سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
69. باب : الفضل في قراءة { قل هو الله أحد }
باب: «قل ھو اللہ أحد» پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 995
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ مَوْلَى آلِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، قال: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يقول: أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ {1} اللَّهُ الصَّمَدُ {2} لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ {3} وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ {4} سورة الإخلاص آية 1-4 فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَجَبَتْ فَسَأَلْتُهُ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: الْجَنَّةُ".
عبید بن حنین مولی آل زید بن خطاب کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا، تو آپ نے ایک شخص کو «قل هو اللہ أحد * اللہ الصمد * لم يلد ولم يولد * ولم يكن له كفوا أحد» پڑھتے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واجب ہو گئی“، میں نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا چیز واجب ہو گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت“۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 995]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آ رہا تھا کہ آپ نے ایک آدمی کو یہ سورت پڑھتے ہوئے سنا: ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1-4] ”کہہ دیجیے: اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس نے جنا اور نہ وہ جنا گیا۔ اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واجب ہوگئی۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا (واجب ہوگئی)؟ آپ نے فرمایا: ”جنت۔“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 995]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/فضائل القرآن 11 (2897)، (تحفة الأشراف: 14127)، موطا امام مالک/القرآن 6 (18)، مسند احمد 2/302، 535، 536 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 994
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قال: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، أَنَّ أَبَا الرِّجَالِ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ، عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ فَكَانَ يَقْرَأُ لِأَصْحَابِهِ فِي صَلَاتِهِمْ فَيَخْتِمُ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَلَمَّا رَجَعُوا ذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" سَلُوهُ لِأَيِّ شَيْءٍ فَعَلَ ذَلِكَ فَسَأَلُوهُ" فَقَالَ: لِأَنَّهَا صِفَةُ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرَأَ بِهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَخْبِرُوهُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو لشکر کی ایک ٹکری کا امیر بنا کر بھیجا، وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھایا کرتا تھا، اور قرأت «قل هو اللہ أحد» پر ختم کرتا تھا، جب لوگ لوٹ کر واپس آئے، تو لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان سے پوچھو، وہ ایسا کیوں کرتے تھے؟“ ان لوگوں نے ان سے پوچھا: انہوں نے کہا: یہ رحمن عزوجل کی صفت ہے، اس لیے میں اسے پڑھنا پسند کرتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اسے بتا دو کہ اللہ عزوجل بھی اسے پسند کرتا ہے“۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 994]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو ایک لشکر پر امیر مقرر فرمایا، وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے ہوئے قراءت کرتا تو آخر میں ﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] (ضرور) پڑھتا، جب وہ واپس آئے تو انہوں نے اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے پوچھو، اس نے ایسا کیوں کیا؟“ انہوں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا: ”اس لیے کہ یہ رحمن (اللہ) عزوجل کی صفت ہے، میں چاہتا ہوں کہ اسے (بار بار) پڑھوں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بتاؤ کہ اللہ عزوجل اس سے محبت فرماتا ہے۔“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 994]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/توحید 1 (7375)، صحیح مسلم/المسافرین 45 (813)، (تحفة الأشراف: 17914) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه