🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب من أراد أن يعتكف ثم بدا له أن يخرج:
باب: اعتکاف کا قصد کیا لیکن پھر مناسب یہ معلوم ہوا کہ اعتکاف نہ کریں تو یہ بھی درست ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2045
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ:" أَنْ يَعْتَكِفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ، فَاسْتَأْذَنَتْهُ عَائِشَةُ فَأَذِنَ لَهَا، وَسَأَلَتْ حَفْصَةُ عَائِشَةَ أَنْ تَسْتَأْذِنَ لَهَا، فَفَعَلَتْ، فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ زَيْنَبُ ابْنَةُ جَحْشٍ أَمَرَتْ بِبِنَاءٍ فَبُنِيَ لَهَا، قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى انْصَرَفَ إِلَى بِنَائِهِ فَبَصُرَ بِالْأَبْنِيَةِ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: بِنَاءُ عَائِشَةَ، وَحَفْصَةَ، وَزَيْنَبَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" آلْبِرَّ أَرَدْنَ بِهَذَا، مَا أَنَا بِمُعْتَكِفٍ فَرَجَعَ، فَلَمَّا أَفْطَرَ، اعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ".
ہم سے محمد بن مقاتل ابوالحسن نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں اوزاعی نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمرو بنت عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کے لیے ذکر کیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی۔ آپ نے انہیں اجازت دے دی، پھر حفصہ رضی اللہ عنہا نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ ان کے لیے بھی اجازت لے دیں چنانچہ انہوں نے ایسا کر دیا۔ جب زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا نے دیکھا تو انہوں نے بھی خیمہ لگانے کے لیے کہا، اور ان کے لیے بھی خیمہ لگا دیا گیا۔ انہوں نے ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے بعد اپنے خیمہ میں تشریف لے جاتے آج آپ کو بہت خیمے دکھائی دیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ عائشہ، حفصہ، اور زینب رضی اللہ عنھن کے خیمے ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ، بھلا کیا ان کی ثواب کی نیت ہے اب میں بھی اعتکاف نہیں کروں گا۔ پھر جب ماہ رمضان ختم ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال میں اعتکاف کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتكاف/حدیث: 2045]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک دفعہ) رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرنے کا ذکر فرمایا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے (اعتکاف کرنے کی) اجازت طلب کی تو آپ نے انھیں اجازت دے دی۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ وہ اسے بھی اجازت لے دیں تو انھیں بھی اجازت مل گئی۔ جب حضرت زینب رضی اللہ عنہا بنت جحش نے یہ دیکھا تو انھوں نے خیمہ لگانے کا حکم دیا، چنانچہ ان کا خیمہ بھی نصب کر دیا گیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے بعد اپنے معتکف کی طرف تشریف لائے اور وہاں کئی ایک خیمے دیکھے تو فرمایا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے خیمے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ اس نیکی کا ارادہ کرتی ہیں؟ میں (اس سال) اعتکاف نہیں کروں گا۔ چنانچہ آپ واپس لوٹ آئے۔ جب روزے ختم ہوئے تو آپ نے شوال کے ایک عشرے کا اعتکاف کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتكاف/حدیث: 2045]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2029
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُدْخِلُ عَلَيَّ رَأْسَهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَأُرَجِّلُهُ، وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةٍ، إِذَا كَانَ مُعْتَكِفًا".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ اور عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے (اعتکاف کی حالت میں) سر مبارک میری طرف حجرہ کے اندر کر دیتے، اور میں اس میں کنگھا کر دیتی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب معتکف ہوتے تو بلا حاجت گھر میں تشریف نہیں لاتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتكاف/حدیث: 2029]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بحالتِ اعتکاف مسجد میں رہتے ہوئے اپنا سر مبارک میری طرف جھکا دیتے تو میں آپ کو کنگھی کر دیتی تھی، اور جب آپ معتکف ہوتے تو گھر میں بلا ضرورت تشریف نہ لاتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتكاف/حدیث: 2029]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2033
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، فَكُنْتُ أَضْرِبُ لَهُ خِبَاءً فَيُصَلِّي الصُّبْحَ، ثُمَّ يَدْخُلُهُ، فَاسْتَأْذَنَتْ حَفْصَةُ، عَائِشَةَ أَنْ تَضْرِبَ خِبَاءً، فَأَذِنَتْ لَهَا، فَضَرَبَتْ خِبَاءً، فَلَمَّا رَأَتْهُ زَيْنَبُ ابْنَةُ جَحْشٍ ضَرَبَتْ خِبَاءً آخَرَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى الْأَخْبِيَةَ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ فَأُخْبِرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: آلْبِرَّ تُرَوْنَ بِهِنَّ، فَتَرَكَ الِاعْتِكَافَ ذَلِكَ الشَّهْرَ، ثُمَّ اعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ".
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل دوسی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے یحییٰ قطان نے، ان سے عمرہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے (مسجد میں) ایک خیمہ لگا دیتی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھ کے اس میں چلے جاتے تھے۔ پھر حفصہ رضی اللہ عنہا نے بھی عائشہ رضی اللہ عنہا سے خیمہ کھڑا کرنے کی (اپنے اعتکاف کے لیے) اجازت چاہی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اجازت دے دی اور انہوں نے ایک خیمہ کھڑا کر لیا جب زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے دیکھا تو انہوں نے بھی (اپنے لیے) ایک خیمہ کھڑا کر لیا۔ صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی خیمے دیکھے تو فرمایا، یہ کیا ہے؟ آپ کو ان کی حقیقت کی خبر دی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا تم سمجھتے ہو یہ خیمے ثواب کی نیت سے کھڑے کئے گئے ہیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مہینہ (رمضان) کا اعتکاف چھوڑ دیا اور شوال کے عشرہ کا اعتکاف کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتكاف/حدیث: 2033]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے تھے۔ میں آپ کے لیے خیمہ لگانے کا اہتمام کرتی تھی۔ آپ صبح کی نماز پڑھتے، پھر اس میں داخل ہو جاتے۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خیمہ لگانے کی اجازت مانگی تو انہوں نے اجازت دے دی اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے بھی وہاں اپنا خیمہ لگا لیا۔ جب اسے حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے دیکھا تو انہوں نے وہاں ایک اور خیمہ نصب کر لیا۔ جب صبح ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کئی خیمے دیکھے تو فرمایا: یہ کیا ہے؟ آپ کو جب صورتِ حال سے آگاہ کیا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس سے نیکی کا ارادہ کرتے ہو؟ آپ نے اس مہینے کا اعتکاف ترک کر دیا، پھر شوال میں دس دن کا اعتکاف کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتكاف/حدیث: 2033]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2034
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ إِذَا أَخْبِيَةٌ خِبَاءُ عَائِشَةَ، وَخِبَاءُ حَفْصَةَ، وَخِبَاءُ زَيْنَبَ، فَقَالَ: آلْبِرَّ تَقُولُونَ بِهِنَّ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَمْ يَعْتَكِفْ حَتَّى اعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن سعید نے، انہیں عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے اور انہیں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کا ارادہ کیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ تشریف لائے (یعنی مسجد میں) جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کا ارادہ کیا تھا۔ تو وہاں کئی خیمے موجود تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بھی، حفصہ رضی اللہ عنہا کا بھی اور زینب رضی اللہ عنہا کا بھی، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ انہوں نے ثواب کی نیت سے ایسا کیا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے اور اعتکاف نہیں کیا بلکہ شوال کے عشرہ میں اعتکاف کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتكاف/حدیث: 2034]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ اعتکاف کا ارادہ فرمایا۔ جب آپ اس جگہ پہنچے جہاں اعتکاف کرنا چاہتے تھے تو وہاں چند خیمے دیکھے یعنی وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا، اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے خیمے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں دیکھ کر فرمایا: کیا ان میں نیکی کہتے ہو؟ پھر آپ وہاں سے واپس آگئے اور اعتکاف نہ کیا یہاں تک کہ ماہ شوال میں دس دن اعتکاف میں گزارے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتكاف/حدیث: 2034]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2041
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ سَلَامٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ فِي كُلِّ رَمَضَانٍ، وَإِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ دَخَلَ مَكَانَهُ الَّذِي اعْتَكَفَ فِيهِ، قَالَ: فَاسْتَأْذَنَتْهُ عَائِشَةُ أَنْ تَعْتَكِفَ، فَأَذِنَ لَهَا، فَضَرَبَتْ فِيهِ قُبَّةً، فَسَمِعَتْ بِهَا حَفْصَةُ، فَضَرَبَتْ قُبَّةً، وَسَمِعَتْ زَيْنَبُ بِهَا، فَضَرَبَتْ قُبَّةً أُخْرَى، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَدَاةِ، أَبْصَرَ أَرْبَعَ قِبَابٍ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ فَأُخْبِرَ خَبَرَهُنَّ، فَقَالَ: مَا حَمَلَهُنَّ عَلَى هَذَا آلْبِرُّ، انْزِعُوهَا فَلَا أَرَاهَا، فَنُزِعَتْ فَلَمْ يَعْتَكِفْ فِي رَمَضَانَ، حَتَّى اعْتَكَفَ فِي آخِرِ الْعَشْرِ مِنْ شَوَّالٍ".
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو محمد بن فضیل بن غزوان نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن سعید نے، انہیں عمرو بنت عبدالرحمٰن نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں اعتکاف کیا کرتے۔ آپ صبح کی نماز پڑھنے کے بعد اس جگہ جاتے جہاں آپ کو اعتکاف کے لیے بیٹھنا ہوتا۔ راوی نے کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی آپ سے اعتکاف کرنے کی اجازت چاہی۔ آپ نے انہیں اجازت دے دی، اس لیے انہوں نے (اپنے لیے بھی مسجد میں) ایک خیمہ لگا لیا۔ حفصہ رضی اللہ عنہا (زوجہ مطہرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے سنا تو انہوں نے بھی ایک خیمہ لگا لیا۔ زینب رضی اللہ عنہا (زوجہ مطہرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے سنا تو انہوں نے بھی ایک خیمہ لگا لیا۔ صبح کو جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر لوٹے تو چار خیمے دیکھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حقیقت حال کی اطلاع دی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہوں نے ثواب کی نیت سے یہ نہیں کیا، (بلکہ صرف ایک دوسری کی ریس سے یہ کیا ہے) انہیں اکھاڑ دو۔ میں انہیں اچھا نہیں سمجھتا، چنانچہ وہ اکھاڑ دیئے گئے اور آپ نے بھی (اس سال) رمضان میں اعتکاف نہیں کیا۔ بلکہ شوال کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتكاف/حدیث: 2041]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ جب صبح کی نماز پڑھتے تو اس جگہ تشریف لے جاتے جہاں اعتکاف کرنا ہوتا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے اجازت طلب کی کہ وہ اعتکاف کریں۔ جب آپ نے انہیں اجازت دی تو انہوں نے مسجد میں خیمہ لگا لیا۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے سنا تو انہوں نے بھی خیمہ نصب کر لیا۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے سنا تو انہوں نے ایک اور خیمہ لگا لیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگلے روز گئے تو وہاں پر چار خیمے دیکھے، آپ نے فرمایا: یہ کیا بات ہے؟ تو آپ کو ان کی حقیقت سے آگاہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اس پر انہیں کس چیز نے ابھارا ہے؟ کیا وہ نیکی چاہتی ہیں؟ ان تمام خیموں کو اکھاڑ دو۔ میں انہیں یہاں نہیں دیکھنا چاہتا۔ چنانچہ وہ تمام خیمے ختم کر دیے گئے۔ پھر آپ نے رمضان میں اعتکاف نہ کیا حتیٰ کہ شوال کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتكاف/حدیث: 2041]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں