سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب : الصلاة في الثوب الواحد
باب: ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 764
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ سَائِلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، فَقَالَ:" أَوَلِكُلِّكُمْ ثَوْبَانِ؟".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سائل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے ہر ایک کو دو کپڑے میسر ہیں؟“۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 764]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”کیا تم میں سے ہر شخص کے پاس دو دو کپڑے ہیں؟“ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 764]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 4 (358)، 9 (365)، صحیح مسلم/الصلاة 52 (515)، سنن ابی داود/الصلاة 78 (625)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 13231)، موطا امام مالک/الجماعة 9 (30)، مسند احمد 6/230، 239، 285، 345، 495، 498، 499، 501، سنن الدارمی/الصلاة 99 (1410، 1411) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 770
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى عَاتِقِهِ مِنْهُ شَيْءٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے جس کا کوئی حصہ اس کے کندھے پر نہ ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 770]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اس طرح ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھوں پر کچھ بھی کپڑا نہ ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 770]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 52 (516)، سنن ابی داود/الصلاة 78 (626)، (تحفة الأشراف: 13678)، مسند احمد 2/243، 464، سنن الدارمی/الصلاة 99 (1411) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه