🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب : صلاة الإمام خلف رجل من رعيته
باب: امام کا رعیت میں سے کسی شخص کے پیچھے نماز پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 786
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ قال:" آخِرُ صَلَاةٍ صَلَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْقَوْمِ صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری نماز وہ تھی جسے آپ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے ایک کپڑے میں اس حال میں پڑھی تھی کہ اس کے دونوں کنارے بغل سے نکال کر آپ کندھے پر ڈالے ہوئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 786]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آخری نماز جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ پڑھی وہ آپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے ایک کپڑے میں پڑھی تھی جسے آپ نے اپنے جسم پر لپیٹ رکھا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 786]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 594)، مسند احمد 3/159، 216، 243 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1832
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" آخِرُ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَشْفُ السِّتَارَةِ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَرَادَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَرْتَدَّ فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ امْكُثُوا وَأَلْقَى السِّجْفَ , وَتُوُفِّيَ مِنْ آخِرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَذَلِكَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری دیدار اس وقت کیا تھا (جب) آپ نے (حجرے کا) پردہ اٹھایا، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف باندھے (کھڑے تھے)، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پیچھے ہٹنا چاہا تو آپ نے اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو، اور پردہ گرا دیا (پھر) آپ اسی دن کے آخری (حصہ میں) انتقال فرما گئے، اور یہ دوشنبہ کا دن تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1832]
حضرت انس رضی اللہ عنہ (خادمِ خاص) بیان کرتے ہیں کہ آخری نگاہ جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ڈالی، یوں تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دروازے کا) پردہ ہٹایا جبکہ لوگ (صبح کی نماز میں) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صفوں میں کھڑے تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا (کہ شاید آپ تشریف لانا چاہتے ہیں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو اشارہ کیا کہ اپنی اپنی جگہ نماز پڑھتے رہو (کیونکہ سب آپ کی طرف دیکھنے لگے تھے) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ گرا دیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی دن کے آخر میں فوت ہو گئے۔ یہ پیر کے دن کی بات ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1832]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 21 (419)، سنن الترمذی/الشمائل 53 (368)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 64 (1624)، (تحفة الأشراف: 1487)، مسند احمد 3/110، 163، 196، 197 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4997
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ بِشْرِ بْنِ سُحَيْمٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يُنَادِيَ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ:" أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ , وَهِيَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ".
بشر بن سحیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ایام تشریق (۱۱، ۱۲، ۱۳ ذی الحجہ) میں اعلان کر دیں کہ جنت میں مومن کے سوا کوئی نہیں داخل ہو گا ۱؎، اور یہ کہ یہ کھانے پینے کے دن ہیں ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 4997]
حضرت بشر بن سحیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایام تشریق میں یہ اعلان کرنے کا حکم دیا کہ جنت میں صرف مومن ہی داخل ہو گا، نیز یہ دن کھانے پینے کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 4997]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الصیام 35 (1720)، (تحفة الأشراف: 2019)، مسند احمد (3/415، 4/335)، سنن الدارمی/الصوم 48 (1807) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: جنت میں پہلی مرتبہ ہی داخل ہونے کا شرف کامل ایمان والوں کو ہی حاصل ہو گا۔ ۲؎: سال کے سارے ہی دن کھانے پینے کے دن ہوں یہاں مراد یہ ہے کہ خاص طور سے کھانے پینے کے دن ہیں، یعنی ایام تشریق، قربانی کے دن ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں