🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 2262 کی تخریج
تخریج میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
کتاب
تخریج
جامع الترمذي
1242
لا بأس به بالقيمة
«سنن ابی داود/ البیوع 14 (3354) ، سنن النسائی/البیوع 50 (4586) ، سنن ابن ماجہ/التجارات 51 (2262) ، ( تحفة الأشراف : 7053) ، مسند احمد (2/33، 59، 99، 101، 139) (ضعیف) (اس کے راوی ’’ سماک ‘‘ اخیر عمر میں مختلط ہو گئے تھے اور تلقین کو قبول کرتے تھے، ان کے ثقہ ساتھیوں نے اس کو ابن عمر رضی الله عنہما پر موقوف کیا ہے)»
سنن أبي داود
3354
لا بأس أن تأخذها بسعر يومها ما لم تفترقا وبينكما شيء
« سنن الترمذی/البیوع 24 (1242)، سنن النسائی/البیوع 48 (4586)، سنن ابن ماجہ/التجارات 51 (2262)، (تحفة الأشراف: 7053)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/33، 59، 89، 101، 139)، سنن الدارمی/البیوع 43 (2623) (ضعیف) » (اس کے راوی سماک مختلط ہوگئے تھے اور تلقین کو قبول کر لیتے تھے، ان کے ثقہ ساتھیوں نے اس کو ابن عمر رضی اللہ عنہما پر ہی موقوف کردیا ہے )
قال الشيخ زبير علي زئي:
إسناده حسن¤ مشكوة المصابيح (2871)¤ أخرجه الترمذي (1242 وسنده حسن) والنسائي (4586 وسنده حسن)
سنن ابن ماجه
2262
إذا أخذت أحدهما وأعطيت الآخر فلا تفارق صاحبك وبينك وبينه لبس
« سنن ابی داود/البیوع 14 ( 3354 ، 3355 ) ، سنن الترمذی/البیوع 24 ( 1242 ) ، سنن النسائی/البیوع 48 ( 4586 ) ، ( تحفة الأشراف : 7053 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/33 ، 59 ، 89 ، 101 ، 139 ، 154 ) ، سنن الدارمی/البیوع 43 ( 2623 ) ( ضعیف ) » ( سماک بن حرب کے حفظ میں آخری عمر میں تبدیلی واقع ہو گئی تھی ، اور کبھی رایوں کی تلقین قبول کر لیتے تھے اس لئے ضعیف ہیں ، نیز ملاحظہ ہو : الإرواء : 132 )
قال الشيخ زبير علي زئي:
حسن
بلوغ المرام
670
لا بأس أن تأخذها بسعر يومها ما لم تتفرقا وبينكما شيء
«أخرجه أبوداود، البيوع، باب في اقتضاء الذهب من الورق، حديث:3354، والترمذي، البيوع، حديث:1242، والنسائي، البيوع، حديث:4586، وابن ماجه، التجارات، حديث: 2262، وأحمد:2 /139، والحاكم:2 /44.»