، 269، 282 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 615
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قال: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَرْقُدُ عَنِ الصَّلَاةِ أَوْ يَغْفُلُ عَنْهَا، قَالَ:" كَفَّارَتُهَا أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جو نماز سے سو جاتا ہے یا اس سے غافل ہو جاتا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب یاد آ جائے تو اسے پڑھ لے“۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 615]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو نماز سے سویا رہتا ہے یا غافل ہو جاتا ہے (بھول جاتا ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب اسے یاد آئے، نماز پڑھ لے۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 615]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الصلاة 10 (695)، مسند احمد 3/267، (تحفة الأشراف: 1151) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 616
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قال: ذَكَرُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَوْمَهُمْ عَنِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ، فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے نمازوں سے اپنے سو جانے کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیند کی حالت میں کوئی تقصیر (کمی) نہیں ہے“، تقصیر (کمی) تو جاگنے میں ہے (کہ جاگتا ہو اور نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ وقت گزر جائے)، تو جب تم میں سے کوئی آدمی نماز بھول جائے، یا اس سے سو جائے تو جب یاد آئے اسے پڑھ لے“۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 616]
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ کبھی ہم نماز سے سوئے رہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیند آ جانے میں قصور اور کوتاہی نہیں۔ کوتاہی تو یہ ہے کہ آدمی جاگتا ہوا نماز نہ پڑھے، چنانچہ جب تم میں سے کوئی بھول جائے یا اس سے سویا رہ جائے تو جب اسے یاد آئے (یا جاگے) تو اسی وقت نماز پڑھ لے۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 616]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 11 (441) مختصراً، سنن الترمذی/الصلاة 16 (177)، (تحفة الأشراف: 12085)، مسند احمد 5/298، 302، 305 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 617
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِيمَنْ لَمْ يُصَلِّ الصَّلَاةَ حَتَّى يَجِيءَ وَقْتُ الصَّلَاةِ الْأُخْرَى حِينَ يَنْتَبِهُ لَهَا".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیند کی حالت میں کوئی تقصیر (کمی) نہیں ہے، تقصیر (کمی) تو اس شخص میں ہے جو نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ جس وقت اسے اس کا ہوش آئے تو دوسری نماز کا وقت ہو جائے“۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 617]
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیند آجانے میں کوتاہی نہیں۔ کوتاہی تو اس شخص میں ہے جس نے اگلی نماز کا وقت آنے تک نماز نہ پڑھی، حالانکہ وہ جاگ رہا تھا۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 617]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 619
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا يَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا نَسِيتَ الصَّلَاةَ فَصَلِّ إِذَا ذَكَرْتَ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: وَأَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي سورة طه آية 14". قَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى: حَدَّثَنَا بِهِ يَعْلَى مُخْتَصَرًا.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز بھول جاؤ تو یاد آنے پر اسے پڑھ لو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: «أقم الصلاة لذكري» ۱؎ ”نماز قائم کرو جب میری یاد آئے“۔ عبدالاعلی کہتے ہیں: اس حدیث کو ہم سے یعلیٰ نے مختصراً بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 619]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز بھول جاؤ تو جب یاد آئے اسے پڑھ لو، کیونکہ اللہ تعالیٰ (قرآن مجید میں) فرماتا ہے: ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ [سورة طه: 14] ”اور میری یاد آنے پر نماز قائم کرو۔““ عبدالاعلیٰ رحمہ اللہ نے کہا: ”ہمیں یہ روایت یعلی رحمہ اللہ نے اختصار کے ساتھ بیان کی۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 619]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ، تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13243) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مشہور قرأت یاء متکلم کی طرف اضافت کے ساتھ ہے لیکن یہ قرأت مقصود کے مناسب نہیں اس لیے اس کی تاویل یہ کی جاتی ہے کہ مضاف مقدر ہے اصل عبارت یوں ہے «وقت ذکر صلاتی» اور ایک شاذ قرأت «للذکریٰ» اسم مقصور کے ساتھ ہے جو أوفق بالمقصود ہے، (جو رقم: ۶۲۱ کے تحت آ رہی ہے)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 621
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ نَسِيَ صَلَاةً، فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى، يَقُولُ: 0 أَقِمْ الصَّلَاةَ لِلذِّكْرَى 0". قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ: هَكَذَا قَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی نماز بھول جائے تو جب اسے یاد آئے پڑھ لے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: نماز قائم کرو یاد آنے پر“، معمر کہتے ہیں کہ میں نے زہری سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح پڑھا ہے؟ کہا: ہاں“ (یعنی: «للذکریٰ»)۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 621]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نماز بھول جائے تو اسے جب یاد آئے، اسی وقت پڑھ لے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ [سورة طه: 14] ”یاد آنے پر نماز قائم کرو۔“”معمر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”میں نے امام زہری رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح قراءت فرمائی تھی؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 621]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 620 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح