🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب منه
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2946
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِي كَمْ أَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قَالَ: " اخْتِمْهُ فِي شَهْرٍ "، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: " اخْتِمْهُ فِي عِشْرِينَ "، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: " اخْتِمْهُ فِي خَمْسَةَ عَشَرَ "، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: " اخْتِمْهُ فِي عَشْرٍ "، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: اخْتِمْهُ فِي خَمْسٍ، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَمَا رَخَّصَ لِي "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوًجْهِ، يُسْتَغْرَبُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَرُوِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَمْ يَفْقَهْ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ "، وَرُوِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: " اقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي أَرْبَعِينَ "، وَقَالَ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ: وَلَا نُحِبُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يَأْتِيَ عَلَيْهِ أَكْثَرُ مِنْ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، وَلَمْ يَقْرَأْ الْقُرْآنَ لِهَذَا الْحَدِيثِ، وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يُقْرَأُ الْقُرْآنُ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ لِلْحَدِيثِ الَّذِي رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَخَّصَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَرُوِي عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ فِي رَكْعَةٍ يُوتِرُ بِهَا، وَرُوِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي رَكْعَةٍ فِي الْكَعْبَةِ، وَالتَّرْتِيلُ فِي الْقِرَاءَةِ أَحَبُّ إِلَى أَهْلِ الْعِلْمِ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں کتنے دنوں میں قرآن پڑھ ڈالوں؟ آپ نے فرمایا: مہینے میں ایک بار ختم کرو، میں نے کہا میں اس سے بڑھ کر (یعنی کم مدت میں) ختم کرنے کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: تو بیس دن میں ختم کرو۔ میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی یعنی اور بھی کم مدت میں ختم کرنے کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: پندرہ دن میں ختم کر لیا کرو۔ میں نے کہا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: دس دن میں ختم کر لیا کرو۔ میں نے کہا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: پانچ دن میں ختم کر لیا کرو۔ میں نے کہا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ تو آپ نے مجھے پانچ دن سے کم مدت میں قرآن ختم کرنے کی اجازت نہیں دی۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے،
۲- یہ حدیث بطریق: «أبي بردة عن عبد الله بن عمرو» غریب سمجھی گئی ہے،
۳- یہ حدیث کئی سندوں سے عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے۔ عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قرآن تین دن سے کم مدت میں پڑھا، اس نے قرآن کو نہیں سمجھا،
۴- عبداللہ بن عمرو سے (یہ بھی) مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: قرآن چالیس دن میں پڑھ ڈالا کرو،
۵- اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں: ہم اس حدیث کی بنا پر کسی آدمی کے لیے یہ پسند نہیں کرتے کہ اس پر چالیس دن سے زیادہ گزر جائیں اور وہ قرآن پاک ختم نہ کر چکا ہو،
۶- اس حدیث کی بنا پر جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ تین دن سے کم مدت میں قرآن پڑھ کر نہ ختم کیا جائے،
۷- اور بعض اہل علم نے اس کی رخصت دی ہے،
۸- اور عثمان بن عفان سے متعلق ہے مروی ہے کہ وہ وتر کی ایک رکعت میں پورا قرآن پڑھ ڈالتے تھے،
۹- سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ انہوں نے کعبہ کے اندر ایک رکعت میں پورا قرآن پڑھا،
۱۰- قرأت میں ترتیل (ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا) اہل علم کے نزدیک پسندیدہ ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2946]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (وأخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 8956) (ضعیف الإسناد) (سند میں ابواسحاق سبیعی مدلس اور مختلط ہیں، نیز حدیث میں یہ ہے کہ اختمه في خمس یعنی پانچ دن میں قرآن ختم کرو، عبداللہ بن عمرو بن العاص کہتے ہیں کہ میں اس سے زیادہ پڑھنے کی طاقت رکھتا ہوں پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کم دن میں قرآن ختم کرنے کی مجھے اجازت نہیں دی، امام ترمذی اس حدیث کو حسن صحیح غریب کہتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ یہ غرابت بسند ابو بردة عن عبداللہ بن عمرو ہے، واضح رہے کہ صحیح بخاری میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے کہا کہ اقرأ القرآن في كل شهر قال: إني أطيق أكثر فما زال حتى قال: $في ثلاث# تم ہر مہینے میں قرآن ختم کرو، تو انہوں نے کہا کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں اور برابر یہ کہتے رہے کہ میں اس سے زیادہ پڑھنے کی طاقت رکھتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”تین دن میں قرآن ختم کرو“ (صحیح البخاری/الصیام 54 (1978)، اور صحیح بخاری (فضائل القرآن 34 5054)، اور صحیح مسلم (صیام 35 /182) وأبوداو سنن ابی داود/ الصلاة 325 (1388) میں ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے: فاقرأه في كل سبع ولا تزد على ذلك یعنی ہر سات دن پر قرآن ختم کرو، اور اس سے زیادہ نہ کرو، تو اس سے پتہ چلا کہ فما رخص لي مجھے پانچ دن سے کم کی اجازت نہیں سنن الدارمی/ کا جملہ شاذ ہے، اور تین دن میں قرآن ختم کرنے کی اجازت محفوظ اور ثابت ہے، اور ایسے ہی دوسری روایت میں سات دن ختم کرنے کی اجازت ہے) اور سبب ضعف ابواسحاق السبیعی ہیں)۔»
وضاحت: ۱؎: ایک دن یا تین دن میں ختم کرنے سے ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا اور تلاوت کرنا زیادہ پسندیدہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد، وقد، الصحيحة أنه قال له: " اقرأه في كل ثلاث "، صحيح أبي داود (1255) // (1237 / 1388) //، صحيح أبي داود (1260) // (1242 / 1394) //
قال الشيخ زبير على زئي:(2946) إسناده ضعيف
أبو إسحاق عنعن (تقدم:107)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2947
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي النَّضْرِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ هُوَ ابْنُ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: " اقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي أَرْبَعِينَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَرْبَعِينَ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: چالیس دن میں قرآن پورا پڑھ لیا کرو۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- بعضوں نے معمر سے، اور معمر نے سماک بن فضل کے واسطہ سے وہب بن منہہ سے روایت کی ہے، کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کو حکم دیا کہ وہ قرآن چالیس دن میں پڑھا کریں۔ [سنن ترمذي/كتاب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2947]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الصلاة 326 (1395) (تحفة الأشراف: 8944) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، صحيح أبي داود (1261) ، الصحيحة (1512)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں