🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذی حدیث نمبر 3406 کی تخریج
تخریج میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
کتاب
تخریج
جامع الترمذي
2921
يقرأ المسبحات قبل أن يرقد ويقول إن فيهن آية خير من ألف آية
«سنن ابی داود/ الأدب 107 (5057) ( تحفة الأشراف : 9888) (ضعیف) (سند میں بقیة بن الولید مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز عبد اللہ بن أبی بلال الخزاعی الشامی مقبول عندالمتابعہ ہیں، اور ان کا کوئی متابع نہیں اس لیے ضعیف ہیں)»
جامع الترمذي
3406
يقرأ المسبحات ويقول فيها آية خير من ألف آية
«انظر حدیث رقم 2921 (ضعیف) (سند میں بقیة بن الولید مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز عبد اللہ بن أبی بلال الخزاعی الشامی مقبول عندالمتابعہ ہیں، اور ان کا کوئی متابع نہیں اس لیے ضعیف ہیں، البانی صاحب نے صحیح الترمذی میں پہلی جگہ ضعیف الإسناد لکھا ہے، اور دوسری جگہ حسن جب کہ ضعیف الترغیب (344) میں اسے ضعیف کہا ہے)»
سنن أبي داود
5057
يقرأ المسبحات قبل أن يرقد وقال إن فيهن آية أفضل من ألف آية
« سنن الترمذی/الدعوات 22 (3409)، (تحفة الأشراف: 9888)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/128) (ضعیف) » (اس کے رواة بقیہ اور ابن ابی بلال ضعیف ہیں)
قال الشيخ زبير علي زئي:
حسن¤ مشكوة المصابيح (2151)¤ أخرجه الترمذي (2921) رواية بقية عن بھير صحيح سواء صرح بالسماع أم لا، وابن أبي بلال حسن الحديث