سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب ما جاء أن أكثر أهل النار النساء
باب: جہنم میں اکثریت عورتوں کی ہو گی۔
حدیث نمبر: 2602
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، قَال: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ، وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جنت میں جھانکا تو دیکھا کہ اکثر جنتی فقیر ہیں اور جہنم میں جھانکا تو دیکھا کہ اکثر جہنمی عورتیں ہیں“۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2602]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الرقاق 16 (تعلیقا عقب حدیث 6449)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء 26 (2737) (تحفة الأشراف: 6317)، و مسند احمد (1/294، 359) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الضعيفة تحت الحديث (2800)
حدیث نمبر: 2603
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَوْفٌ هُوَ ابْنُ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ، وَاطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهَكَذَا يَقُولُ عَوْفٌ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَيَقُولُ أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَكِلَا الْإِسْنَادَيْنِ لَيْسَ فِيهِمَا مَقَالٌ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ أَبُو رَجَاءٍ سَمِعَ مِنْهُمَا جَمِيعًا، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ عَوْفٍ أَيْضًا هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ.
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جہنم میں جھانکا تو دیکھا کہ اکثر جہنمی عورتیں ہیں اور جنت میں جھانکا تو دیکھا کہ اکثر جنتی فقیر ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- عوف نے سند بیان کرتے ہوئے اس طرح کہا ہے: «عن أبي رجاء عن عمران بن حصين» اور ایوب نے کہا: «عن أبي رجاء عن ابن عباس»، دونوں سندوں میں کوئی کلام نہیں ہے۔ اس بات کا احتمال ہے کہ ابورجاء نے عمران بن حصین اور ابن عباس دونوں سے سنا ہو، عوف کے علاوہ دوسرے لوگوں نے بھی یہ حدیث ابورجاء کے واسطہ سے عمران بن حصین سے روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2603]
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- عوف نے سند بیان کرتے ہوئے اس طرح کہا ہے: «عن أبي رجاء عن عمران بن حصين» اور ایوب نے کہا: «عن أبي رجاء عن ابن عباس»، دونوں سندوں میں کوئی کلام نہیں ہے۔ اس بات کا احتمال ہے کہ ابورجاء نے عمران بن حصین اور ابن عباس دونوں سے سنا ہو، عوف کے علاوہ دوسرے لوگوں نے بھی یہ حدیث ابورجاء کے واسطہ سے عمران بن حصین سے روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2603]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/بدء الخلق 8 (3241)، والنکاح 88 (5198)، والرقاق 16 (6449)، و 51 (6546) (تحفة الأشراف: 10873)، و مسند احمد (4/429، 443) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح انظر ما قبله (2602)