سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
190. باب ما جاء في التسبيح في أدبار الصلاة
باب: نماز کے بعد کی تسبیح (اذکار) کا بیان۔
حدیث نمبر: 410
حَدَّثَنَا وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ الْبَصْرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَعِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ الْفُقَرَاءُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْأَغْنِيَاءَ يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ وَلَهُمْ أَمْوَالٌ يُعْتِقُونَ وَيَتَصَدَّقُونَ، قَالَ: " فَإِذَا صَلَّيْتُمْ فَقُولُوا: سُبْحَانَ اللَّهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ مَرَّةً، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ مَرَّةً، وَاللَّهُ أَكْبَرُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ مَرَّةً، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَشْرَ مَرَّاتٍ، فَإِنَّكُمْ تُدْرِكُونَ بِهِ مَنْ سَبَقَكُمْ وَلَا يَسْبِقُكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ " قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ , وَأَنَسٍ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍوَ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ , وَأَبِي الدَّرْدَاءِ , وَابْنِ عُمَرَ , وَأَبِي ذَرٍّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَفِي الْبَاب أَيْضًا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَالْمُغِيرَةِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " خَصْلَتَانِ لَا يُحْصِيهِمَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ: يُسَبِّحُ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا، وَيَحْمَدُهُ عَشْرًا، وَيُكَبِّرُهُ عَشْرًا، وَيُسَبِّحُ اللَّهَ عِنْدَ مَنَامِهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَيَحْمَدُهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَيُكَبِّرُهُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پاس کچھ فقیر و محتاج لوگ آئے اور کہا: اللہ کے رسول! مالدار نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں وہ روزہ رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں۔ ان کے پاس مال بھی ہے، اس سے وہ غلام آزاد کرتے اور صدقہ دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”جب تم نماز پڑھ چکو تو تینتیس مرتبہ ”سبحان اللہ“، تینتیس مرتبہ ”الحمد لله“ اور تینتیس مرتبہ ”الله أكبر“ اور دس مرتبہ ”لا إله إلا الله“ کہہ لیا کرو، تو تم ان لوگوں کو پا لو گے جو تم پر سبقت لے گئے ہیں، اور جو تم سے پیچھے ہیں وہ تم پر سبقت نہ لے جا سکیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن غریب ہے،
۲- اس باب میں کعب بن عجرہ، انس، عبداللہ بن عمرو، زید بن ثابت، ابو الدرداء، ابن عمر اور ابوذر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، نیز اس باب میں ابوہریرہ اور مغیرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”دو عادتیں ہیں جنہیں جو بھی مسلمان آدمی بجا لائے گا جنت میں داخل ہو گا۔ ایک یہ کہ وہ ہر نماز کے بعد دس بار ”سبحان الله“، دس بار ”الحمد لله“، دس بار ”الله أكبر“ کہے، دوسرے یہ کہ وہ اپنے سوتے وقت تینتیس مرتبہ ”سبحان الله“، تینتیس مرتبہ ”الحمد لله“ اور چونتیس مرتبہ ”الله أكبر“ کہے۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 410]
۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن غریب ہے،
۲- اس باب میں کعب بن عجرہ، انس، عبداللہ بن عمرو، زید بن ثابت، ابو الدرداء، ابن عمر اور ابوذر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، نیز اس باب میں ابوہریرہ اور مغیرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”دو عادتیں ہیں جنہیں جو بھی مسلمان آدمی بجا لائے گا جنت میں داخل ہو گا۔ ایک یہ کہ وہ ہر نماز کے بعد دس بار ”سبحان الله“، دس بار ”الحمد لله“، دس بار ”الله أكبر“ کہے، دوسرے یہ کہ وہ اپنے سوتے وقت تینتیس مرتبہ ”سبحان الله“، تینتیس مرتبہ ”الحمد لله“ اور چونتیس مرتبہ ”الله أكبر“ کہے۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 410]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/السہو 95 (1354)، (تحفة الأشراف: 6068 و 6393) (ضعیف منکر) (دس بار ”لا إله إلا الله“ کا ذکر منکر ہے، منکر ہو نے کا سبب خصیف ہیں جو حافظے کے کمزور اور مختلط راوی ہیں، آخر میں ایک بار ”لا إله إلا الله“ کے ذکر کے ساتھ یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ کی روایت سے صحیح بخاری میں مروی ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد، والتهليل عشرا فيه منكر، التعليق الرغيب (2 / 260)
قال الشيخ زبير على زئي:(410) إسناده ضعيف /ن 1354 ب
خصيف ضعيف كما تقدم (289) وانظر ضعيف سنن أبى داود (266) وأصل الحديث صحيح بدون التعشير والتھليل
خصيف ضعيف كما تقدم (289) وانظر ضعيف سنن أبى داود (266) وأصل الحديث صحيح بدون التعشير والتھليل
حدیث نمبر: 3412
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سَمُرَةَ الْأَحْمَسِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمُلَائِيُّ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مُعَقِّبَاتٌ لَا يَخِيبُ قَائِلُهُنَّ: يُسَبِّحُ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَيَحْمَدُهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَيُكَبِّرُهُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَعَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمُلَائِيُّ ثِقَةٌ حَافِظٌ، وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْحَكَمِ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَرَوَاهُ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنِ الْحَكَمِ فَرَفَعَهُ.
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ چیزیں نماز کے پیچھے (بعد میں) پڑھنے کی ایسی ہیں کہ ان کا کہنے والا محروم و نامراد نہیں رہتا، ہر نماز کے بعد ۳۳ بار سبحان اللہ کہے، ۳۳ بار الحمدللہ کہے، اور ۳۴ بار اللہ اکبر کہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- شعبہ نے یہ حدیث حکم سے روایت کی ہے، اور اسے مرفوع نہیں کیا ہے، اور منصور بن معتمر نے حکم سے روایت کی ہے اور اسے مرفوع کیا ہے۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 3412]
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- شعبہ نے یہ حدیث حکم سے روایت کی ہے، اور اسے مرفوع نہیں کیا ہے، اور منصور بن معتمر نے حکم سے روایت کی ہے اور اسے مرفوع کیا ہے۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 3412]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 26 (596)، سنن النسائی/السھو 92 (1350)، وعمل الیوم واللیلة 59 (155) (تحفة الأشراف: 11115) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (102) (هذا حديث زيد بن ثابت فى نسخة الدعاس فى التسبيح والتحميد والتكبير والتهليل)