🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51. باب : اقتضاء الذهب من الورق والورق من الذهب
باب: چاندی کے بدلے سونا اور سونے کے بدلے چاندی لینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2262
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ ، وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْحِمَّانِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، أَوْ سِمَاكٌ ، وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا سِمَاكًا، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ فَكُنْتُ آخُذُ الذَّهَبَ مِنَ الْفِضَّةِ وَالْفِضَّةَ مِنَ الذَّهَبِ، وَالدَّنَانِيرَ مِنَ الدَّرَاهِمِ وَالدَّرَاهِمَ مِنَ الدَّنَانِيرِ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ:" إِذَا أَخَذْتَ أَحَدَهُمَا وَأَعْطَيْتَ الْآخَرَ، فَلَا تُفَارِقْ صَاحِبَكَ وَبَيْنَكَ وَبَيْنَهُ لَبْسٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اونٹ بیچا کرتا تھا، تو میں چاندی (جو قیمت میں ٹھہرتی) کے بدلے سونا لے لیتا، اور سونا (جو قیمت میں ٹھہرتا) کے بدلے چاندی لے لیتا، اور دینار درہم کے بدلے، اور درہم دینار کے بدلے لے لیتا تھا، پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں پوچھا کہ ایسا کرنا کیسا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم دونوں میں سے ایک لے لو اور دوسرا دیدے تو اپنے ساتھی سے اس وقت تک جدا نہ ہو جب تک کہ حساب صاف نہ ہو جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2262]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں اونٹ بیچا کرتا تھا۔ میں چاندی کے بدلے میں سونا، سونے کے بدلے میں چاندی، درہموں کے بدلے میں دینار اور دیناروں کے بدلے میں درہم لے لیا کرتا تھا، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ایک چیز لے اور دوسری دے تو اپنے ساتھی سے جدا نہ ہو جب تک معاملہ صاف نہ ہو جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2262]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/البیوع 14 (3354، 3355)، سنن الترمذی/البیوع 24 (1242)، سنن النسائی/البیوع 48 (4586)، (تحفة الأشراف: 7053)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/33، 59، 89، 101، 139، 154)، سنن الدارمی/البیوع 43 (2623) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سماک بن حرب کے حفظ میں آخری عمر میں تبدیلی واقع ہو گئی تھی، اور کبھی رایوں کی تلقین قبول کر لیتے تھے اس لئے ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 132)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة
Newسماك بن حرب الذهلي ← سعيد بن جبير الأسدي
صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة
👤←👥عطاء بن السائب الثقفي، أبو محمد، أبو السائب، أبو زيد
Newعطاء بن السائب الثقفي ← سماك بن حرب الذهلي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عمر بن عبيد الطنافسي، أبو حفص
Newعمر بن عبيد الطنافسي ← عطاء بن السائب الثقفي
ثقة
👤←👥محمد بن عبيد الحماني
Newمحمد بن عبيد الحماني ← عمر بن عبيد الطنافسي
مقبول
👤←👥سفيان بن وكيع الرؤاسي، أبو محمد
Newسفيان بن وكيع الرؤاسي ← محمد بن عبيد الحماني
مقبول
👤←👥إسحاق بن إبراهيم الشهيدي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن إبراهيم الشهيدي ← سفيان بن وكيع الرؤاسي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1242
لا بأس به بالقيمة
سنن أبي داود
3354
لا بأس أن تأخذها بسعر يومها ما لم تفترقا وبينكما شيء
سنن ابن ماجه
2262
إذا أخذت أحدهما وأعطيت الآخر فلا تفارق صاحبك وبينك وبينه لبس
بلوغ المرام
670
لا بأس أن تأخذها بسعر يومها ما لم تتفرقا وبينكما شيء
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2262 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2262
اردو حاشہ:
فائدہ:
حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ کسی چیز کا سودا دیناروں سے طے ہوا تھا، خریدار نے اس روز کی شرح تبادلہ کے مطابق اتنے دیناروں کے درہم ادا کر دیے تو یہ جائز ہے جبکہ ادائیگی اسی مجلس میں کر دی جائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2262]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 670
بیع کی شرائط اور بیع ممنوعہ کی اقسام
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہی روایت ہے کہ میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول! میں بقیع میں اونٹوں کی تجارت کرتا ہوں۔ دینار میں فروخت کر کے درہم وصول کرتا ہوں اور (کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ) میں فروخت تو درہم میں کرتا ہوں اور دینار وصول کرتا ہوں (یعنی) دینار کے بدلے میں درہم اور درہم کے بدلے میں دینار لیتا ہوں۔ اس کے عوض وہ لیتا ہوں اور اس کے بدلے میں یہ دیتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اسی روز کے بھاؤ سے ان کا تبادلہ کر لو اور خرید و فروخت کرنے والوں کے ایک دوسرے سے جدا ہونے سے پہلے رقم کا کوئی حصہ کسی کے ذمہ باقی نہ رہے تو جائز ہے۔ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور حاکم نے صحیح کہا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 670»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، البيوع، باب في اقتضاء الذهب من الورق، حديث:3354، والترمذي، البيوع، حديث:1242، والنسائي، البيوع، حديث:4586، وابن ماجه، التجارات، حديث: 2262، وأحمد:2 /139، والحاكم:2 /44.»
تشریح:
یہ حدیث اس کی دلیل ہے کہ سونے چاندی کا تبادلہ اس صورت میں جائز ہے جبکہ دست بدست ہو اور پوری ادائیگی موقع پر ہو‘ ادھار نہ ہو۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 670]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3354
چاندی کے بدلے سونا لینا کیسا ہے؟
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں بقیع میں اونٹ بیچا کرتا تھا، تو میں (اسے) دینار سے بیچتا تھا اور اس کے بدلے درہم لیتا تھا اور درہم سے بیچتا تھا اور اس کے بدلے دینار لیتا تھا، میں اسے اس کے بدلے میں اور اسے اس کے بدلے میں الٹ پلٹ کر لیتا دیتا تھا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تھے، میں نے کہا: اللہ کے رسول! ذرا سا میری عرض سن لیجئے: میں آپ سے پوچھتا ہوں: میں بقیع میں اونٹ بیچتا ہوں تو دینار سے بیچتا ہوں اور اس کے بدلے درہم لیتا ہوں اور درہم سے بیچتا ہوں اور دینار لیتا ہوں، ی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3354]
فوائد ومسائل:
اس سے فائدہ ہوا کہ مختلف کرنسیوں کا تبادلہ کمی بیشی کے ساتھ جائز ہے۔
لیکن لازم ہے کہ بازار میں جاری اس روز کے نرخ سے ہو اور لین دین نقد ہو ادھار نہ ہو۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3354]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1242
صرف کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں بقیع کے بازار میں اونٹ بیچا کرتا تھا، میں دیناروں سے بیچتا تھا، اس کے بدلے چاندی لیتا تھا، اور چاندی سے بیچتا تھا اور اس کے بدلے دینار لیتا تھا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ حفصہ رضی الله عنہا کے گھر سے نکل رہے ہیں تو میں نے آپ سے اس کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا: قیمت کے ساتھ ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1242]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(اس کے راوی سماک اخیر عمر میں مختلط ہوگئے تھے اور تلقین کو قبول کرتے تھے،
ان کے ثقہ ساتھیوں نے اس کو ابن عمر رضی اللہ عنہما پر موقوف کیا ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1242]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2262M
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاق ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی طرح مرفوعاً مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2262M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ماقبلہ (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة
Newسماك بن حرب الذهلي ← سعيد بن جبير الأسدي
صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← سماك بن حرب الذهلي
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥يعقوب بن إسحاق الحضرمي، أبو محمد
Newيعقوب بن إسحاق الحضرمي ← حماد بن سلمة البصري
صدوق حسن الحديث
👤←👥يحيى بن حكيم المقوم، أبو سعيد
Newيحيى بن حكيم المقوم ← يعقوب بن إسحاق الحضرمي
ثقة حافظ مصنف
Sunan Ibn Majah Hadith 2262 in Urdu