سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
186. باب ما جاء في الصلاة عند التوبة
باب: توبہ کی نماز کا بیان۔
حدیث نمبر: 406
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ، قَال: سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ: إِنِّي كُنْتُ رَجُلًا إِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا نَفَعَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِمَا شَاءَ أَنْ يَنْفَعَنِي بِهِ، وَإِذَا حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ اسْتَحْلَفْتُهُ، فَإِذَا حَلَفَ لِي صَدَّقْتُهُ، وَإِنَّهُ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ رَجُلٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا ثُمَّ يَقُومُ فَيَتَطَهَّرُ ثُمَّ يُصَلِّي ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا اللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ سورة آل عمران آية 135 "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ , وَأَبِي الدَّرْدَاءِ , وَأَنَسٍ , وَأَبِي أُمَامَةَ , وَمُعَاذٍ , ووَاثِلَةَ , وَأَبِي الْيَسَرِ وَاسْمُهُ: كَعْبُ بْنُ عَمْرٍ وَقَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَرَوَى عَنْهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، فَرَفَعُوهُ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ، وَرَوَاهُ سفيان الثوري , وَمِسْعَرٌ فَأَوْقَفَاهُ وَلَمْ يَرْفَعَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مِسْعَرٍ هَذَا الْحَدِيثُ مَرْفُوعًا أَيْضًا، وَلَا نَعْرِفُ لِأَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ حَدِيثًا مَرْفُوعًا إِلَّا هَذَا.
اسماء بن حکم فزاری کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی الله عنہ کو کہتے سنا: میں جب رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنتا تو اللہ اس سے مجھے نفع پہنچاتا، جتنا وہ پہنچانا چاہتا۔ اور جب آپ کے اصحاب میں سے کوئی آدمی مجھ سے بیان کرتا تو میں اس سے قسم لیتا۔ (کیا واقعی تم نے یہ حدیث رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے خود سنی ہے؟) جب وہ میرے سامنے قسم کھا لیتا تو میں اس کی تصدیق کرتا، مجھ سے ابوبکر رضی الله عنہ نے بیان کیا اور ابوبکر رضی الله عنہ نے سچ بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جو شخص گناہ کرتا ہے، پھر جا کر وضو کرتا ہے پھر نماز پڑھتا ہے، پھر اللہ سے استغفار کرتا ہے تو اللہ اسے معاف کر دیتا ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «والذين إذا فعلوا فاحشة أو ظلموا أنفسهم ذكروا الله فاستغفروا لذنوبهم ومن يغفر الذنوب إلا الله ولم يصروا على ما فعلوا وهم يعلمون» ”اور جب ان سے کوئی ناشائستہ حرکت یا کوئی گناہ سرزد ہو جاتا ہے تو وہ اللہ کو یاد کر کے فوراً استغفار کرتے ہیں۔ اور اللہ کے سوا کون گناہ بخش سکتا ہے، اور وہ جان بوجھ کر کسی گناہ پر اڑے نہیں رہتے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ہم اسے صرف اسی طریق سے یعنی عثمان بن مغیرہ ہی کی سند سے جانتے ہیں،
۲- اور ان سے شعبہ اور دوسرے اور لوگوں نے بھی روایت کی ہے ان لوگوں نے اسے ابوعوانہ کی حدیث کی طرح مرفوعاً روایت کیا ہے، اور اسے سفیان ثوری اور مسعر نے بھی روایت کیا ہے لیکن ان دونوں کی روایت موقوف ہے مرفوع نہیں اور مسعر سے یہ حدیث مرفوعاً بھی مروی ہے اور سوائے اس حدیث کے اسماء بن حکم کی کسی اور مرفوع حدیث کا ہمیں علم نہیں،
۳- اس باب میں ابن مسعود، ابو الدردائ، انس، ابوامامہ، معاذ، واثلہ، اور ابوالیسر کعب بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 406]
۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ہم اسے صرف اسی طریق سے یعنی عثمان بن مغیرہ ہی کی سند سے جانتے ہیں،
۲- اور ان سے شعبہ اور دوسرے اور لوگوں نے بھی روایت کی ہے ان لوگوں نے اسے ابوعوانہ کی حدیث کی طرح مرفوعاً روایت کیا ہے، اور اسے سفیان ثوری اور مسعر نے بھی روایت کیا ہے لیکن ان دونوں کی روایت موقوف ہے مرفوع نہیں اور مسعر سے یہ حدیث مرفوعاً بھی مروی ہے اور سوائے اس حدیث کے اسماء بن حکم کی کسی اور مرفوع حدیث کا ہمیں علم نہیں،
۳- اس باب میں ابن مسعود، ابو الدردائ، انس، ابوامامہ، معاذ، واثلہ، اور ابوالیسر کعب بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 406]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الصلاة 361 (1521)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 193 (1395)، (تحفة الأشراف: 6610)، مسند احمد (1/2ویأتي عند المؤلف في تفسیر آل عمران برقم: 3006) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن، ابن ماجة (1395)
حدیث نمبر: 3006
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ، قَال: سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ: إِنِّي كُنْتُ رَجُلًا إِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا نَفَعَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِمَا شَاءَ أَنْ يَنْفَعَنِي، وَإِذَا حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ اسْتَحْلَفْتُهُ، فَإِذَا حَلَفَ لِي صَدَّقْتُهُ، وَإِنَّهُ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ رَجُلٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا ثُمَّ يَقُومُ فَيَتَطَهَّرُ، ثُمَّ يُصَلِّي ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ إِلَّا غَفَرَ لَهُ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا سورة آل عمران آية 135 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ قَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، فَرَفَعُوهُ وَرَوَاهُ مِسْعَرٌ، وَسُفْيَانُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَلَمْ يَرْفَعَاهُ، وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ، عَنْ مِسْعَرٍ فَأَوْقَفَهُ وَرَفَعَهُ بَعْضُهُمْ، وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَأَوْقَفَهُ، وَلَا نَعْرِفُ لِأَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ حَدِيثًا إِلَّا هَذَا.
اسماء بن حکم فزاری کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا: جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنی تو اللہ نے مجھے جتنا فائدہ پہنچانا چاہا پہنچایا، اور جب مجھ سے آپ کا کوئی صحابی حدیث بیان کرتا تو میں اسے قسم کھلاتا پھر جب وہ میرے کہنے سے قسم کھا لیتا تو میں اس کی تصدیق کرتا۔ اور بیشک مجھ سے ابوبکر رضی الله عنہ نے حدیث بیان کی اور بالکل سچ بیان کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ”جو کوئی بھی شخص کوئی گناہ کرتا ہے پھر وہ کھڑا ہوتا ہے پھر پاکی حاصل کرتا ہے پھر نماز پڑھتا ہے، اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہے تو اللہ اسے بخش دیتا ہے“، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «والذين إذا فعلوا فاحشة أو ظلموا أنفسهم ذكروا الله» ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس حدیث کو شعبہ اور دیگر کئی لوگوں نے عثمان بن مغیرہ سے روایت کیا ہے اور ان لوگوں نے اسے مرفوع روایت کیا ہے جب کہ مسعر اور سفیان نے عثمان بن مغیرہ سے روایت کیا ہے لیکن ان دونوں نے اسے مرفوع روایت نہیں کیا۔ اور بعض لوگوں نے اسے مسعر سے موقوفاً روایت کیا ہے۔ اور بعض لوگوں نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ اور سفیان ثوری نے عثمان بن مغیرہ سے موقوفاً روایت کیا ہے،
۲- اسماء بن حکم سے اس روایت کے سوا کوئی دوسری روایت ہم نہیں جانتے۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 3006]
۱- اس حدیث کو شعبہ اور دیگر کئی لوگوں نے عثمان بن مغیرہ سے روایت کیا ہے اور ان لوگوں نے اسے مرفوع روایت کیا ہے جب کہ مسعر اور سفیان نے عثمان بن مغیرہ سے روایت کیا ہے لیکن ان دونوں نے اسے مرفوع روایت نہیں کیا۔ اور بعض لوگوں نے اسے مسعر سے موقوفاً روایت کیا ہے۔ اور بعض لوگوں نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ اور سفیان ثوری نے عثمان بن مغیرہ سے موقوفاً روایت کیا ہے،
۲- اسماء بن حکم سے اس روایت کے سوا کوئی دوسری روایت ہم نہیں جانتے۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 3006]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم 406 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ”جب ان سے کوئی ناشائستہ کام ہو جائے یا کوئی گناہ کر بیٹھیں تو فوراً اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کے لیے استغفار کرتے ہیں“ (آل عمران: ۱۳۵)۔
قال الشيخ الألباني: حسن، ابن ماجة (1359)