سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
76. باب ما جاء فيمن أكل ثم خرج يريد سفرا
باب: رمضان میں کھانا کھا کر پھر سفر پر نکلے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 800
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: أَتَيْتُ أَنَسَ بْنُ مَالِكٍ فِي رَمَضَانَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ هُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ هُوَ مَدِينِيٌّ ثِقَةٌ، وَهُوَ أَخُو إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ هُوَ ابْنُ نَجِيحٍ وَالِدُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيِّ، وَكَانَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ يُضَعِّفُهُ، وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ، وَقَالُوا: لِلْمُسَافِرِ أَنْ يُفْطِرَ فِي بَيْتِهِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ، وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَقْصُرَ الصَّلَاةَ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ جِدَارِ الْمَدِينَةِ أَوِ الْقَرْيَةِ، وَهُوَ قَوْلُ: إِسْحَاق بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيِّ.
اس سند سے بھی محمد بن کعب سے روایت ہے کہ میں رمضان میں انس بن مالک رضی الله عنہ کے پاس آیا پھر انہوں نے اسی طرح ذکر کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- اور محمد بن جعفر ہی ابن ابی کثیر مدینی ہیں اور ثقہ ہیں اور یہی اسماعیل بن جعفر کے بھائی ہیں اور عبداللہ بن جعفر علی بن عبداللہ مدینی کے والد ابن نجیح ہیں، یحییٰ بن معین ان کی تضعیف کرتے تھے،
۲- بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ مسافر کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے گھر سے نکلنے سے پہلے افطار کرے لیکن اسے نماز قصر کرنے کی اجازت نہیں جب تک کہ شہر یا گاؤں کی فصیل سے باہر نہ نکل جائے۔ یہی اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ حنظلی کا قول ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 800]
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- اور محمد بن جعفر ہی ابن ابی کثیر مدینی ہیں اور ثقہ ہیں اور یہی اسماعیل بن جعفر کے بھائی ہیں اور عبداللہ بن جعفر علی بن عبداللہ مدینی کے والد ابن نجیح ہیں، یحییٰ بن معین ان کی تضعیف کرتے تھے،
۲- بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ مسافر کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے گھر سے نکلنے سے پہلے افطار کرے لیکن اسے نماز قصر کرنے کی اجازت نہیں جب تک کہ شہر یا گاؤں کی فصیل سے باہر نہ نکل جائے۔ یہی اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ حنظلی کا قول ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 800]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: **
حدیث نمبر: 801
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ مَأْمُونٍ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُحْفَةُ الصَّائِمِ الدُّهْنُ وَالْمِجْمَرُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ. لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَاكَ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَعْدِ بْنِ طَرِيفٍ. وَسَعْدُ بْنُ طَرِيفٍ يُضَعَّفُ، وَيُقَالُ: عُمَيْرُ بْنُ مَأْمُومٍ أَيْضًا.
حسن بن علی رضی الله عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ دار کا تحفہ خوشبودار تیل اور عود کی انگیٹھی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- اس کی سند قوی نہیں ہے،
۳- ہم اسے صرف سعد بن طریف کی روایت سے جانتے ہیں، اور
۴- سعد بن طریف ضعیف قرار دیے جاتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 801]
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- اس کی سند قوی نہیں ہے،
۳- ہم اسے صرف سعد بن طریف کی روایت سے جانتے ہیں، اور
۴- سعد بن طریف ضعیف قرار دیے جاتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 801]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 3406) (موضوع) (اس کا راوی ”سعد بن طریف“ وضاع ہے)»
قال الشيخ الألباني: موضوع، الضعيفة (1660) // ضعيف الجامع الصغير (2402) //
قال الشيخ زبير على زئي:(801) إسناده ضعيف جدًا
سعد بن طريف : متروك ورماه ابن حبان بالوضع وكان رافضياً (تق:7343) وعمير : ضعيف (التحرير: 5187)
سعد بن طريف : متروك ورماه ابن حبان بالوضع وكان رافضياً (تق:7343) وعمير : ضعيف (التحرير: 5187)