سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
67. باب : القراءة في المغرب بـ {المص}
باب: مغرب میں سورۃ «المص» پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 990
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ قَالَ لِمَرْوَانَ يَا أَبَا عَبْدِ الْمَلِكِ: أَتَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ و إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ قَالَ:" نَعَمْ" قَالَ:" فَمَحْلُوفَةٌ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِيهَا بِأَطْوَلِ الطُّولَيَيْنِ المص".
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مروان سے پوچھا: اے ابوعبدالملک! کیا تم مغرب میں «قل هو اللہ أحد» اور «إنا أعطيناك الكوثر» پڑھتے ہو؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں! تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں «المص» جو دو لمبی سورتوں (انعام اور اعراف) میں زیادہ لمبی ہے (سورۃ الاعراف) پڑھتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 990]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے مروان سے کہا: ”اے ابوعبدالملک! کیا آپ ہمیشہ مغرب کی نماز میں ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] اور ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾ [سورة الكوثر: 1] ہی پڑھتے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ آپ نے فرمایا: ”قسم اس ذات کی جس کی قسم اٹھائی جاتی ہے! (یعنی اللہ عزوجل کی!) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نماز میں دو لمبی سورتوں میں سے زیادہ لمبی سورت ﴿الٓمٓصٓ﴾ [سورة الأعراف: 1] پڑھتے دیکھا ہے۔“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 990]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3732)، مسند احمد 5/185، 187، 188، 189 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 991
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، قال:" مَا لِي أَرَاكَ تَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ السُّوَرِ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِيهَا بِأَطْوَلِ الطُّولَيَيْنِ، قُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ: مَا أَطْوَلُ الطُّولَيَيْنِ قَالَ الْأَعْرَافُ".
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ مروان بن حکم نے انہیں خبر دی کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ کیا بات ہے کہ میں مغرب میں تمہیں چھوٹی سورتیں پڑھتے دیکھتا ہوں، حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نماز میں دو بڑی سورتوں میں جو زیادہ بڑی سورت ہے اسے پڑھتے دیکھا ہے، میں نے پوچھا: اے ابوعبداللہ! دو بڑی سورتوں میں سے زیادہ بڑی سورت کون سی ہے؟ انہوں نے کہا: اعراف۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 991]
حضرت مروان بن حکم رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: ”کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں مغرب کی نماز میں چھوٹی چھوٹی سورتیں ہی پڑھتے دیکھتا ہوں، حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نماز میں دو لمبی سورتوں میں سے زیادہ لمبی سورت پڑھتے دیکھا ہے؟“ میں (مروان) نے کہا: ”اے ابو عبداللہ! یہ کون سی سورت ہے؟“ انہوں نے کہا: ”سورہ الاعراف۔“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 991]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 98 (764) مختصراً، سنن ابی داود/الصلاة 132 (812)، (تحفة الأشراف: 3738) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري