سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
50. باب : المحافظة على الصلوات حيث ينادى بهن
باب: جہاں پر اذان دی جاتی ہو وہاں نمازوں کی محافظت کا بیان۔
حدیث نمبر: 851
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: جَاءَ أَعْمَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ يَقُودُنِي إِلَى الصَّلَاةِ فَسَأَلَهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ أَنْ يُصَلِّيَ فِي بَيْتِهِ فَأَذِنَ لَهُ فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ قَالَ لَهُ:" أَتَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ" قَالَ: نَعَمْ قَالَ:" فَأَجِبْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک نابینا شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ۱؎، اور اس نے عرض کیا: میرا کوئی راہبر (گائیڈ) نہیں ہے جو مجھے مسجد تک لائے، اس نے آپ سے درخواست کی کہ آپ اسے اس کے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی، پھر جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا، اور اس سے پوچھا: ”کیا تم اذان سنتے ہو؟“ اس نے جواب دیا: جی ہاں، (سنتا ہوں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو (مؤذن کی پکار پر) لبیک کہو“ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 851]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نابینا آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”مجھے کوئی ہاتھ پکڑ کر چلانے والا نہیں جو مجھے مسجد میں نماز کے لیے لائے“ اور اس نے آپ سے گزارش کی کہ اسے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت دی جائے۔ آپ نے اسے اجازت دے دی۔ جب وہ واپس جانے کے لیے مڑا تو آپ نے فرمایا: ”تم اذان سنتے ہو؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں“، آپ نے فرمایا: ”پھر (نماز کے لیے) ضرور آؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 851]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 43 (653)، (تحفة الأشراف: 14822) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ تھے۔ ۲؎: یعنی مسجد میں آ کر جماعت ہی سے نماز پڑھو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 852
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ. ح وأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنَا قَاسِمُ بْنُ يَزَيْدٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْمَدِينَةَ كَثِيرَةُ الْهَوَامِّ وَالسِّبَاعِ قَالَ:" هَلْ تَسْمَعُ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَحَيَّ هَلًا وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ".
عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مدینہ میں کیڑے مکوڑے (سانپ بچھو وغیرہ) اور درندے بہت ہیں، (تو کیا میں گھر میں نماز پڑھ لیا کروں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم «حى على الصلاة»، اور «حى على الفلاح» کی آواز سنتے ہو؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، (سنتا ہوں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو آؤ“، اور آپ نے انہیں جماعت سے غیر حاضر رہنے کی اجازت نہیں دی۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 852]
حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! تحقیق مدینہ منورہ میں زہریلے کیڑے مکوڑے اور درندے بہت ہیں (لہٰذا مجھے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت دیجیے۔)“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» ”نماز کی طرف آؤ“ اور «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» ”کامیابی کی طرف آؤ“ کی ندا سنتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ضرور آؤ۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گھر میں (فرض) نماز پڑھنے کی رخصت نہیں دی۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 852]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 47 (553)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 10787) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (553) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 326