صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
103. باب لا يذاب شحم الميتة ولا يباع ودكه:
باب: مردار کی چربی گلانا اور اس کا بیچنا جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 2223
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي طَاوُسٌ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: بَلَغَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَنَّ فُلَانًا بَاعَ خَمْرًا، فَقَالَ: قَاتَلَ اللَّهُ فُلَانًا، أَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ، فَجَمَلُوهَا، فَبَاعُوهَا".
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ مجھے طاؤس نے خبر دی، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، آپ فرماتے تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ فلاں شخص نے شراب فروخت کی ہے، تو آپ نے فرمایا کہ اسے اللہ تعالیٰ تباہ و برباد کر دے۔ کیا اسے معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، اللہ تعالیٰ یہود کو برباد کرے کہ چربی ان پر حرام کی گئی تھی لیکن ان لوگوں نے اسے پگھلا کر فروخت کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2223]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بات پہنچی کہ فلاں آدمی نے شراب بیچی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فلاں کو ہلاک کرے! کیا وہ نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ یہود پر لعنت کرے کیونکہ ان پر مردار کی چربی حرام کی گئی تو انہوں نے اسے پگھلا کر اس کی خرید و فروخت شروع کر دی۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2223]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2224
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" قَاتَلَ اللَّهُ يَهُودَ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ، فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا".
ہم سے عبدان نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے کہ میں نے سعید بن مسیب سے سنا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ یہودیوں کو تباہ کرے، ظالموں پر چربی حرام کر دی گئی تھی، لیکن انہوں نے اسے بیچ کر اس کی قیمت کھائی۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2224]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ یہود کو تباہ و برباد کرے! ان پر چربی حرام کی گئی تو انہوں نے اسے فروخت کرنا شروع کر دیا اور اس کی قیمتیں کھانے لگے۔“ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ «قَاتَلَ» کے معنی لعنت کرنا ہے جیسا کہ ﴿قُتِلَ الْخَرَّاصُونَ﴾ [سورة الذاريات: 10] کے معنی ہیں: ”جھوٹوں پر لعنت کی گئی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2224]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3460
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَاتَلَ اللَّهُ فُلَانًا أَلَمْ يَعْلَمْ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَجَمَّلُوهَا فَبَاعُوهَا"، تَابَعَهُ جَابِرٌ وَأَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، ان سے طاؤس نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ فلاں کو تباہ کرے۔ انہیں کیا معلوم نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”یہود پر اللہ کی لعنت ہو، ان کے لیے چربی حرام ہوئی تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچنا شروع کر دیا۔“ اس روایت کو ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ جابر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 3460]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: «قَاتَلَ اللّٰهُ فُلَانًا» ”اللہ تعالیٰ فلاں کو ہلاک کرے!“ کیا اسے معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ” «لَعَنَ اللّٰهُ الْيَهُودَ» ”یہودیوں پر اللہ تعالیٰ لعنت کرے“، ان کے لیے چربی حرام ہوئی تو انہوں نے اسے پگھلا کر فروخت کرنا شروع کر دیا۔“ اس روایت کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے علاوہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 3460]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4633
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، قَالَ عَطَاءٌ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، لَمَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ شُحُومَهَا جَمَلُوهُ، ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوهَا"، وَقَالَ أَبُو عَاصِمٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، كَتَبَ إِلَيَّ عَطَاءٌ، سَمِعْتُ جَابِرًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.s
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے کہ عطاء نے بیان کیا کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ یہودیوں کو غارت کرے، جب اللہ تعالیٰ نے ان پر مردہ جانوروں کی چربی حرام کر دی تو اس کا تیل نکال کر اسے بیچنے اور کھانے لگے۔ اور ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے یزید نے بیان کیا، انہیں عطاء نے لکھا تھا کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 4633]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ یہودیوں کو غارت کرے! جب اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی کو حرام کیا تو انہوں نے اسے پگھلایا، پھر اسے فروخت کر کے اس کی قیمت کو کھانا شروع کر دیا۔“ ابوعاصم نے کہا: ہم سے عبدالحمید نے حدیث بیان کی، ان سے یزید نے بیان کیا کہ میری طرف عطاء نے لکھا کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (حدیث مذکور کی طرح) بیان کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 4633]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة